Video Widget

« »

جمعہ، 13 جون، 2014

دہشت گردی، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

کراچی ائیرپورٹ پر دہشتگرد حملے اور تفتان بلوچستان میں اہل تشیع  لوگوں کا وحشیانہ قتل عام اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ طالبان امن اور نہ ہی مذاکرات کے حامی ہیں


 پاکستان کی تاریخ میں 8 جون کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جس  روز طالبان دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ پاکستانی ریاست پر حکومت کا کنٹرول عملا ختم ہو چکا ہے اور درجن بھر بندوق بردار جب چاہیں تباہی مچا سکتے ہیں. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ فوج رینجرز اور پولیس نے کراچی اور کوئٹہ میں بڑی بہادری کے  ساتھ  دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا تاہم اتنی بڑی فوج،  رینجرز  پولیس اور ایجنسیوں کے باوجود دہشت گردوں کا جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچ کر کامیابی سے اپنی کاروائیوں کو تکمیل تک پہنچنانا اس بات کو عیاں کرتا ہے  کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی توجہ اپنے اصل کام  کی طرف نہیں ہے حالانکہ واقعہ کے روز پاکستان کے تمام ائرپورٹس ریڈ الرٹ تھے، اسی طرح شیعہ زائرین پر حملے کی وارننگ بھی موجود تھی لیکن اسکے باوجود یہ وحشت ناک واقعات پیش آئے. ہمارا مقصد اپنے اداروں  پر الزام تراشی نہیں بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ ہمیں ایسے واقعات کا قبل از وقت سدباب کرنا چاہئے.

طالبان پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے مقاصد سے کاروائیاں کرتے ہیں اس سے قبل انہوں نے قذافی  اسٹیڈیم کے باہر سری لنکا  کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا جسکے نتیجہ میں پاکستان عالمی سطح پر کرکٹ میں تنہا رہ گیا. بعد ازاں انکا ہدف کوہ پیما بنے، انکی ہلاکتوں کے بعد پاکستان میں کوہ پیمائی کی سیاحت ختم ہو گئی ار اب کراچی حملے کا مقصد پاکستان میں عالمی فضائی کمپنیوں کی آمد کا راستہ روکنا اور بین الاقوامی سرمایاکاری کا دروازہ بند کرنا ہے، لیکن یہی بات وفاقی حکومت کو سمجھ نہیں آرہی تا ہم وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے اس بیان سے کہ اب پوائنٹ  اسکورنگ کا وقت نہیں بلکہ حکومت اور فوج کے ایک پیچ پر ہونے کی ضرورت ہے. انکے اس بیان سے یہ عقدہ کھل کر سامنے آگیا کہ حکومت اور فوج اس نازک وقت میں بھی ایک پیچ پر نہیں ہیں حالانکہ وفاقی وزراء بشمول پرویز رشید اور خواجہ آصف ہر روز یہ راگنی الاپ  رہے تھے کہ فوج اور حکومت  ایک پیچ پر ہیں. دوسری طرف طالبان کے کھلے اعلان جنگ کے بعد پاکستان کو بھارت سے زیادہ طالبان سے خطرات لاحق ہیں. بھارت ہمارا ایک کھلا دشمن ہے اور اس سے ہمیں فوری جنگ کا  کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ طالبان ایک ایسا  جنگجو گروپ ہے جو ہمارے تمام بڑے شہروں میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنا چکا ہے. بیرونی جارحیت کے خلاف تو ہماری قوم ہمیشہ ہی متحد رہی ہے . لیکن آج ہماری ریاست کو  بیرونی سے زیادہ اندورونی خطرات لاحق ہیں.

ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجودہ تمام سیاسی جماعتیں مسلح افواج اور پوری قوم ہمارے اندر چھپے ہوئے اس دشمن کے خاتمہ کیلئے متحد ہو جائے اور اگر ہم متحد نہ ہوئے تو ہماری ریاست کا نقشہ اور نظام سب کچھ بدل جائے گا، اور یہی بات تحریک انصاف اور  جماعت اسلامی کو بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے. گزشتہ روز تحریک انصاف  کی کور کمیٹی نے اپنے فیصلوں میں مذاکرات اور آپشنز کو کھلے رکھنے پر زور دیا جبکہ تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی جیسے زیرک شخص کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے .  کیا انہیں ہر روز معصوم بے گناہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے افسروں اور  جوانوں کا لہو سڑکوں پر بہتا نظر نہیں آرہا. کراچی حملہ جس میں 32 سے زائد اے ایس ایف سمیت رینجرز اور پولیس کے جوان معصوم شہری شہید ہوئے اور کوئٹہ حملہ جس میں بچوں، خواتین سمیت 30 افراد  کا ناحق خون بہایا گیا جیسی دہشتناک کاروائیوں کے باوجود بھی جاوید ہاشمی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا امن کے قیام کا واحد حل قرار دیتے ہیں. تحریک انصاف کو اب اپنے اس نظریہ ضرورت پر نظر ثانی کرنا ہو گی اور کے پی کے کی حکومت کی وجہ سے طاری خوف سے باہر نکلنا ہو گا کیونکہ طالبان قیادت کا کھلا اعلان جنگ پاکستان کی ریاست ، اداروں اور پاکستانی عوام کے خلاف ہے. عمران خان کو اگر اپنی سیاست اور ریاست کو بچانا ہے تو انہیں اس مصلحت پسندی سے باہر نکلنا ہو گا. امید کی جا سکتی ہے کہ وفاقی حکومت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں مسلح افواج کو اعتماد میں لیکر ملک کو اس شورش سے پاک کرنے کیلئے کسی فیصلہ کن نتیجہ پر پہنچ جائے.


 سید ممتاز شاہ


پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں