Video Widget

« »
فرزانہ جڑانوالہ لاہور پولیس پاکستان شریعت اینٹیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فرزانہ جڑانوالہ لاہور پولیس پاکستان شریعت اینٹیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 3 جون، 2014

کیا وہ انسان نہ تھی؟

فرزانہ سو گئی، حکمراں، نام نہاد سول سوسایٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں، سب جگ اٹھے. اب مقتولہ کو فراھمی انصاف کیلئے عدالت سجے گی، ممکن ہے ملزمان کو سزا بھی ہو جائے. اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو کیا انصاف ہو جائے گا؟




 عورت.... لطافت حساسیت اور محبت سے بڑھ کر وجود انسانیت کا سرچشمہ، جسکے وجود سے کائنات کے رنگ ہیں، مگر کیا کیا جائے کہ محبت کی اسی کمزوری کو مرد نے عورت کے استحصال کیلئے استعمال کیا اور صدیوں سے عورت مرد کے جبر کا شکار ہوتی آرہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ صدیوں پہلے یہ صنف نازک فاتحین کے محلات کے حرم آباد کرنے پر لاچار رہی، موت چاہتے ہوئے بھی شاہوں کی محفلوں میں رقص کرتی رہی اور آج بھی مرد کی انا کی بھینٹ چڑھ رہی ہے. کبھی مظفر گڑھ کی آمنہ  کی صورت میں معاشرتی بے حسی کی وجہ سے زندہ جلنے پر مجبور ہے تو کہیں " ونی " ہوکر ایک ہی رات میں نجانے کتنے مردوں کی بیوی بننے پر بے بس.

 مردوں کا یہ معاشرہ اسکے دل کی آواز تو دور کی بات چیخ و پکار سننے پر بھی آمادہ نہیں. کبھی بھائی غیرت کے نام پر اسکی جان لیکر اتراتا ہوا پولیس اسٹیشن پیش ہو جاتا ہے تو کبھی اسکو جنم دینے والا باپ معاشرتی انا کی ونی چڑھا کر برادری میں اپنا شملہ اونچا رکھنے کو ترجیح دیتا ہے. جب ماں باپ ہی اپنی لاڈلی کو سماج کی قربان گاہ میں کھینچ لائیں تو وہ کس سے فریاد کرے؟

 کہتے ہیں ریاست رعایا کی ماں ہوتی ہے، افسوس ہماری تو ریاست بھی آمنہ اور ایسی ہزاروں کی جان جانے  کے بعد اتنی سی حرکت میں آتی ہے کہ  تھانے کے اہلکاروں کو معطل کر دیا، ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کی تسلی دی اور قصہ ختم. اب انصاف کیلئے منصف کار ہی بچتا ہے جو وہی دیکھتا اور وہی سنتا ہے جو ریاست یا کالے کوٹ والے اسکو سناتے ہیں. پھر گواہوں، ثبوتوں کا دور چلتا ہے. لاچار و بے بس کے خون سے اسکے اپنوں ہی کے ہاتھ لہولہان ہوں تو اس کیلئے کون گواہی دے گا؟

 سراہ سنگسار کی جانے والی فرزانہ کو بھی اسکے ماں باپ بہن  بھائیوں نے اسی دن کیلئے جوان کیا تھا، مگر اسے پتہ نہیں کیوں اور کیسے یہ بدگمانی ہوئی کہ وہ عورت نہیں انسان ہے. نجانے اسنے اپنے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل کی آواز کیسے سن لی تھی. اسکو یہ یقین کیونکر ہو گیا کہ جس پیٹ سے اسنے جنم لیا اور جس سینے پر بیٹھ کر کھیلتے ہوئے وہ جوان ہوئی، جن بھائیوں نے اسکے ناز اٹھائے وہ اس سے زیادہ اپنے معاشرے رسم و رواج سے محبّت کرتے ہیں. جب اپنے  غیر ہوئے تو فرزانہ نے منصف سے امید باندھی. یہی امید اسکو عدالت تک لائی مگر فرزانہ کو جان دیکر پتہ چلا جن پر اسے تکیہ تھا وہ تو  خود قانون اصول اور سسٹم تھے.  اگر ایسا نہ ہوتا تو منصف کے در پر جب اسکو سنگسار کیا رہا تھا تو اسکی کوئی ایک چیخ تو منصف تک پہنچتی. قاضی تو دعوے کا محتاج  سہی، قانون کے محافظوں کو سانپ سونگھ گیا تھا کہ وہ سب پتھر ہو گئے اور انہی پتھروں سے اسکے بھائی اور باپ اسے سنگسار کرتے رہے.

فرزانہ سو گئی تو قانون، حکمراں، نام نہاد سول  سوسائتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں، سب جاگ اٹھے. اب مقتولہ کو فراہمی انصاف کیلئے  عدالت سجے گی، ممکن ہے ممکن ہے ملزمان کو  سزا بھی ہو جائے. اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو کیا  انصاف ہو جائے گا؟ فرزانہ کے باپ اور بھائیوں کو سزا اقبال کی بیوی فرزانہ کے خون کا حساب تو ہو سکتا ہے مگر بنت حوا سے انصاف ہرگز نہ ہوگا، کیونکہ قانون ملزمان کو تو گرفتار اور منصف مجرموں کو سزا تو دے سکتا ہے، لیکن کیا اسمیں اس قاتل سوچ کا کوئی قصور نہیں جو اپنی جان سے عزیز بہن بیٹی کو قتل کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ کیا یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ مجرم ہاتھوں کو سزا کے ساتھ ساتھ اس قاتل سوچ کو بھی دفن کیا جائے جو ہر سال ایک ہزار سے زائد بیگناہوں کو موت بانٹ  رہی ہے ؟ لیکن اس  سوچ کی ظلمت کے خاتمہ کیلئے تو شعور کے نور کی کی ضرورت ہو گی،جو عورت کو انسان تسلیم کرے اور اسے رشتوں کی ایسی محبت کی قید سے آزاد کروائے جو اس کی موت کی وجہ بن رہے ہیں. اس کٹھن کام کیلئے علما کو نوربصیرت کا درس دینا ہو گا، ریاست ماں بن کر بیٹی کے وجود کو تسلیم کرے اور شعور کی بیداری کا ذمہ لے، تب ہی اس قاتل سوچ کا خاتمہ ممکن ہو گا.

 (ذولفقار چودھری )    ڈیلی خبریں


پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

اتوار، 1 جون، 2014

پاکستان میں بنت حوا کی تذلیل کیوں؟

 فرزانہ کتنی بیوقوف تھی جو یہ سمجھ بیٹھی کہ لوگ اسکی مدد کو آئیں گے. آخری سانس تک وہ اتنی سی بات نہ سمجھ سکی کہ جن لوگوں سے وہ مدد کی بھیک مانگ رہی ہے وہ بھی اسی سماج کا حصّہ ہیں جہاں کسی کی لاچاری کا تماشا تو دیکھا جا سکتا ہے لیکن بے بس کی مدد کیلئے کوئی ہاتھ نہیں بڑھاتا



فرزانہ  بھری سڑک پر دن دیہاڑے انصاف کی چوکھٹ کے عین سامنے سنگسار کر دی گئی لیکن کوئی ہاتھ ان ظالموں کو روکنے کو آگے نہ بڑھا. موت کا یہ شرمناک کھیل دیکھ کر سماج کے کسی ٹھیکیدار کی غیرت نہ جاگی. حتی کہ جنکا کام ہی لوگوں کی حفاظت کرنا ہے وہ بھی پتھرکے بت  بنے سب دیکھتے رہے. عورت ذات تھی نا اسلئے کم عقل تھی. وہ کیا جانتی کہ جن کے آگے اپنی جان بچانے کیلئے گڑ گڑا رہی ہے یہ وہ ہی سماج کے ٹھیکیدار ہیں جنھوں نے کاری جیسی مکروہ رسم بنائی ہے. وہ کیوں آتے اسکی مدد کو یہ انہی کا تو طفیل ہے کا فرزانہ اور اسکے ہونے والے بچے کو قتل کر دیا گیا

فرزانہ کیا تو نہیں جانتی تھی کہ یہاں ایک چھوٹی بچی کو "ونی " کے نام پر اپنے سے کئی گنا  بڑی عمر کے مرد سے تو بیاہا جا سکتا ہے لیکن ایک جوان بالغ لڑکی کو اپنی پسند کا جیون ساتھی چننے کا اختیار نہیں ہے. اسے یہ حق نہیں ہے کہ اپنے لئے خوشیوں کے خواب بنے فرزانہ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ وہ اس تنگ نظر سماج کے عتاب سے بچ جائے گی؟ فرزانہ کا مقدر ان ہزاروں لڑکیوں سے مختلف کیونکر ہو سکتا تھا  جو ہر سال " غیرت "  کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں ؟

فرزانہ اس ملک پاکستان کی باسی تھی جہاں ایک مرد اپنے گھر کی عورت کو بیچ چوراہے پر مار مار کر  لہو لہان بھی کر دے تو کوئی مائی کا لال اسے نہیں روکے گا. ہاں ایک  شادی شدہ جوڑا کسی پارک میں بیٹھا نظر آجائے تو غیرت بریگیڈ  ہاتھوں میں کیمرے سنبھالے بغل میں مائیک دبائے سوال جواب کرنے انکے سر پر ضرور پہنچ جائے گی. آخر کو " غیرت ' کا معاملہ ہے، کتنی بھولی تھی فرزانہ یہ   نہ سمجھ پائی کہ وہ ایک انسان نہیں بلکہ اپنے باپ بھائی چاچو اور ماموں کی ملکیت ہے اسے کوئی حق نہ تھا جینے کا نا ہی آزادی کا. وہ بدنصیب تو دنیا میں آئ بھی انہی کی مرضی سے تھی اور گئی بھی انہیں کی مرضی سے. بدنصیب خود تو مر گئی. قاتل زندہ ہیں. جو بھاگ سکتے تھے وہ بھاگ گئے جو پکڑے گئے وہ  معمولی سزا کے بعد چھوٹ جائیں گے. فرزانہ کو اس دنیا میں انصاف نہیں ملا اب موت کے بعد اسکی روح بھی انصاف کیلئے بھٹکتی رہئے گی.

جب تک اس ملک پاکستان کے بے حس لوگ خاموش  تماشائی بنے رہیں گے اسطرح بہو بیٹیاں غیرت کی صلیب پر چڑھائی جائیں گی اور مکروہ قاتل اسطرح سینہ چوڑا کیے دندناتے پھریں گے. جب تک اس غیرت کے خناس اور عورت  کی ملکیت کے تصور کو ان مریض ذہنوں سے نکالا نہیں جائے گا، یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا. پاک لوگوں کی اس سرزمین پر جبتک انصاف آنکھوں پر پٹی باندھے، کانوں میں انگلیاں ٹھونسے، لبوں پر تالے لگائے ایک بت کی مانند تماشا دیکھتا رہے  گا، اسکی چوکھٹ پر بیٹیاں یوں ہی سنگسار ہوتی رہیں گی


پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

ہفتہ، 31 مئی، 2014

ایک عورت ایک کہانی

 جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کو لاہور ہائی کورٹ کے باہر پولیس کی موجودگی میں اسکے ناراض والدین نے ساتھیوں سمیت  سنگسار کر دیا اور فرار ہو گئے. اقوام متحدہ سے لے کر دنیا کے کئی ممالک نے اس اندوہناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جسکے بعد وزیراعظم نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرکے معاملے میں حکومتی دلچسپی کا ثبوت فراہم کردیا. اسکے بعد کیا ہو گا پاکستان میں پولیس تفتیش، سیاسی دباؤ اور آخر میں عدالتی فیصلوں کے منطقی انجام کے بارے میں آسانی کے ساتھ رائے قائم کی جا سکتی ہے


 آخری ہچکی لینے سے قبل فرزانہ اقبال نے اپنے اردگرد جمع ہوتے لوگوں کو دیکھا جو مجمع کی شکل اختیار کر رہے تھے. آنکھوں کی مدھم ہوتی  روشنی میں اس ہجوم کو دیکھا جو اس کی زندگی بچانے کیلئے تو ایک نہ ہو سکا اور اب اسکی موت کا تماشا  دیکھنے کیلئے دھکم پیل کر رہا تھا. وردی میں ملبوس اسلحے سے لیس ان محافظوں کو دیکھا جن میں کوئی ایک بھی ایسا جواں مرد نہ تھا جو اپنے فرض کی پکار پر قاتلوں کو للکارتا.  اب یہ سب ایک زندگی کو لاش بنتے دیکھنے کے عمل میں کیسے پرجوش تماشائی تھے. اسکی گردن ایک طرف ڈھلک رہی تھی اور صرف خدا جانتا ہے کہ اس لمحے " غیرت مندوں " کے اس معاشرے میں کتنوں نے مرتی ہوئی اس بےبس عورت کی آنکھوں  میں لکھے اس پیغام کو سمجھنے میں کامیابی حاصل کی تھی جو کچھ یوں تھا کہ ......
" سنو موت کسی کے مارنے سے نہیں آتی، بیماری سے نہیں آتی، حادثے سے نہیں آتی، بڑھاپے سے نہیں آتی، موت تو بے حسی سے آتی ہے، ضمیر کے مرنے سے آتی ہے- فرزانہ نہیں اسوقت تم سب لاشیں ہو، چلتی پھرتی زندہ  لاشیں"-

 یہ صرف ایک فرزانہ کی کہانی نہیں یہاں تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی عورت کو غیرت کے نام پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، ظلم کی کہانیاں یہاں کچھ زیادہ اجنبی نہیں- اسی غیرت کے نام پر کہیں عورت کو قتل کیا جا رہا ہے تو کہیں اسکی عصمت دری کی جا رہی ہے . ایسے واقعات کو جس قدر سرسری انداز سے ہمارے ہاں لیا جاتا ہے، ایسا کہیں نہیں ہوتا لیکن شائد  اس ملک میں کوئی ظلم اب ظلم نہیں رہ گیا.

فرزانہ اقبال نے جو جرم کیا وہ خاندانی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے  پسند  کی شادی تھا. وہ سمھجتی تھی کہ عاقل بالغ ہونے  کے ناطے اپنی پسند کے لڑکے سے نکاح کرنا اسکا مذہبی اور قانونی حق ہے. اسی خوش گمانی کے سہارے نڈر ہوکر انصاف کیلئے عدالت عالیہ کی دہلیز تک  آن پہنچی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ اس معاشرے میں پسند کی شادی ایک ایسا جرم ہے جس میں خاندان کا کوئی بھی مرد خود ہی منصف بن جاتا ہے اور عورت کو سزا دینے کا فیصلہ سنا سکتا ہے.

 یہاں تو منصف  ایک نہیں درجنوں تھے جو عدالت عالیہ میں اسکے قدم رکھنے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ  سنانے ہاتھ میں اینٹیں اٹھائے دیوانہ وار اسکی طرف دوڑے چلے آرہے  تھے. " مجرم " نے اپنے خاندان کی مرضی کے برعکس پسند کی شادی کرکے اپنے خاندان کی " بےعزتی " کی تھی. " بے عزتی " کا یہ تصور ہی ایک اپاہج اور مفلوج سوچ ہے. ممکن ہے کہ وہ اپنے انتخاب میں غلط ہو اور خاندان کے دیگر افراد اقبال نامی لڑکے کو اسکے لئے موزوں خیال نہ کرتے ہوں لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ اسکی جان ہی لے لی جاتی. جب بات غیرت کی ہو تو ذہنوں میں عموما شادی سے قبل تعلق کا خیال ابھرتا ہے لیکن فرزانہ اقبال کے درجنوں خود ساختہ منصف تو ہاتھ میں جس طرح اینٹیں اٹھائے بھاگے چلے آرہے تھے اس سے ان کا یہ پیغام واضح تھا کہ اس معاشرے میں یہ بھی ناقابل معافی جرم ہے کہ  عورت کسی ایسے لڑکے سے شادی کرے جو خاندان کی پسند نہ ہو

بہت سے لوگوں کے نزدیک شریعت کا مطلب محض ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے اور عورتوں پر جبر ہے لیکن وہ اس طرف دھیان دینا پسند نہیں کرتے کہ ان سزاؤں کے نفاذ کیلئے شہادت کا معیار کتنا سخت رکھا گیا ہے. وہ یہ بھی بهول جاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کے حقوق کیا ہیں. انہیں یہ نظر آنا بھی بند ہو جاتا ہے کہ یہ اسلام ہی ہے جس نے اسلامی قوانین کی شکل میں ساری دنیا کے سامنے سب سے زیادہ واضح ، مدلل، روشن خیال اور شائستہ اصول پیش کئے جنکی روح کو سمھجنے کی ضرورت ہے. یہ نہیں کہ اپنی مرضی کے لفظ اٹھائے اور اسلام کی خدمت کرنے چلے نکلے. کسی دانا کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاشرے کا تجزیہ کرنا مقصود ہو تو وہاں کی عورت کی سماجی حیثیت دیکھ لو.  اس قول کی روشنی میں سڑک پر فرزانہ کی لہو میں لتھڑی لاش کو دیکھتے ہوئے آپ اپنے معاشرے کا خاکہ خود بنا لیجئے.

 ایک عاقل بالغ بیاہی حاملہ عورت کو سنگسار کرنا اور اسکے قتل کو " قتل برائے غیرت " کا نام دینا ہی لفظ " غیرت " کی توہین ہے. سانحہ ہو جانے کے بعد وزیراعظم کی طرف سے نوٹس لئے جانے سے کیا آئندہ ایسے خوفناک واقعیات کی روک تھام ہو جائے گی؟ اسکا جواب یقینا " نہیں " ہے کیونکہ جب تک قانون کو مضبوط کرنے اور اس پر سختی سے عمل کروانے کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی اسطرح کے سانحات ہوتے رہیں گے. فرزانہ کو موت کے گھاٹ اتارنے والے قاتلوں کے سامنے پولیس کی خاموشی ہی گویا " ریاست کی واضح منظوری ہے "  اور عورتوں کیلئے پیغام کہ ایک عورت کو خاموشی سے سب کچھ  برداشت کر لینا چاہیے خواہ یہ " غیرت مندوں " کی طرف سے مسلط موت ہی کیوں ناں ہو.


 ( زیبا نورین )

اوریجنل لنک پر پڑھنے کیلیے یہاں کلک کریں..... ڈیلی وقت

پڑھنے کا شکریہ