Video Widget

« »

جمعہ، 4 جولائی، 2014

ISIS: The rise of Sunni radicalism





 Saudi Arabia itself faces the very real risk of disintegrating, because, in the long run, the situation in Saudi Arabia is unmanageable for the Saudi dynasty. Jordan is of course a state that has long been a candidate for disappearance and it will do that eventually. Syria and Iraq have already disappeared as states. And Turkey faces a huge risk that it will lose part of its Kurdish areas, as a result of the emergence of independent Kurdistan. And of course, Turkey will also feel the effects of the rise of Sunni radicalism.




پڑھنے کا شکریہاپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

جمعرات، 3 جولائی، 2014

آخر یہ ISIS ہے کیا؟

آئی ایس آئی ایس نے یوں تو القاعدہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، مگر تشدد بے رحمی اور بربریت کے معاملے میں القاعدہ کو بونا بنا دیا ہے.


اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا جہادیوں کی تنظیم نہیں کوئی گروپ نہیں کوئی گینگ نہیں بلکہ یہ ایک  حکومت کا نام ہے ایک فوج کا نام ہے اور ایک خوفناک موت کا نام ہے جو مذہبی نظریات کیلئے دل دماغ پر قبضہ  کے ساتھ ایک ایسی سر زمین کا طلب گار ہے جہاں اسلامی حکومت ہو اور نئے دور خلافت کا آغاز ہو.

آئی ایس آئی ایس نے شام سے لیکر عراق تک فوجی پیش قدمی کرکے ایسا قدم اٹھایا ہے، جس کیلئے اب تک بڑے بڑے جہادی بشمول اسامہ بن لادن نعرے بلند کرتے تھے یعنی ایک اسلامی ملک اور خلافت. آئی ایس آئی ایس نے یوں تو القاعدہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، مگر تشدو، بے رحمی اور بربریت کے معاملے میں القاعدہ کو بونا بنا دیا ہے. جنگ عراق کے بعد اردن نژاد جہادی الزرقاوی نے عراق ان القاعدہ کا پرچم لہرایا، تو  عراق میں القاعدہ کا وجود ہوا. زرقاوی کے مسلکی تشدد بھڑکانے پر اسامہ نے اعتراض کیا اور زرقاوی کو حکمت عملی تبدیل کرنے کا مشورہ دیا، تو زرقاوی نے اسامہ کو نظرانداز کردیا تھا. جون 2006 میں  زرقاوی کی ہلاکت کے بعد عراق میں القاعدہ کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا، مگر 2010 میں ابوبکر البغدادی نے القاعدہ کا پرچم اٹھایا، بلکہ اپنا دائرہ کار عراق سے شام تک کر لیا، جسکے سبب تنظیم کا نام اسٹیٹ ان عراق اینڈ سریا ہوا، لیکن زرقاوی کی طرح البغدادی نے بھی تشدد اور بربریت پر القاعدہ کی ہدایت کو نظرانداز کیا، بلکہ موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کو یہ کہہ کر آئینہ دکھادیا کہ آئی ایس آئی ایس دراصل اسامہ بن لادن کے اسلامی ملک اور خلافت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے مشن میں لگی ہوئی ہے. جبکہ القاعدہ کی قیادت جہادیوں میں پھوٹ ڈال رہی ہے. یہ ہیں تیور اور مزاج آئی ایس آئی ایس کے، جس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا پسند نہیں کیا ہے، اسلئے القاعدہ کی " ذرا آہستہ " کم تشدد اور قتل عام پر لگام کے مشوروں کو درکنار کرکے آئی ایس آئی ایس نے آج خود  کو دنیا کی سب سے بڑی جہادی طاقت بنا دیا ہے جسکے حوصلے سے القاعدہ پسینہ پسینہ ہے جس کی بربریت سے القاعدہ پر  کپکپی ہے، جس کے عزائم سے القاعدہ نروس ہے.


 زرقاوی کا ظہور


جنگ عراق کے بعد جب سنی جہاد کا آغاز ہوا، تو اس میں سب سے بڑا نام تھا الزرقاوی... زرقاوی نے 17 اکتوبر 2004 کو القاعدہ کے سربراہ  اسامہ بن لادن کے نام ایک پیغام جاری کیا تھا.


 " خدا کی قسم ! جہادیوں کے جہادی، اگر آپ ہمیں سمندر میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں گے تو ہم ایسا ہی کریں گے. ہم آپ کے حکم کے غلام رہیں گے. آپ حکم کریں، ہم اسکی تعمیل کریں گے."


 اسکے ساتھ ہی زرقاوی کی تنظیم القاعدہ ان عراق کے نام سے ابھری، جس نے خوفناک بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے سبب امریکی فوج کو ہلا دیا. سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار بروس ری ڈیل کے مطابق زرقاوی نے عراق میں القاعدہ کی کمان سنبھالتے ہی بے پناہ ذہانت کا مظاہرہ کیا، وہ بھی حکمت ساز تھا. اس نے شیعوں پر حملے کئے اور تشدد کی لہر پیدا  کر دی. مقصد تھا شیعہ جوابی حملے شروع کریں اور پھر القاعدہ سنیوں کا تحفظ کرنے کیلئے مورچہ سنبھالے، ایسا ہی ہوا. عراق تین  سال تک خوفناک مسلکی تشدد کی آگ میں جلا اور القاعدہ کیلئے جہادیوں کا لشکر تیار ہو گیا. جب سامرت کی سنہری مسجد پر بم دھماکہ ہوا، تو مسلکی تشدد 2006 میں  انتہا پر تھا. زرقاوی نے امریکی فوج کے ساتھ عراقی سیکورٹی میں خوف پیدا کردیا تھا. زرقاوی  نے تشدد کی ایسی لہر پیدا کی کہ سنی قبائلی زرقاوی کے کھل خلاف ہو گئے، مگر اردن نژاد زرقاوی اپنی  حکمت عملی میں  تبدیلی کرنے کو تیار نہیں تھا.

سابق امریکی صدر جارج بش نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ زرقاوی اور معزول صدر صدام حسین میں  تال میل ہے. 5 فروری 2003 کو امریکی وزیر دفاع کولن پاول نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں 20 مرتبہ زرقاوی کا نام لیا. وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ عراق میں القاعدہ پہلے سے سرگرم تھا، مگر ایسا ثابت نہ ہو سکا. فوجی دماغ حیران تھے کہ عراق پر قبضے کے چند  ہفتہ بعد ہی زرقاوی بغداد میں داخل ہو گیا تھا. اردن کے زرقا میں پیدا ہوئے زرقاوی نے 25 سال کی عمر  میں افغانستان کا رخ کیا تھا اور کمیونسٹوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا. اردن واپسی پر مقامی جہادیوں کے ساتھ حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کے الزام میں زرقاوی جیل گیا، 1999 میں رہا ہوا. اسکے بعد دوبارہ افغانستان گیا، مگر اسامہ بن لادن نے زرقاوی پر بھروسہ نہیں کیا. تو اس نے ہرات کے قریب اپنا تربیتی کیمپ کھول لیا تھا. 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد زرقاوی نے شمال مشرقی عراق کے کرد علاقوں کے پہاڑوں میں پناہ لی تھی، تاکہ صدام حسین کی پہنچ سے باہر رہے. 2003 میں جنگ عراق کے بعد جب بغداد پر امریکہ کا قبضہ ہوا تو زرقاوی نے 6 ماہ کے دوران ایسے دہشت گردانہ حملے کئے، جس نے امریکہ کو دہلا دیا اور اسلامک اسٹیٹ ان عراق کے نام سے زرقاوی نے القاعدہ کا دامن تھام لیا. زرقاوی نے القاعدہ کے پرچم تلے عراق میں بدترین مسلکی تشدد بھڑکایا جس میں تین سال کے دوران 70 ہزار افراد مارے گئے اور آجتک اسکے اثرات ختم نہیں ہو سکے ہیں. جب 7 جون 2006 کو  زرقاوی کو امریکہ  نے لیزر گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بناکر موت کی نیند سلایا، تو عراق میں القاعدہ کا زور ٹوٹا تھا. جہادی بکھر گئے تھے اور نیٹ ورک میں  رابطہ نہیں رہا تھا.

 البغدادی نے سنبھالی کمان


  2010 میں جب البغدادی ایک طاقتور جہادی کی شکل میں ابھرا، تو اس وقت عراقی القاعدہ کا بکھراؤ ہو رہا تھا. امریکی فوج اور سنی قبائلی لیڈران کے دباؤ کے سبب القاعدہ کیلئے عراق میں کھل کر جنگ لڑنا مشکل ہو گیا تھا، مگر البغدادی نے جب اسلامک اسٹیٹ ان عراق کی قیادت سنبھالی، تو اس میں شام  تک دائرہ وسیع کر لیا اور تنظیم کا نام اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا رکھ دیا، کیونکہ البغدادی جانتا تھا کہ شام کی خانہ جنگی القاعدہ کو نئی زندگی دے گی اور ایسا ہی ہوا. ساتھ ہی آئی ایس آئی ایس نے دیگر جہادی گروپوں کی ایک چھتری کے نیچے لانے کا کام کیا اور جو اتحاد کیلئے تیار نہیں ہوا، اس کو بھی دشمن کی فہرست میں شامل کر دیا. البغدادی نے تنظیم کے دروازے غیر ملکی جہادیوں کیلئے کھول دیئے. سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس رازداری کو بہت اہمیت دیتی ہے البغدادی کی سرگرمیوں کی آہٹ نہیں مل پائی ہے.

 شام کی خانہ جنگی میں تنہا لڑتے ہوئے آئی ایس آئی ایس نے نظر عراق پر رکھی اور جب البغدادی کو محسوس ہوا کہ اب تنظیم عراق میں  یلغار کر سکتی ہے یا پھر قدم جما سکتی ہے، تو پچھلے سال فلوجہ  اور دیگر سنی شہروں پر قابض ہو گئے. البغدادی نے آئی ایس آئی ایس کو ایک ایسی طاقت بنایا، جس کو کوئی للکارنے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے. تنظیم میں برداشت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے.  یہی وجہ ہے کہ دشمن یا مخالف کی گردن ایک پل میں زمین پر نظر آتی ہے، تو دوست یا حلیف ایک پل میں نشانہ پر آجاتے ہیں. البغدادی کے مطابق تنظیم کا مشن ہے اسامہ کا خواب پورا کرنا اور ایک اسلامی ملک قائم کرنا، جہاں خلافت نافذ ہو، مگر البغدادی کی سب سے بڑی طاقت ہے اتحاد.  وہ جہاں پیش قدمی کرتا ہے تنظیم کے  نئے دوست اور حلیف بنا کر  زمین تیار کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ شام میں آئی ایس آئی ایس سب سے بڑی طاقت بنی اور اب اس نے عراق میں کہرام مچا رکھا ہے.

 آئی ایس آئی ایس کا مشن اور مقصد


 البغدادی کی فوج نے شام سے عراق تک یلغار کی تو ایک نعرہ تھا اور ایک ہی عزم کہ دونوں ملکوں کے سنی علاقوں پر مشتمل ایک اسلامی حکومت کی تشکیل، جہاں خلافت لاگو ہو گی. عراق میں داخل ہونے سے قبل البغدادی کا لشکر جانتا تھا کہ یہ ون وے سفر ہے. یہ فوج عراق میں داخل تو ہو گی، مگر واپسی کی ضمانت نہیں، کیونکہ اگر امریکہ نے ہوائی حملے کر دیئے تو 6 یا 7 ہزار جنگجوؤں کیلئے واپسی ممکن نہیں رہے گی. مگر آئی ایس آئی ایس  کے جہادیوں کے سر پر صرف ایک مقصد  چھایا ہوا ہے کہ نیا اسلامی ملک اور خلافت.

 ایک اندازے کے مطابق آئی  ایس آئی ایس میں تقریبا 10 ہزار جہادی ہیں ، جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی کے ساتھ دیگر یوروپی ممالک کے جہادی شامل ہیں. امریکہ اور عرب کے جہادی بھی ہیں. برطانیہ کے ایک تجزیہ کار رچرڈ بریٹ کے مطابق البغدادی میں غضب کی صلاحیت ہے، وہ فوجی حکمت عملی کا ماہر ہے، جس طرح شام اور عراق کے شہروں پر اس نے قبضہ کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطہ کی باریکیوں سے واقف ہے. اگر آپ کسی کا ایکشن دیکھنا چاہتے ہیں تو البغداد کا رخ کریں. البغدادی کا بنیادی اصول ہے کہ خوف پیدا کرو. خوف ہی پیش قدمی کی راہ صاف کرتی ہے. اس کا نمونہ تکریت  اور موصل میں ملا، جب عراقی فوجی صرف آئی ایس آئی ایس  کی آمد کی خبر سنکر فرار ہو گئے تھے. آئی ایس آئی ایس کا ایک مقصد تو پورا ہو گیا ہے اسنے خوف پیدا کردیا ہے. کسی ملک کی فوج اگر چند ہزار جنگجوؤں کا سامنا کئے بغیر فرار ہو جائے، تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جہادی کس قدر خطرناک اور خونخوار ہوں گے. ایک اور مغربی تجزیہ کار نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آئی ایس آئی ایس بڑی حد تک اپنے مقصد میں  کامیاب ہو رہا ہے. اگر عراق کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہیں، تو تکریت سے لیکر موصل تک کا خطہ سنیوں کا ہو گا اور ایسا ہوا تو سنی خطے پر آئی ایس آئی ایس کو قبضہ کرنے سے کوئی روک نہیں سکے گا.

  شاید آئی ایس آئی ایس واحد ایسی دہشت گرد تنظیم ہے، جو سالانہ رپورٹ کارڈ شائع کرکے دنیا کو بتاتی ہے کہ تنظیم کی کار گزاری کیسی رہی. 2012 اور 2013 میں تنظیم نے سالانہ رپورٹ کارڈ جاری کیا ، جس کے تحت صرف 2013 میں آئی ایس آئی ایس نے عراق میں 10 ہزار حملے کئے، جن میں قتل، اغوا، بمباری، خود کش حملے  اور قیدیوں کو آزاد کرانا شامل ہے. اس رپورٹ کا مقصد تنظیم کو فنڈ دینے والوں کو متوجہ کرنا ہے یا جو لوگ تنظیم کو فنڈ دے رہے ہیں انہیں اس بات کا علم ہو سکے کہ آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیاں کیا ہیں. ایسی ہی ایک رپورٹ میں اس بات کا اعتراف  کیا گیا ہے کہ تنظیم کو  سب سے زیادہ فنڈ  جنوبی ایشیا سے حاصل ہوا ہے اور انڈونیشیا میں آئی ایس آئی ایس کو بہت مقبولیت ملی ہے، جہاں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے. تنظیم چاہتی ہے کہ لوگ اسکے سیاسی نظریات اور مقاصد سے واقف ہوں اور ساتھ ہی اسکے کاموں کی تفصیل معلوم ہو. 2013 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 ہزار جہادی فی الحال آئی ایس آئی ایس کے پرچم تلے اکٹھا ہوئے  ہوئے ہیں. جن میں تقریبا 12 ہزار شام اور عراق کے باہر  سے تعلق رکھتے ہیں. دو ہزار جہادی یوروپ کے ہیں. سوشل میڈیا کے بھر پور  استعمال کے سبب آئی ایس آئی ایس نے یوروپ اور امریکہ سے نہ صرف فنڈ حاصل کیا، بلکہ جہادی بھی پہنچ رہے ہیں اور فنڈ کے سبب آئی ایس آئی ایس  اب دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم کے ساتھ سب سے دولت مند دہشت گرد طاقت بن گئی ہے.

پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

بدھ، 2 جولائی، 2014

شیعہ سنی جنگ عظیم

 ایک کڑوا سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل نے 60 سال کے دوران جتنا ظلم فلسطنیوں پر کیا، اس سے کہیں زیادہ اور کہیں غیر انسانی مظالم تو شیعہ. سنیوں نے آپس میں  ڈھا دیئے ہیں. اسرائیل کے مظالم کو اب تک عالم اسلام سب سے بڑے عتاب کے طور پر دیکھتی تھی اور شور مچاتی تھی، مگر اب کیا ہو رہا ہے؟ مسلمان تو مسلمان کی گردن کاٹ رہا ہے.
 


بغداد.... 80 میل دور... اب بغداد 60 میل دور... اب بغداد صرف 40 میل دور.. بغداد کے اردگرد باغی سنیوں کے ساتھ خوفناک جنگ جاری ہے. آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمی روکنے اور حملے کا جواب   دینے کیلئے بغداد میں شیعہ  نوجوان ، بوڑھے اور کیا بچے سب سڑکوں پر ہیں. ہاتھوں میں ہتھیار لہرا رہے ہیں. باغی سنیوں کے ساتھ بغداد کی حتمی جنگ کا انتظار ہے. عراق میں مسلکی منافرت کی آندھی زور پکڑ رہی ہے. عراقیوں میں بھگڈر  کا عالم ہے. 10 لاکھ عراقی ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں. عراق لاشوں سے پٹ گیا ہے، ایک خوفناک یہودی سازش کے جال میں جکڑتا جا رہا ہے عراق. اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بے بسی کی صورت بن گیا ہے عالم اسلام اور سب سے بڑا کھلاڑی امریکہ بھی عراق کی بھیانک تصویر دیکھ کر کسی نئے کھیل کیلئے نہیں ہو رہا ہے تیار. امریکہ کا گیم پلان فیل ہو گیا ہے، مگر اسرائیل کا مقصد پورا ہو چکا ہے. عرب دنیا میں اسکا سب سے بڑا چیلنج عراق بھی  ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے دہانے پر ہے. عراق سے عراقی بھاگ رہے ہیں کیونکہ عراق میں لاشوں کے ڈھیر  ہیں. کٹے سروں کی نمائش ہے. سرعام قتل ہو رہے ہیں. ایک دوسرے سے زیادہ ظالم ہونے کا مقابلہ جاری ہے. ہر کوئی ایک دوسرے کے خون  کا پیاسا ہو رہا ہے. کوئی  خون بہا رہا ہے، تو کوئی خون کا بدلا لے رہا ہے، یعنی انتقام در انتقام، نفرت در نفرت. کہیں سنی ظالم ہیں، تو شیعہ مظلوم، تو کہیں شیعہ ظالم ہے تو سنی مظلوم. کہیں جہاد کے نام پر بزرگان دین کی نشانیوں کو تباہ کرنے کا جنون، تو کہیں انکی حفاظت کا جوش،  عجیب و غریب عالم ہے، دنیا دنگ ہے اور دنیا والے ششدر ہیں. تشدد کی انتہا کو  دیکھ کر لرز گئی ہے دنیا، مگر عراق میں کچھ اور سماں ہے. صحرا میں گھمسان ہے، تو بغداد کی سڑکوں پر کہرام. اب  بغداد چند میل کی دوری پر عراق میں ہیجان  پیدا کر رہا ہے. دنیا دیکھ رہی ہے کہ عراق میں منافرت اور تشدد کی خوفناک تصویر. کہیں 6 سالہ شیعہ بچہ علم اٹھائے ہوئے ہے، تو کہیں 6 سالہ سنی بچہ جہاد کا پرچم. جو نسل در  نسل. نفرت، ٹکراؤ اور دشمنی کا ثبوت دے رہا ہے. ایک دوسرے کو مٹانے کیلئے بے قرار شیعہ سنی صحرا میں نئے قبرستان آباد کرنے کو تیار ہیں.

دنیا سوچ رہی ہے کہ کیا ہوا عراق کو ؟ کیا ہوا عراقیوں کو ؟ کیا ہو گیا شام کو؟ کیا  ہو گیا شام کے باشندوں کو ؟ کیا ہو گیا ہے لیبیا کے صحرائی جہادیوں کو ؟ عراق میں آئی ایس آئی ایس کی یلغار اور اب بغداد کے دفاع کیلئے شیعوں کی دیوار نے عراق کو تاریخ کے سب سے نازک بحران کا شکار کر دیا ہے. سب لڑ رہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ یہ اسلام کی تعلیم نہیں، جب یہ اسلام کی تعلیم نہیں، تو یہ اسلام کا کام نہیں اور جب یہ اسلام کا کام نہیں تو پھر کیا ہو گیا اہل عراق کو؟ 


صیہونی سازش کا جال


عراق کی خانہ جنگی نے  عالم اسلام کو مسلکی بنیاد پر اس قدر اندھا بنادیا ہے کہ کوئی اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں کہ ہم امریکہ اور اسرائیل کی کٹھ پتلیاں بن چکے ہیں. ہم  صہیونی سازش کے جال میں پھنس گئے ہیں،  اسلئے ہم لبنان سے لیکر شام اور عراق سے لیکر ایران اور افغانستان سے لیکر پاکستان تک اسی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں، جو عالم اسلام کو نگل جائے  گی. ذرا آنکھ کھول کر دیکھئے! ذرا دماغ پر زور دیجئے کچھ عقل کا استعمال کیجئے. یہ خون شیعہ ہے نہ سنی. یہ عالم اسلام کا خون ہے. اے جنگ عالم اسلام کے خلاف صہیونی  سازش  ہے، جو عالم اسلام کی خود مسلمانوں کے ہاتھوں اینٹ سے اینٹ بجا دے گی، مگر افسوس عالم اسلام کی عقل پر پردہ  پڑ گیا ہے، بس مسلکی طاقت اور دبدبہ کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا ہے.


اسرائیل پرسکون بیٹھا ہے. اسکو اب کسی کی فکر ہے نہ ڈر. مصر میں کھیل ہو گیا، ترکی میں کھیل جاری ہے. لیبیا  میں کھیل  ختم ہو گیا، اب عراق میں بساط   لگی ہوئی ہے. اسرائیل نے اپنے حریف کو توڑ دیا، منتشر کر دیا، مردہ کر دیا. عالم اسلام میں جو بھی طاقت اسرائیل کیلئے ایک چیلنج تھی، اسکا حشر کیا ہوا سب کے سامنے ہے. کہیں سیاسی بغاوت ہوئی، تو کہیں فوجی اور کہیں خانہ جنگی.

ذرا سوچئے........ شام میں کیا ہوا اور عراق میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا شیعہ  اور سنی کبھی اس پر غور کر سکیں گے؟ ایک کڑوا سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل نے 60 سال کے دوران جتنا ظلم فلسطینیوں پر کیا، اس سے کہیں زیادہ اور کہیں غیر انسانی مظالم تو شیعہ، سنیوں نے آپس میں ڈھا دیئے ہیں. اسرائیل کے مظالم کو اب تک عالم اسلام   سب سے بڑے عتاب کے طور  پر دیکھتی تھی اور شور مچاتی تھی، مگر اب کیا ہو رہا ہے؟ مسلمان تو مسلمان کی گردن کاٹ رہا ہے. کٹی ہوئی گردن سے فٹبال کھیل رہا ہے؟ سینہ چاک کرکے کلیجہ نکال رہا ہے؟ کٹی ہوئی گردنوں کی نمائش لگا رہا ہے. کیا آج تک اسرائیل نے ایسا ظلم کیا ہے! ہم اسرائیل کو ناجائز کہتے ہیں. اسرائیل کو شیطان کہتے ہیں، مگر شام سے لیکر عراق تک  مسلمانوں نے جو کر دیا ، اس سے صہیونی شیطان بھی کپکپا گیا ہے. دنیا تو سب یہی کہہ رہی ہے کہ مسلمانوں سے زیادہ ظالم کوئی نہیں، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ حالات خود صیہونی سازش کا نتیجہ ہیں، مگر سوال یہ ہی کہ کیا ہماری عقل پر پردہ پڑ گیا ہے؟ مسلکی تشدد کا جو بازار گرم ہوا ہے، اس نے اسلام کو رسوا کیا ہے، اس نے مسلمانوں کو ذلیل کیا ہے. عالم اسلام کو شرمندہ کیا ہے. اس وقت  اتحاد سب سے بڑا ہتھیار ہو گا. یہی راستہ ہے، جو عالم اسلام کو مسلکی جنگ عظیم سے  بچائے گا، مگر امریکہ ہو یا برطانیہ، سب دور سے شعلوں کا دیدار کریں گے اور مسلمانوں کو یوں آپس میں لڑتے مرتے دیکھ کر خوش ہوتے رہیں گے.


 جب 2003 میں جنگ عراق کا آغاز ہوا تھا تو بش انتظامیہ کا دعوی تھا کہ صدام حسین اور القاعدہ میں سانٹھ گانٹھ ہے،  مگر صدام حسین کی شہادت کے بعد امریکہ اس الزام کو ثابت نہ کر سکا. بلکہ صدام حسین نے  اس وقت کہا تھا کہ عراق ہاتھوں میں جلتے ہوئے انگارے کی طرح بن جائے گا اور وہی ہوا. بش نے بھیڑیا آیا...... بھیڑیا آیا کا شور مچا کر امریکی عوام سے کہا تھا کہ اگر عراق پر ہ،حملہ نہ کیا تو القاعدہ دنیا پر حکومت کرے گا. جنگ عراق کے بعد اب بھیڑیا آگیا..... عراق میں جہاں القاعدہ کا نام و نشان نہیں تھا، اب القاعدہ ہی القاعدہ ہے یہ بش کا کارنامہ ہے. جب لیبیا میں بغاوت کی آگ  بھڑکی، تو کرنل معمر قذافی چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ دیکھو جو باغیوں کے بھیس میں ہیں ، وہ القاعدہ کے حامی ہیں، انہیں پہچانوں........ اگر میں نہیں رہا ، تو القاعدہ کرے گا لیبیا پر قبضہ، مگر اوبامہ انتظامیہ نے ایک نہیں سنی... امریکہ نے اگر کھل کر میدان نہیں سنبھالا ، تو دور سے تماشہ دیکھا، مگر تریپولی پر باغیوں کا قبضہ ہوا اور کرنل قذافی کی ہلاکت ہوئی، مگر پھر کیا ہوا؟ بن غازی میں القاعدہ کی پہلی دھمک اس وقت سنی گئی، جب امریکی سفارت خانہ پر حملہ ہوا اور القاعدہ کے جنگجوؤں نے امریکی سفیر کو ہلاک کر دیا. اس وقت امریکہ کو احساس تو ہوا کہ کرنل قذافی نے سچ  کہا تھا، مگر اسکا اعتراف کرنے کی ہمت کسی میں نہیں.

اب شام میں صدر بشار الاسد کہتے رہے کہ شام  کے باغی کوئی اور نہیں ، القاعدہ کے حامی ہیں، مگر کوئی سننے کو  تیار نہیں ہوا. باغیوں کو ہتھیار سپلائی ہوئے، شام کی خانہ جنگی انتہا پر پہنچ گئی، مگر بشار الاسد کی فوج منظم ہے، انٹلی جنس مضبوط ہے اور عوام کی حمایت اسلئے باغی لڑ تو رہے ہیں، مگر چار سال گزرنے کے باوجود تختہ پلٹنے میں ناکام رہے، تو عراق کے تنازعہ نے اب ان باغیوں کو  سرحد پار کرادی. آئی ایس آئی ایس کی شکل میں مظبوط القاعدہ اب امریکی ہتھیاروں  کے ساتھ اینٹ سے اینٹ بجا رہا ہے. اس سے بس ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ صدام ہوں ، قذافی یا اب بشار الاسد سب نے ایک بات کہی اور وہی سچ ہوئی کہ القاعدہ آجائے گا......

  جو بویا وہ کاٹا


 آج  امریکہ دیکھ رہا ہے کہ عراق میں کیا سے کیا ہو گیا ؟ مگر امریکہ میں عراق کی  جانب قدم  اٹھانے کی ہمت ہے نہ حوصلہ.... امریکہ اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ موجودہ حالات اسکی مشرقی وسطیٰ پالیسی کی ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں، کیونکہ امریکہ نے کبھی نیک نیتی سے کام ہی نہیں کیا.

  جب ایران میں اسلامی انقلاب  برپا ہوا اور ایک آیت الله روح الله خمینی کا ظہور ہوا، تو امریکہ نے صدام حسین کو ایران کے خلاف  کھڑا کر دیا تھا. دونوں ملکوں کے درمیان 8 سال تک جنگ چلی، اس جنگ نے مسلکی خلیج پیدا کر دی. اسکے بعد صدام حسین سے  ٹکراؤ ہوا، تو عراق کے شیعوں کو ورغلانا شروع کیا. صدام حسین کو شیعوں کا دشمن ثابت کیا. مغربی میڈیا نے گمراہ کن کہانیاں دکھائیں. صدام حسین کو 2003 میں اقتدار سے دور کیا اور عراق پر قبضہ، مگر جیسا عراق میں ایران کا اثر بڑھتا نظر آیا اور مقتدی الصدر نے عراق میں امریکہ کے خلاف جنگ بصرہ اور جنگ نجف میں غیر معمولی مزاحمت کا نمونہ پیش کیا ، تو امریکہ پسینہ پسینہ ہو گیا. شیعہ طاقت کے خوف  میں امریکہ نے شام میں شیعوں کو اکسایا اور  بشار الاسد کے کھل خلاف بغاوت کی چنگاری  بھڑکا دی. آج چار سال سے شام میں مسلکی تشدد  اور بغاوت جاری ہے، مگر بشار الاسد کہتے رہے کہ باغیوں میں القاعدہ نواز ہیں، مگر امریکہ نے نہیں سنی. باغیوں کو ہتھیاروں کی سوغات دی، جو ان ہی ہتھیاروں کے ساتھ اب عراق میں اینٹ اینٹ بجا رہے ہیں اور حالت ایسی ہے کہ امریکہ کیلئے عراق میں بمباری کرنی بھی مشکل ہو گئی ہے. اب ایک دوسرے پر الزامات کا دور جاری ہے. مگر حقیقت یہی ہے کہ جو بویا وہ کاٹا.

 امریکہ کا کھیل ختم

 عراق کے حالات اب اس بات کا ثبوت ہیں  کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا کھیل ختم ہو چکا ہے اور تیل کے کھیل نے اب امریکہ کا تیل نکال دیا ہے،  یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر اوبامہ نے عراق پر بمباری کے نام پر کہہ دیا نہ بابا نہ ... اوبامہ نہیں چاہتے کہ موت کے کنویں میں قدم رکھیں. کئی دہائیوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے، جب امریکہ کسی بحران یا تنازعہ میں جارحیت کا جلوہ دکھانے کے بجائے سیاسی حل تلاش کر رہا ہے، دراصل عراق لیبیا اور شام میں جو کچھ ہوا ہے اس نے پورے خطہ کو جہادیوں کی جنت بنا دیا ہے. پہلے تو صرف سوڈان اور صومالیہ میں دہشت گردی  کا بسیرا تھا، مگر جنگ عراق کے بعد یہ خطہ ایسا ہو گیا ہے جہاں امریکہ کیلئے قدم رکھنا مشکل ہو گیا ہے. اب افریقہ میں کرنل قذافی دور کے بعد نائیجریا سے لیکر الجزائر، سوڈان، صومالیہ، یمن، کینیا، تیونس، لیبیا میں القاعدہ کے قدموں کے نشان نظر آرہے ہیں. جہادیوں کا عرب دنیا  پر قبضہ کرنے کا پلان حقیقت بنتا نظر آرہا ہے، کیونکہ عالم عرب میں کوئی ایسا ملک نہیں، جو امریکہ کے بغیر جہادیوں کا مقابلہ  کر سکے اور امریکہ فیل پالیسی کے ساتھ کسی اور دلدل میں کودنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں، اوبامہ جانتے ہیں کہ اگر عراق میں فوج کو دوبارہ بھیجا، تو عوام میں رہی  سہی سا کھ بھی ختم ہو جائے گی. اسلئے اوبامہ انتظامیہ محفوظ فاصلہ بنائے رکھنے میں دانشمندی مان رہی ہے، جو اس بات کی نشانی ہے کہ اب مشرق وسطیٰ کا کھیل امریکہ کے بس  سے باہر ہے اور پانسہ بالکل پلٹ چکا ہے.

پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

منگل، 1 جولائی، 2014

ابو بکر البغدادی کون ہے ؟

 اس کا ایک اصول ہے کہ جب تک دنیا تمہارے نام سے تھرائے گی نہیں، تم کامیاب نہیں ہو سکتے. یہی وجہ ہے کہ عراق میں پیش قدمی کے دوران موصل میں دو ہزار عراقی فوجیوں کو سر عام قتل عام  کرنے کی تصاویر ویڈیو اور سوشل میڈیا پر لا کر آئی ایس آئی ایس کی دہشت کو انتہا پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے.



ابو بکر البغدادی..... دنیا کی نگاہ میں یہ نام ہے خوف کا، یہ نام ہے دہشت کا،  یہ نام ہے درندگی کا اور یہ نام ہے موت کا، جس نے اپنے دماغ اور انتہائی  پسندی کی انتہا کے سبب خود کو ثابت کر دیا ہے، دنیا کا سب سے خوفناک جہادی، جس نے القاعدہ کو سکتہ میں ڈال دیا، جس نے القاعدہ کے  کے سربراہ ایمن الظواہری کو کپکپا دیا، جس نے صرف اپنے دل کی سنی اور دماغ کی مانی، مگر اپنے چاہنے والوں کی نگاہ میں یہ اسلامی دنیا  کا سب سے طاقت ور قائد ہے، جس کے ایک اشارے پر ہزاروں  نوجوان جان دینے کو تیار ہے. یہی وجہ ہے کہ جب اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا نے شام سے لیکر عراق تک پیش قدمی کی تو جہاں دنیا دنگ رہ گئی، وہیں دشمن بھی لوہا ماننے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ سنی بغاوت میں جو سب سے بڑا نام ابھرا، وہ تھا  ابو بکر البغدادی، جس نے پچھلے پانچ سال کے دوران  بڑی خاموشی کے ساتھ آئی ایس آئی ایس کو ایک ایسی طاقت بنا دیا، جو شام اور عراق کے سنی علاقوں پر مشتمل ایک  اسلامی ملک کی تشکیل اور خلافت کی واپسی کا حوصلہ دکھا رہی ہے.

39 سالہ البغدادی 2009 میں امریکہ کی قید سے آزاد ہوا تھا، جسکے بعد اس نے عراق  میں سنی جہاد کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ہی تنظیم کو ایک ایسی  پہچان دے دی ہے، جس کے سامنے القاعدہ بونا نظر آرہا ہے. البغدادی کو جہادی دنیا میں ایک سخت گیر اور بے رحم انسان کے طور پر جانتی اور  مانتی ہے کہ البغدادی کی طرح  حکمت سازی اور ایکشن کا کوئی ثانی نہیں، جو دشمنوں کی گردن قلم کرنے میں ایک پل ضائع نہیں کرتا، تو ایک پل  میں حلیف کا حریف بن جاتا ہے، جیسا کہ القاعدہ کےساتھ ہوا .  اسکے دل میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں. وہ ہم خیال مذہبی نظریات کی تنظیموں کو بھی اختلافات ہونے پر چت کر چکا ہے، جو اپنے مشن میں کوئی رکاوٹ پسند نہیں کرتا ہے. کوئی تنقید  برداشت نہیں کرتا ہے. کوئی اعتراض  پسند نہیں کرتا ہے. اسکا ایک اصول ہے کہ جب تک دنیا تمہارے نام سے تھرائے گی نہیں، تم کامیاب نہیں ہو سکتے. یہی وجہ ہے کہ عراق میں  پیش قدمی کے دوران موصل میں دو  ہزار عراقی  فوجیوں  کو سر عام قتل عام کرنے کی تصاویر ویڈیو اور سوشل میڈیا پر لا کر آئی ایس آئی آئی ایس کی دہشت کو انتہا پر پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اپنی مرضی  کا مالک البغدادی اب کسی کے بس یا قابو میں نہیں ، وہ تو اپنی حکمت کا غلام ہے.

 جس  آدمی نے دہشت گردی کے بادشاہوں کو پسینہ پسینہ کر دیا، وہ بغداد یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکا ہے. جس کو یونیورسٹی  کے ساتھی  سامرت کے ایک غریب طالب علم کے طور پر جانتے تھے، جس کی بغداد کے فراخ دل اور رحم دل پروفیسر مالی مدد بھی کرتے تھے، مگر چند سال بعد جب البغدادی کا نام سامنے آیا، تو امریکہ اس پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھ چکا تھا، مگر اب بھی البغدادی کو پہچا ننے  کا دعوی نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ البغدادی کا صرف ایک فوٹو ہے، جو امریکہ سے لیکر عراق تک شائع ہوتا ہے. دراصل 2006 میں عراقی القاعدہ کے سربراہ الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد عراق میں تنظیم کا  زوال شروع ہو گیا تھا. کیونکہ انبار صوبہ میں سنی قبائلی ہی زرقاوی کے طریقہ  کارکے خلاف ہو گئے تھے اور القاعدہ کے نیٹ  ورک کو تباہ کرنے میں اہم کردار نبھا رہے تھے، مگر پھر عراقی القاعدہ کو نئی زندگی دینے کیلئے 2010 میں البغدادی نے اسکا دائرہ شام تک وسیع کر دیا ، تاکہ شام کی خانہ جنگی میں دوبارہ دھاک جمائی جا سکے. اسی مقصد سے البغدادی نے تنظیم کا نام اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا کر دیا تھا. 2010 کے بعد البغدادی نے خاموشی کے ساتھ ایسا جال بچھایا کہ امریکہ کو اسکی بو  تو ملی ، مگر امریکہ نے  شہد کی مکھی کے چھتے میں ہاتھ نہ ڈالنے کا فیصلہ کرکے عراق کو الوداع کہہ دیا.

 شام میں ابو بکرالبغدادی


2010 میں شام کی خانہ جنگی کے سبب البغدادی نے القاعدہ نواز نصر گروپ کو اتحاد کا پیغام محبت بھیجا. البغدادی کی خواہش تھی کہ بشار الاسد کے خلاف جنگ میں آئی ایس آئی ایس بھی لڑے، مگر نصر فرنٹ کے ابو محمد الگولانی نے انکار کر دیا، جو کہ شام میں کار دھماکوں کی جھڑی لگا کر سرخیوں میں تھے. وہ البغدادی کی کمانڈ میں لڑنے کو راضی نہیں ہوئے، تو البغدادی نے شام میں نصر فرنٹ کے خلاف جنگ چھیڑ دی. القاعدہ کے سربراہ ایمن الظوہری کی ناراضگی سامنے آئی، مگر البغدادی کسی کو خاطر میں لانے کا قائل نہیں، اسلئے شام میں سنی جہادیوں کی داخلی جنگ شدت پکڑ گئی، مگر  یہ البغدادی کا جادو تھا، جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ شام پر آئی ایس آئی ایس  کا کنٹرول ہو گیا. آئی ایس آئی ایس کے جہادیوں کا ماننا تھا کہ البغدادی میں دشمنوں کو چکرانے کی غیر معمولی صلاحیت ہے. وہ اس قسم کے حملے کرنے کا عادی ہے کہ دشمن بھونچکا رہ جائے ، جیسا کہ البغدادی کسی کی سنتا نہیں، اس نے صرف اور صرف القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو عزت و احترام دیا اور صرف اسامہ کی باتوں کو یاد رکھا ہے. یہی وجہ ہے  کہ اظواہری نے شام میں آئی ایس آئی ایس آئی کو سرگرم رکھا. اظواہری  نے البغدادی کو رام کرنے کی کوشش کی، مگر البغدادی نے جواب دیا  کہ  " شیخ (اسامہ بن لادن )  کا خواب تھا ایک اسلامی ملک کا، جہاں خلافت نافذ ہو اور ہم شیخ کے خواب کو حقیقت بنانے کیلئے لڑ رہئے ہیں". اسکے بعد  الظواہری نے یہ کہہ کر البغدادی سے  لاتعلقی کر لی تھی کہ اس نے تشدد کی انتہا کر دی ہے، مگر البغدادی نے شام یں 2012 اور 2013 کے دوران شمالی اور مشرقی شام میں کنٹرول پایا اور رقا میں شریعت نافذ کی.

دنیا کو ڈرنا چاہئے

 آئی ایس آئی ایس میں ابو بکر البغدادی نے غیر ملکی جہادیوں کیلئے دروازے کھولے، خاص طور پر امریکی  اور یوروپی جہادیوں کو آئی ایس آئی ایس نے تربیت دی، جسکا خاص سبب یہ تھا کہ جب تک چاہیں مغربی جہادی شام کی خانہ جنگی میں لڑتے رہیں ، پھر  وطن لوٹیں اور نئے  جہادی تیار کریں. البغدادی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے جہادی بے خوف اور بے رحم ہوں، جنہیں دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہوں اور تنظیم کا پرچم دیکھتے ہی کپکپی طاری ہو جائے، تنظیم نے ایسے ویڈیو سوشل میڈیا پر دکھائے ہیں، جن میں جہادی دشمنوں کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ قتل کر رہئے ہیں. البغدادی کو قریب سے جاننے والے ایک عرب جہادی کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے سربراہ کا  ماننا ہے کہ دنیا پر اسکا خوف ہو. اگر آپ اسکی فوج کا حصہ ہیں تو دنیا آپ سے ڈرے. اگر دنیا کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اگلا حملہ کیسے اور کب ہو گا. البغدادی کے مزاج میں بے انتہا ظلم اور بے رحمی نے القاعدہ کو  پریشان  کر دیا تھا. یہی وجہ ہے کہ القاعدہ نے البغدادی سے لا تعلقی ظاہر کی، مگر البغدادی جانتا تھا کہ اب القاعدہ بے سر کی لاش ہے، اسلئے اس نے بے رحمی اور درندگی سے توبہ کرنے کے بجائے القاعدہ اور الظواہری کو انگوٹھا دکھا دیا. حقیقت یہ ہے کہ البغدادی کا ایسا خوف ہے کہ عراقی فوج نے شمالی علاقوں میں جہادیوں کی آمد سے قبل ہی چیک پوسٹ، مورچے اور چھاؤنیوں کو خالی کر دیا تھا اور جہاں شکنجے میں آئے، وہاں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے.
 
2009 میں جب عراق کے ایک امریکی قید خانہ سے البغدادی کو چار سال بعد رہا کیا گیا، تو  البغدادی نے امریکی افسران سے کہا تھا کہ میں آپ سے نیویارک  میں ملوں گا. امریکی کرنل کنٹھ کنگ کے مطابق البغدادی نے رہائی کے وقت ایک فوجی کو دیکھ کر یہ جملہ ادا کیا  تھا، جو کہ  نیویارک سے تعلق  رکھتا تھا. کرنل کنگ کے مطابق جب البغدادی کے جہادی لیڈر بن کر ابھرنے کی خبر ملی، تو بہت زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی، البغدادی کو اب اسامہ بن لادن سے زیادہ  امریکی مخالف اور پر تشدد مانا جاتا ہے. امریکی فوج بھی جانتی ہے کہ 1971 میں پیدا ہونے والا البغدادی صرف ہتھیار چلانا نہیں جانتا ہے، بلکہ اسکا دماغ ان ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ہے. وہ میدان جنگ کا کمانڈر ہے اور فوجی حکمت ساز بھی. اسکو شام میں بشارالاسد کے حامی لڑاکے " بھوت" کے نام سے پکارتے ہیں کیونکہ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو البغدادی کا چہرہ دیکھ چکے ہیں. ٹائم میگزین کو  2013 میں ایک حزب الله کمانڈر نے بتایا تھا کہ البغدادی رازداری پر یقین رکھتا ہے. رازداری ہی اسکی طاقت ہے اور سب سے خطرناک دشمن ہے. جب وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ بات چیت کرتا ہے، تو اس وقت بھی چہرہ نقاب میں چھپا ہوتا ہے. امریکی فوج بھی حیران ہے کہ البغدادی کا یہ حملہ ایک بڑا اشارہ تھا اور اسکے اعتماد کا نمونہ ، جو اس وقت امریکی کمانڈر بھی سمجھ نہ سکا.

 اب البغدادی نمبر ون



جہادی دنیا میں اب البغدادی کو نمبر ون کا درجہ حاصل ہے. القاعدہ کے سربراہ الظواہری جو 10 سے روپوشی سے تنظیم کو کنٹرول کر رہئے ہیں اب البغدادی کے سایہ میں ہیں. اب البغدادی کے مخالف اور دشمن اس بات کو تسلیم کر رہئے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس  لیڈر میں پیش قدمی کا حوصلہ ہے اور شام و عراق سے باہر کی دنیا پر اثرانداز ہونے کی اہلیت ہے وہ دن بدن جہادیوں میں مقبول ہو رہا ہے. جہادیوں کی نظر میں وہ اسلام کیلئے لڑ رہا ہے. حیرت کی بات یہ ہے کہ شام میں البغدادی کا مخالف گروپ نصر فرنٹ کے جہادی بغدادی کو سلام کر رہئے ہیں. ایک جہادی کے مطابق البغدادی کو افغانستان اور پاکستان سے خطوط مل رہے ہیں، دیگر جہادی گروپ ہاتھ ملانا چاہتے ہیں. اظواہری  بھی البغدادی کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے.

آئی ایس آئی ایس کے جہادیوں کی نظر میں البغدادی نئی نسل کے جہادیوں کا ترجمان ہے، نمائندہ ہے، قائد ہے، جو  اسامہ بن لادن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے سرگرم ہے اور اسامہ.... البغدادی میں یہ یکسانیت تھی کہ دونوں ہمیشہ آگے کی جانب دیکھتے تھے. دونوں مستقبل کی سوچتے تھے. آئی ایس آئی ایس کی تشکیل نے الزواہری کے القاعدہ کو تقریباً ناکارہ بنا دیا ہے. اب شام اور عراق میں جہادیوں کا دعوی ہے کہ الزواہری کے سبب القاعدہ کا وجود ختم ہو چکا ہے. ایک جہادی نے کہا ہے کہ الظوہری اب بے بسی کے ساتھ تماشہ دیکھ رہے ہیں. وہ سوچ رہے ہیں کہ البغدادی کی کوئی چال غلط پڑے، وہ انتظار کر رہے ہیں  کہ البغدادی جیتیں گے یا  ہاریں گے، مگر دونوں صورت میں الزواہری کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ لیڈر تو البغدادی ہی رہیں گے.

2009 میں چار سال امریکی جیل میں گزارنے کے بعد عراقی القاعدہ کو دوبارہ زندہ کرنے کا بیڑا اٹھایا، جو 2006 میں زرقاوی کی ہلاکت اور سنی قبائلیوں کی بغاوت کے سبب  دمتوڑ رہا تھا. البغدادی نے 2010 میں شام کی خانہ جنگی کو سنہرا موقع مانا اور خانہ  جنگی کی آگ میں ایسا تیل ڈالا کہ دنیا دنگ رہ گئی. البغدادی نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ شام کی خانہ جنگی ہی عراق میں طاقت بخشے گی اور یہی وجہ  ہے کہ جب  الظوہری نے البغدادی   کو شام سے دور رہنے کی ہدایت کی، تو البغدادی نے الظوہری کو دور  کر دیا اور  القاعدہ کو الوداع کہہ دیا، مگر  القاعدہ کے بانی  اسامہ بن لادن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کر دیا کہ آئی ایس آئی ایس کا اصل مشن اسامہ کے اسلامی ملک اور دور خلافت کی واپسی ہے. مشرقی وسطیٰ کے تجزیہ کار البغدادی کے دماغ کی داد دے رہے ہیں، جس نے خود القاعدہ سے دور  کیا، مگر اسامہ  سے نہیں ، جس نے جہادیوں میں الظواہری کو ایک پل میں ویلن اور البغدادی کو ہیرو بنا دیا.


پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

ہفتہ، 28 جون، 2014

داعش کیا ہے؟

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ القاعدہ سچ مچ امریکہ کے خلاف نبرد آزما ہے لیکن سچ یہ ہے کے القاعدہ خود کو امریکہ کا دشمن ظاہر کر رہا ہے تاکہ شام عراق، لبنان ، پاکستان، افغانستان اور تمام اسلامی ملکوں میں امریکہ کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنائے.


 سارے سیاسی اور فوجی تجزیہ نگار معتقد ہیں کہ دہشت گرد گروہ القاعدہ امریکہ کی جاسوسی تنظیم کا ساختہ اور پرواختہ ہے اور ایک مصنوعی دشمن کے عنوان سے دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر امریکی حکومت اسکا استعمال کر رہی ہے.

اسامہ بن لادن کی قیادت اور امریکی کمپنیوں کی مالی امداد سے افغانستان اور مرکزی ایشیا کے تمام ملکوں میں سابقہ روس کا مقابلہ کرنے کی خاطر القاعدہ کا وجود عمل میں لایا گیا. روس میں  کمیو نسٹی نظام کے بکھرنے کے بعد امریکہ کو ایک مصنوعی دشمن کی ضرورت تھی تاکہ اسکے ذریعے وہ پوری دنیا میں اپنے اقدامات کا بہانہ پیش کر سکے اور خاص کر مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں اپنے مقاصد حاصل کر سکے. یہ موضوع امپرا طوری  روم کی طرف سے ایک مصنوعی دشمن بربریوں کے نام سے ایجاد کرنے کی مانند تھا جو اس امپرا طورری کے گلے کی ہڈی بن گیا تھا. دنیا میں بہت سارے سیاسی مسائل کے صاحبان رائے معتقد ہیں کہ 11 ستمبر 2001 کے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر  حملے مشکوک تھے اور اس مسئلے کے مصنوعی ہونے کی بہت ساری دستاویز موجود ہیں. بعض کہتے ہیں کہ سی آئی اے اور خاص کر جارج بش کو ان حملوں کی خبر تھی اور بعض اس واقع میں امریکہ کی  جاسوسی اور فوجی مشینری کی کمزوری  کی طرف اشارہ کرتے ہیں.

  بہر صورت القاعدہ کا یہ دہشت گردانہ اقدام کہ جو ایک قومی احتمال کی بنا پر امریکہ کی سی آئی اے کی مدد سے 11 ستمبر کے دن بہت سارے بے گناہوں کو مارنے کی خاطر انجام پایا جبکہ اس روز 400 یہودیوں کو پہلے سے خبر تھی اور وہ کام پر نہیں آئے  یہ افغانستان پر القاعدہ اور طالبان کے مرکز کے عنوان سے قبضے کا بہانہ بن گیا. اس طرح امریکی حکومت کو اپنا مقصد حاصل ہو گیا بعد میں اس نے یہی سلوک اپنے ہاتھوں کے پروردہ صدام کے ساتھ بھی روا رکھا اور کیمیکل ہتھیاروں کے بہانے جس کا جھوٹ ہونا بعد میں ثابت ہو گیا سال 2003 میں اس نے عراق پر قبضہ کیا.

 اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد القاعدہ امریکہ کا ایک مصنوعی دشمن ہے جسے اس نے مسلمان  نشین علاقوں میں بد  امنی پھیلانے کی خاطر بنایا ہے اور اپنی مخفیانہ سیاست کے ذریعے اس گروہ سے ضروری فائدہ اٹھا رہا ہے. دینا کے مختلف ملکوں کے مسلمان رفتہ رفتہ اس موضوع سے واقف ہو چکے ہیں کہ القاعدہ امریکہ کا پرودہ ہے اور اسکے ایجاد کرنے کا مقصد امریکہ کی  پالیسیوں اور اسکے منافع کو دنیا کے مختلف علاقوں میں مخفی رکھنے کے سوا اور کچھ نہیں. کچھ لوگ اشتباہ میں یہ سوچتے ہیں کہ القاعدہ  واقعی امریکہ کے خلاف برسر پیکار ہے لیکن حقیقت یہ ہے کے القاعدہ صرف یہ دکھا رہا ہے کہ وہ امریکہ کا دشمن ہے تاکہ شام لبنان پاکستان عراق افغانستان اور  تمام اسلامی ملکوں میں امریکہ کی پالسیوں کو عملی جامہ  پہنا سکے.

کیونکہ امریکہ  اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ علاقے میں ایک نئی چھاؤنی وجود میں لے آئے اسلئے کہ امریکی ثروت مندوں کی نظر میں مقصد مہم ہے وسیلہ چاہے جو بھی ہو. اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امریکہ نے عراق میں القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم داعش کو متحرک کیا ہے.

   داعش  کیا ہے ؟



داعش  یا " الدولہ الاسلامیہ فی العراق والشام " ایک دہشت گرد گروہ ہے جو عراق پر امریکی اور برطانوی فوجی قبضے کے آغاز میں ہی امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے معرض وجود میں لایا گیا. اس گروہ نے 2004 میں القاعدہ  کی حمایت  اور اسکے ساتھ اپنی وابستگی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوے دہشت گردانہ کاروائیاں تیز  کر دیں. یہ گروہ اب القاعدہ  عراق کے نام سے معروف ہے. 15 اکتوبر 2006 کو اس دہشت گرد ہ نے  امارت اسلامی عراق کے تحت تمام چھوٹے دہشت گرد گروہوں کو اپنے اندر ضم کر لیا. اس وقت  داعش میں بے شمار چھوٹے دہشت گرد گروہ بھی شامل ہو چکے ہیں.  اسی طرح عراق کے سابق آمر صدام حسین کے مخصوص  فوجی دستے جو " فدائیان صدام " کے نام سے جانے جاتے تھے بھی داعش   میں شامل ہو چکے ہیں. اس دہشت گرد گروہ کا مقصد عراق کے ایسے علاقوں میں خلافت اسلامی کا قیام تھا جہاں اہلسنت مسلمانوں کی اکثریت موجود ہے اور اسی طرح شام میں سرگرم حکومت مخالف تکفیری دہشت گرد گروہوں کو انسانی قوت فراہم کرنا تھا. 

داعش   کی وسیع پیمانے پر دہشت گردانہ سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک " قابل اطمینان مالی سپورٹ " سے مزین  ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا دہشت گرد گروہ جسکے سالانہ اخراجات ایک ملک کے بجٹ سے بھی زیادہ ہوں مسلسل  تین سالوں سے مختلف ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مصروف ہو؟


پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

جمعرات، 26 جون، 2014

یہ کیسا انقلاب ہے

 قائد انقلاب، علامہ، ڈاکٹر شیخ الاسلام، مسٹر کینیڈین جناب طاہر القادری صاحب جیسے جیسے  انکے القاب بدلتے ہیں اسی طرح جناب کے انقلاب کے رنگ بدلتے ہیں. جیسا لقب ویسی ٹوپی پہنتے ہیں یہ سرا سر بہروپیا پن ہے یہ تو میڈیا کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتے حقیقت میں انکو ذاتی پروجیکشن کا مالیخولیا ہے.



جنہوں نے انقلاب لانا ہوتا ہے وہ سہارے نہیں ڈھونڈتے اور جناب طاہر القادری پر جب سخت وقت آتا ہے تو سہارے ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں تو انقلاب خاک لانا ہے . ٹھیک کہا جناب خواجہ سعد رفیق نے کہ ڈاکٹر طاہر القادری لائسنس توپ کا مانگتے ہیں اور راضی پستول پر ہو جاتے ہیں. ایک طرف تو کہتے ہیں میں شہادت کا متلاشی ہوں تو دوسری طرف خوف  اتنا کہ کہیں واقعی شہادت نہ ہو جائے جناب اگر اسلام آباد اترتے تو اتنا لمبا سفر طے کرکے لاہور کیسے پہنچتے؟

 جبکہ حالت تو یہ تھی لاہور ائیرپورٹ سے چند کلومیٹر دور ماڈل ٹاؤن  پہنچنے کیلئے ترلے کرتے رہے اور سہارے ڈھونڈتے رہے اور سیکورٹی کا رونا روتے رہے کہیں فوج کو پکارتے رہے اور حال یہ ہے کہ اعتماد بھی کیا، تو حکومتی  شخصیت گورنر پنجاب چودھری محمد سرور  کی شخصیت  پر.

ایک طرف تو طاہر القادری  وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو ہٹلر  کہتے  نہیں تھکتے  جبکہ خود جناب اپنی طبیعت میں انتہا درجہ کا ہٹلر پن ہے. جب اسلام آباد میں دھرنا دیا تو مسٹر کنٹینر کے نام سے مشہور ہوئے، بچے عورتیں اور بوڑھے سردی میں ٹھٹھر رہے تھے اور جناب کے کنٹینر میں پسینے چھوٹ رہے تھے. اس وقت حکومت وقت کو یزیدی ، ظالم اور کیا کیا کہتے رہے اور اپنے آپ کو حسینی گردانتے رہے اور پھر  ظلم یہ کیا، جنکو قائد انقلاب یزیدی کہتے رہئے انہیں  کے ساتھ جپھیاں ڈالتے رہے اور معاہدہ کرکے انقلاب نے لاہور کی راہ لی بس انقلاب آتے آتے رہ گیا اور اندھیروں میں گم ہو گیا.

طاہر القادری خوابوں کے شہزادے بھی ہیں ، خواب ایسے نعوز باللہ گستاخی سے بھر پور کہتے ہیں-

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مجھے زندگی کی ایکسٹینشن لے کر دی ہے اور میری عمر 63 سال ہو گی، جناب طاہر القادری صاحب فروری 2014 میں 63 سال کے ہو چکے ہیں اورزندہ  پھر رہے ہیں یہ خواب جھوٹے یا جناب عالی خود جھوٹے ہیں؟


 بہت ہی بہتر ہوا جو پاک فوج نے طاہر القادری کی پکار پر توجہ نہ دی. کینیڈا کی شہریت ہے جناب کی تو بھلا توجہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟ طاہر القادری کو موت کا خوف اتنا کہ گورنر پنجاب جناب  چودھری محمد سرور مجھے بلٹ پروف گاڑی میں گھر تک چھوڑ کر آئیں یہ مطالبہ تو بچوں جیسا ہے عوام گولیاں کھائیں اور خون میں لت پت ہوں اور کڑکتی دھوپ میں گھنٹوں جھلستے رہیں اور قائد انقلاب جناب طاہر القادری بزنس کلاس میں سفر کریں اور خود گورنر کا پروٹوکول چاہیں شرم آنی چاہئے ایسی دورخی پر-

 جناب شیخ الاسلام صاحب توجہ کیجئے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جنگ خندق میں صحابہ  رضی الله عنھم کے ساتھ بھوک اور پیاس سے تھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے پیٹ پر دو پتھر باندھے تھے اور صحابہ کرام نے ایک ایک  یہ ہے اسوہ رسول الله  صلی الله علیہ وسلم. طاہر القادری پتہ نہیں کون سا اسلام چاہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں اسلامی انقلاب اور کبھی کہہ دیتے ہیں جمہوری انقلاب اصل میں طاہر القادری صاحب وہی انقلاب چاہتے ہیں جس میں طاہر القادری صاحب ملک کے سربراہ ہوں یہ ہے انقلاب!!

 لیکن یاد رہے اب عوام بہکاوے میں نہیں آنے والے بس آپکے زر  خرید  اور مریدین ہیں جو آپکی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں. خدارا ملک پاکستان پر ترس کھائیں اور ترقی کی منازل پر گامزن پاکستان کو اپنے حال پر چھوڑ کر کینیڈا کی راہ لیں یہی آپکے لیے اور پاکستان کی عوام کیلئے بہتر ہے. پاک فوج کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ضرب  عضب  آپریشن جاری ہے ان حالات میں ساری عوام پاک فوج کے ساتھ قدم با قدم ملائے کھڑی ہے. یہ وقت ہے اتحاد کا، الله تعالی انتشار سے بچائے اور پاکستان کو مان کا گہوارہ بنائے. آمین

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

منگل، 24 جون، 2014

عراق تباہی کے دہانے پر

عراق اس وقت تباہی اور تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہے. عراق میں سیکورٹی کی صورت حال بہت تشویش ناک ہے. پر تشدد کاروائیوں کو روکنا اب آسان نہیں رہا.



پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

سوموار، 23 جون، 2014

عالم اسلام میں نئی خلافت کا ظہور

 کیا عالم اسلام میں نیا دور خلافت دستک دے رہا ہے، کیا ایک جنگجو طاقت عالم اسلام کو دے گی خلافت  کا تحفہ. کیا عراق کی نئی جنگ کی کوکھ سے جنم لے گا نیا عالم اسلام. کیا یہ طوفان عالم اسلام کی سرحدوں کو مٹا دے گا. کیا عالم اسلام کا ایک نیا نقشہ دنیا کے سامنے آئے گا اور کیا عراق   سے اٹھے اس طوفان کو روک پانا ممکن ہو گا ؟


 عراق میں " اسلامک اسٹیٹ ان عراق اور شام " کی بغاوت للکار اور پیش قدمی نے   شام اور عراق میں تو کہرام برپا کر دیا ہے، مگر اسکے اثرات نے مشرق وسطیٰ بلکہ عالم اسلام کو سکتہ میں ڈال ہے ، کیونکہ اب تک مختلف جہادی گروپ خلافت کا نعرہ تو ضرور بلند کرتے تھے، مگر یہ نعرہ پروپیگنڈا مواد تک ہی محدود رہتا تھا. کوئی بھی طاقت نئے اسلامی ملک کی تشکیل اور خلافت کے نفاذ کیلئے فوجی پیش قدمی نہیں کر سکی تھی. یہ پہلا موقع ہے جب عالم اسلام میں مسلکی ناراضگی، بیزاری، مایوسی، غصہ اور نفرت کو آئی ایس آئی ایس نے کچھ اس طرح بھنایا ہے کہ عراق کی سانسیں تھم گئی ہیں. بغداد میں جان بچانے  کیلئے جان کی بازی لگانا ہی آخری راستہ نظر آرہا ہے.

 عراقی حکومت نے الله کے بجائے امریکا سے مدد مانگی، مگر امریکا بھی اب آنکھیں بند کرکے اس سرزمین میں چھلانگ لگانے کو تیار نہیں، جہاں سے نجات پانے میں اسے 8 سال لگ گئے تھے. یہی وجہ ہے کہ اب عراقی حکومت آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے بغداد میں ہتھیار ایسے بانٹ رہی ہے، گویا کوئی بزرگ بچوں کو کھلونے دے رہا ہو، مگر یہ عمل عراقی حکومت کو اپنی کمزوری اور آئی ایس آئی اس کی طاقت کا ثبوت دے رہا ہے، جس کی لاکھوں فوج چند ہزار جہادیوں کے سامنے بونی ثابت ہو گئی . حقیقت یہی ہے کہ عالم اسلام نے اب تک بہت سی جنگیں دیکھی ہیں، مختلف جنگجوؤں کا دیدار کیا ہے . بدترین دہشت گردی کا تجربہ کیا ہے، مگر آئی ایس آئی ایس کچھ خاص ہے. ایک عجیب و غریب طاقت جس نے دنیا کی سب سے بڑی جہادی طاقت القاعدہ کو انگوٹھا دکھا دیا اور القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو آئینہ. سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے ماضی کی غلطیوں سے سبق لیا اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایسی یلغار کی ہے، جس کو شام سے لیکر عراق تک سنی علاقوں میں مقامی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہو  رہی ہے اور جنگجو گروپ کے حوصلے اس قدر بلند کی جانب رواں دواں ہے. اب مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کر مان رہئے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس میں کچھ خاص ہے. اس بغاوت میں نیا جوش ہے، نئی طاقت ہے، نیا حوصلہ ہے اور نیا جذبہ ہے جو یقینا تباہی تو لائے گا، مگر اسکی کوکھ سے ایک نئے عالم اسلام کا ظہور ہو گا.


 آئی ایس آئی ایس نے عراق اور شام کے سنی علاقوں پر ایک اسلامی ملک کی تشکیل  کا خاکہ تیار کیا ہے اس میں ابوبکر بغدادی کا دماغ سب سے اہم ہے، جس نے عراق کی شیعہ حکومت کے سنیوں کے ساتھ امتیاز کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ بھنا لیا ہے اور آئی ایس آئی ایس نے اس یلغار سے قبل عراق کے قبائلی لیڈران کو اعتماد میں لیا، انکے ساتھ اتحاد کیا اور انہیں اس بغاوت  کا حصہ دار بنایا ہے، جس نے آئی ایس آئی ایس کو شام کی سرحد سے تکریت اور موصل  ہوتے ہوئے بغداد کا رخ کرنے  کا حوصلہ دیا ہے.  ابوبکر بغدادی اور عراقی سنیوں کے دلوں میں نوری المالکی  کیلئے یکساں نفرت ہے، جس کے سبب دونوں نے ہاتھ ملایا ہے ورنہ کسی ایک گروپ کیلئے عراق کے اتنے بڑے حصے پر قبضہ کرنا ممکن نہیں ہوتا. اس گروپ کو عراقی قبائلی لیڈران کی مدد مل رہی ہے. حقیقت یہ ہے کہ عراق کے قبائلی لیڈران کی حمایت کے سبب ہی آئی ایس آئی ایس  نے اس قسم کی پیش قدمی کی ہے. سب سے  اہم بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے، جس سے عراقی سنی مخالف ہو جائیں، جیسا کہ عراقی القاعدہ لیڈر  الزرقاوی کے ساتھ ہوا تھا، جس نے عراق میں اتنے بڑے خود کش دھماکے کرائے تھے کہ قبائلی ہی زرقاوی کے خلاف ہو گئے تھے اور " انبار بیداری " مہم کے سبب زرقاوی کا خاتمہ ہوا.کل جن قبائلی لیڈران نے آئی ایس آئی ایس کے بانی زرقاوی کی مخالفت کی تھی، اب ابوبکر بغدادی کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں . انبار کے عراقی قبائلی   زید ان الجباری کے مطابق آئی ایس آئی آئی نے زرقاوی دور کی غلطیوں سے سبق لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تنظیم کا واحد مقصد صرف سنیوں کو عراق کی شیعہ حکومت کے امتیاز اور عتاب سے بچانا ہے.

 سیاسی تجزیہ کاروں کا یہی خیال ہے کہ بہت ممکن ہے کہ امریکا مداخلت کرکے آئی ایس آئی ایس کو پچھاڑ دے یا پسپا کردے، مگر یہ سب کچھ عارضی ہو گا، کیونکہ عراق میں قبائلی لیڈران کی حمایت کے سبب آئی ایس آئی  کو دبانا بہت مشکل ہو گا. ایک مغربی انٹلی جنس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بیمار ہو سکتے ہیں، کمزور پڑ سکتے ہیں ، مگر ختم نہیں ہو سکتے. عراق کے قبائلی لیڈران بڑے صاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ اگر ابو بکر بغدادی نے مدد طلب کی اور اتحاد کی پیش کش کی تو ہم ضرور آگے بڑھیں گے، کیونکہ آئی ایس آئی ایس فی الحال وہی کر رہی ہے، جو  عراق کے سنی چاہتے ہیں،  ہم عراق میں آزادی چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پچھلے 6 ماہ سے جنگ لڑ رہے ہیں.

 جنوری میں جب آئی ایس آئی ایس نے فلوجہ پر قبضہ کیا تھا، تو ابوبکر بغدادی نے سب سے پہلے شہر کے قبائلی لیڈران کےساتھ رابطہ قائم کیا اور انہیں اعتماد میں لیا نہ کہ سیاہ و سفید پرچم لہرا دیا. دلچسپ بات تو یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے جہاں بھی قدم رکھا، سب سے پہلے علاقے میں فلاحی کام انجام دینے اور بچوں میں تلاوت کے مقابلے کرائے. کھانے کا سامان تقسیم کیا. دوائیں مہیا کرائیں اور ایندھن سپلائی کیا. آئی ایس  آئی  کی اس نئی تصویر نے عراق کے سنیوں کے دلوں میں گھر کر لیا اور اب یہی حمایت آئی ایس آئی ایس کو ایک نئے اسلامی ملک کی تشکیل کا حوصلہ دے رہی ہے.

 عراق کے سنیوں اور آئی ایس آئی ایس میں صرف ایک یکسانیت ہے کہ  دونوں کے دلوں میں عراقی حکومت کیلئے بے پناہ نفرت ہے. اس نفرت نے عراقی قبائلی لیڈران کو آئی ایس آئی ایس کی یلغار  نے دنیا کے سامنے جنگجوؤں کا ایک خوفناک چہرہ  لا دیا ہے، جو بہت سخت گیر  اور بے رحم ہے، جس کے جہادیوں نے تقریبا دو ہزار عراقی فوجیوں کا قتل عام کیا مگر آئی ایس آئی ایس کی ویب سائٹ پر تنظیم پر تنظیم کے فلاحی کاموں کی تشہیر کی جاتی ہے، جس میں جہادیوں کو غربا میں کھانا اور گرم کپڑے و بستر تقسیم کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے. جہاں آئی ایس آئی ایس نے قبضہ کیا ہے ان علاقوں میں شریعت کا نفاذ ہوا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ عراق کے قبائلی لیڈران ان کا کچھ یوں کہنا ہے کہ " ہم ایک اسلامی ملک کا حصہ ہیں، مگر ہم ایک ترقی پسند اسلامی ملک بننا پسند کریں گے، تاکہ ہم دنیا  کا حصہ ہوں، قومی دھارے میں شامل ہوں، ہمیں یقین ہے کہ ابو بکر بغدادی عراق میں شریعت نافذ کرنے کی  ہمت نہیں کریں گے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قبائلی لیڈر اسکو  برداشت نہیں کریں گے.

اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عراق کے سنی علاقوں میں آئی ایس آئی ایس کو حمایت تو حاصل ہے، مگر اسکی بنیاد  مسلکی نفرت ہے اور اگر سنی علاقوں پر مشتمل ایک نئی طاقت کا ظہور ہوتا ہے تو آئی ایس آئی ایس کو درمیانی راستہ اختیار کرنا ہو گا، تاکہ عراق کے طاقتور قبائلی اسکے ساتھ رہیں اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر جو حشر الزرقاوی  کا ہوا، وہ ابوبکر بغدادی کا ہو سکتا ہے.

 آئی ایس آئی ایس کے جہاد نے مشرق وسطیٰ سے لیکر مغرب تک ایسا خوف پیدا کیا ہے کہ کوئی دوست دشمن  منظر آنے لگا ہے تو کوئی دشمن دوست. عراق میں حالات بے قابو ہوتے دیکھ کر اب امریکا نے ایران سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کیلئے براہراست بات چیت پر غور و خوص شروع کر دیا ہے. کل تک جس ملک پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے سنگین الزامات عائد کرکے اسکا دانا پانی بند کرنے کو انسانی خدمت کا نام دیا جاتا تھا، اب اوبامہ انتظامیہ اسی ایران سے عراق میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نسخہ مانگ رہی ہے. شاید اس لئے کہ امریکا کو عالم اسلام میں اپنے پرانے دوست سعودی عرب، کویت اور قطر اب ناقابل اعتماد نظر آرہے ہیں ، کیونکہ آئی ایس آئی ایس ہو یا بوکو حرام سب کے پیچھے عرب طاقتوں کا ہاتھ اور دماغ ہے. اب ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکا چاہئے گا، تو عراق کے مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہیں، مگر اب ایک بات واضح ہے  کہ آئی ایس آئی ایس نے جس بغاوت کا پرچم بلند کیا ہے اسکا علاج طاقت ہے نہ فوج، کیونکہ  خود امریکا کے صدر بارک حسین اوبامہ نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جب تک عراقی حکومت بغاوت کا سبب بنے مسلکی امتیاز کا کوئی سیاسی حل پیش نہیں کرے گی تب تک امریکا فوجی کاروائی کرنے پر غور نہیں کرے گا. اوبامہ نے اس بات کو محسوس کر لیا ہے کہ عراقی حکومت کے مسلکی  امتیاز نے آئی ایس آئی ایس کو پیدا کیا ہے اور مشرقی  وسطی میں مسلکی ٹکراؤ کے سبب ہی آئی ایس آئی ایس کو کویت ، قطراور سعودی عرب سے بھر پور ،مالی امداد مل رہی ہے حالانکہ تینوں ملک  دہشت  گردی مخالف جنگ میں امریکا کے سب سے بڑے حلیف ہیں مگر سوال ہے مسلکی دبدبہ اور غلبہ کا جس نے سب کو دوہرا کھیل کھیلنے پر مجبور کر دیا ہے. ایران اور شام کے سبب عرب ممالک نے آئی ایس آئی ایس  کی پشت پناہی کی اور عراق سے شام تک سنی خطے میں ایک نئے ملک کی تشکیل کا حوصلہ دیا، مگر اب یہ کھیل ایک ایسا موڑ لے چکا ہے، جس نے سب کو دنگ کر دیا ہے. کویت نے آئی ایس آئی ایس کو سب سے زیادہ عطیات دیئے مگر تنظیم نے عراق میں صدام  حسین  کا جانشین تلاش  کر رہا ہے.

سچ یہ ہے کہ عراق کے شیعوں میں نوری المالکی اب مقبولیت گنوا چکے ہیں. بدعنوانیوں اور تانا شاہی کے سبب شیعہ نوری المالکی کا  ساتھ چھوڑ رہئے  ہیں. یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل انہوں نے یہ مسلکی شوشہ یا فتنہ پھیلا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کہ قبلہ رخ مکہ نہیں بلکہ کربلہ ہونا چاہئے. صدام حسین کے بعد عراق کا یہ انجام کسی کیلئے حیران کن نہیں، کیونکہ 2003 میں جنگ عراق کا آغاز بش کے اس ناپاک پلان کے تحت ہوا تھا کہ عراق کے تین ٹکرے ہوں اور عالم اسلام کا شیرازہ بکھر جائے جیسا اب ہوتا نظر آرہا ہے.

 امریکا اس بات کو سمجھ رہا ہے کہ جنگ عراق سے مشرق وسطیٰ میں جو آتش فشاں پیدا ہوا تھا اب خلافت تحریک کے ساتھ پھٹ پڑا  ہےعالم اسلام میں طاقت کے بدلتے توازن نے شدت پسندی کا طوفان  کھڑا کر دیا ہے اور اب شام، عراق، لیبیا، ترکی، مصر سے لیکر صومالیہ سوڈان، نائیجریا سے الجزائر تک ایسے جہادی گروپوں کو ابھرنے کا موقع دیا ہے، جنہیں عالم عرب سے زبردست حمایت حاصل ہے کل تک یہ گروپ صرف شدت پسندی کے علمبردار تھے اب یہ حکمرانی کے دعویدار ہیں. نئی سرحدیں بنانے کیلئے پرعزم ہیں. نقشہ بدلنے پر اڑے ہوئے ہیں اور سب سے نازک بات یہ ہے کہ مختلف ممالک میں اب ان نظریات کو مقبولیت اور حمایت مل رہی ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ اب امریکا  کے وہ بڑے دماغ جو کل تک صدام حسین کے فاتح کو عراق کا سب  سے بڑا  مسئلہ حل ہونا مان رہئے تھے، اب کہہ رہے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال  مسئلہ کا حل نہیں. اوبامہ انتظامیہ سمجھ رہی ہے کہ آسمان سے بم برسانے سے زمینی حقیقت نہیں بدل سکتی ہے. اس مسئلے کی بنیاد بغداد میں برسر اقتدار  شیعہ قیادت ہے، جس سے مسلکی امتیاز برتنے سے سنی جہاد کا ظہور  ہوا. اب ان بڑے گروپوں کو بڑے عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے اور امریکا کے سامنے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عرب  ممالک دہشت گردی مخالف جنگ  میں اسکے حلیف ہیں، مگر اب جو تصویر سامنے ہے. اس نے اچھے اچھوں کے  طوطے اڑا دیئے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ اگر  زمینی صورت حال نہیں بدلی جا سکی تو آئی ایس آئی ایس کا خلافت قائم کرنے کا خواب پورا ہو جائے گا. امریکا ہو یا عراقی حکومت اس کیلئے آئی ایس آئی ایس ایک ٹیڑھی کھیر بن گیا ہے. یہ سزا ہے امریکا کیلئے  جس  نے چھوٹے جواز بشمول مہلک ترین ہتھیار اور القاعدہ سے ساز باز کے نام پر عراق پر حملہ کیا تھا. یہ سزا ہے عراقی حکومت کیلئے جس نے بغداد میں اقتدار حاصل ہونے کے بعد وہی کیا، جس کا الزام صدام حسین پر عائد کیا جاتا تھا. اب عالم اسلام میں کوئی بغداد میں خلافت کے خوف سے تھرا رہا ہے، تو کوئی خوشی منا رہا ہے.

________________________________________________________
پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

اتوار، 22 جون، 2014

آپریشن ضرب عضب اور امن و سکون کی قومی خواہش


 ملک میں گزشتہ بارہ تیرا سال کے عرصے میں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے پاکستانی فورسز کے جوانوں اور عام شہریوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہو چکی ہے اور ملی نقصان ایک کھرب سے بڑھ چکا ہے. ایسے سنگین حالات کے باوجود اگر اب بھی کوئی فرد یا جماعت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی راہ دکھاتی  اور مذاکرات پر ہی اصرار کرتی ہے تو اسے ملک کا بہی خواہ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟



 کئی عشروں سے جاری سفاکانہ دہشت گردی نے ملک میں بہت خون بہا دیا ہے. امن و امان بدامنی کے گرداب میں ڈوب رہا ہے قومی معیشت سرمایہ کاری کا عمل رکنے سے پستی میں ہچکولے کھا رہی ہے. دہشت گردی کا عفریت ہزاروں پاکستانیوں کو نگل چکا ہے. اربوں کے مالی نقصان کا ملک و قوم کو سامنا ہے جبکہ ان   تمام نقصانات و فتنہ سازیوں کے باوجود طالبان آج بھی دھمکیاں دے رہئے ہیں کہ ہمارے خلاف جاری آپریشن اسلام آباد و لاہور میں حکومتی ایوانوں کو جلا دے گا جبکہ نواز شریف کا یہ کہنا بھی قابل غور ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے. وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے تک شدت پسندوں کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے تاکہ حالیہ آپریشن ہمارے خوابوں کی تعبیر کا پیش خیمہ ثابت ہو سکے.

 یہ حقائق کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ بارہ تیرہ سال کے عرصے میں دہشت گردی بھینٹ چڑھنے والے پاکستانی فورسز کے جوانوں اور عام شہریوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہو چکی ہے اور مالی نقصان ایک کھرب سے بڑھ چکا ہے. ایسے سنگین حالات کے باوجود اگر اب بھی کوئی فرد یا جماعت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی راہ دکھاتی اور مذاکرات پر ہی اصرار کرتی ہے تو اسے ملک کا بہی خواہ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس بات کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف جو بغیر خون خرابے کے ملک میں قیام امن کیلئے حکومت  طالبان مذاکرات کے خود بہت بڑے حامی تھے، یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ مذاکرات کی بھرپور کوششیں کی گئیں مگر دہشت گرد ملک میں قیام امن کیلئے کسی نرمی یا رعایت کو خاطر میں نہ لائے.وقت آگیا کہ اب دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے اور ملک و قوم کے مستقبل کو پرامن بنانے کیلئے ہر ممکن کیے جائیں.


 گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپریشن ضرب  عضب   حتمی مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا. پوری قوم کو اپنی مسلح افواج کا ساتھ دینا ہو گا. ہم کسی قیمت پر ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے. انہوں نے کہا  کہ ہم مذاکرات کر رہے تھے مگر دوران مذاکرات بھی دہشت گردوں نے ملکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھا اور پھر کراچی ائیرپورٹ پر حملے کے بعد مشاورت سے آپریشن ضرب عضب  کا فیصلہ کیا گیا. تاہم اب ہر قیمت پر دہشت گردی کا خاتمہ کرکے رہیں گے. وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن سے متاثرہ افراد کیلئے خصوصی سینٹر قائم کر دیئے ہیں اور ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے سرنڈر یونٹس کا  قیام عمل میں لایا گیا ہے.

 وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے پوری قوم کو فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کی استدعا اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے. تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قوم ہمیشہ کی طرح اپنی بہادر فوج کے ساتھ ہے. آج جبکہ  قومی سلامتی خدشات کی زد میں ہے فوج  اور قوم ملکی سالمیت کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہے. دراصل شمالی وزیرستان میں آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا. حکومت کو آپریشن ضرب  عضب   میں ملک کی ان سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے جو حکومت سے اختلاف رکھتی ہیں اور ان سیاسی جماعتوں میں  تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی  جماعتیں شامل ہیں. ملک کے سیاسی و مذہبی حلقوں کے ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ کہنا بھی قابل غور ہے کہ غیر ریاستی عناصر کا  سفاکانہ طرز عمل اسلام کے تشخص کو مجروح کرنے کا موجب بن رہا ہے. دوسری طرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب  عضب    کا مقصد شمالی وزیرستان میں موجود تمام دہشت گردوں کا صفایا   کرنا ہے. ہمارا ہدف صرف دہشت گرد ہیں اور ہمیں دہشت گردی کی لعنت سے نجات حاصل کرنا ہے. فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں اور آپریشن دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہے گا.

 انشاءاللہ جلد شمالی وزیرستان میں حکومتی رٹ قائم کر دیں گے. یہ امر اطمینان بخش ہے کہ حکومت نے ملک میں قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے عسکری قیادت کی ہم آہنگی سے بلآخر آپریشن ضرب عضب    جیسے غیر معمولی فیصلے پر عملدرآمد کیا اور قومی اسمبلی نے قبائلی علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی قراداد کثرت رائے سے منظور کی. پی پی، ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور قومی  وطن پارٹی نے قراداد کی حمایت میں باقاعدہ دستخط کیے. شمالی وزیرستان میں جاری اس آپریشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے احکامات شمالی وزیرستان سے ہی جاتے رہے ہیں اور ازبک سمیت متعدد غیر ملکی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بھی اس علاقے میں بتائی جاتی ہیں.

یہ اقتضائے وقت تھا کہ حکومت دہشت گردوں کی طرف سے جنگ کو پھیلانے کی دھمکیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی حتمی فیصلہ کرتی تاکہ دہشت گردی کی روک تھام ہو سکے. حکومت کی طرف سے ملک کے تمام بڑے شہروں میں فوج کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور حساس  تنصیبات پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے. حساس مقامات  کے گرد  تین حفاظتی حصار بھی قائم کر دیئے گئے ہیں. پہلے حصار میں پولیس دوسرے میں ایف سی  رینجرز اور تیسرے میں فوج کی تعیناتی کی گئی ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اور تمام تر قومی ادارے آپریشن ضرب عضب    کی کامیابی کیلئے متحد ہوں تاکہ دہشت گردی  کے اس طوفان پر قابو پایا جا سکے جس نے ہمیں نہ صرف ناقابل تلافی   جانی و مالی نقصان پہنچایا بلکہ ہماری معیشت کی چولیں بھی ہلا دی ہیں. خدا کرے آپریشن ضرب عضب   ہمارے خوابوں کی تعبیر کا پیش خیمہ ہی ثابت ہو.


جمعرات، 19 جون، 2014

آپریشن " ضرب عضب " قوم کی امنگوں کا ترجمان

شدت پسندی نے معاشرتی زندگی کو خوف کے حصار میں لے رکھا ہے اس سے پوری قوم نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے. دہشت گردی کی وارداتوں نے  کاروباری  مراکز اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو ایک طرح سے ختم  کرکے  رکھ دیا ہے.





  پاک فوج کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں  " ضرب  عضب  "  آپریشن کامیابی سے جاری ہے. فورسز کی جانب سے میر علی، میران شاہ اور دیگر علاقوں میں طیاروں سے بمباری کرکے شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباه کیا گیا اور انہیں گھیرے میں لیکر فرار ہونے کی کوشش ناکام بنائی جا رہی ہیں.  شدت پسندوں کی نقل و حرکت  روکنے کیلئے باقی ایجنسیوں سے سرحد کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے. آپریشن میں جیٹ طیاروں کے علاوہ جنگی ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں. افواج پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ پاک افغان سرحد کی مکمل طور پر  نگرانی کی جائے تاکہ یہ لوگ یہاں سے نکل کر افغانستان داخل نہ ہو سکیں. آئی ایس  پی آر کے مطابق ابتک ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی بڑی تعداد  ازبک دہشتگردوں کی بتائی جاتی ہے جو بیرونی اشاروں  پر پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی سازشوں میں ملوث ہیں.آپریشن کے دوران ابتک دو سو سے زائد دہشت گرد  ہلاک جبکہ  پاک فوج کے متعدد جوان بھی شہید ہوئے ہیں.قبائلی علاقوں سے متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کر رہی ہے. بنوں میں پھچلے چار دن سے کرفیو نافذ ہے جسکی وجہ سے ہزراروں کی تعداد میں متاثرہ خاندانوں کو وہاں سے نکلنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

شمالی وزیرستان میں حالات کافی دیر سے  خراب تھے اور اس بات کی پختہ اطلاعات تھیں کہ ملک بھر کے مختلف شہروں و علاقوں میں والی دہشتگردی ، بم  دھماکوں اور خود کش حملوں میں  ملوث دہشت گرد انہی علاقوں میں پناہ  لیئے ہوئے ہیں. بھارت و امریکہ کی خفیہ اایجنسیوں نے یہاں وسیع نیٹ ورک رکھا ہے اور افواج پاکستان و سیکیورٹی اداروں پر حملے کرنے والوں کو ہر قسم   کے وسائل، جدید اسلحہ ، حساس مقامات کے نقشے اور دیگر معلومات فراہم کی جا رہی ہیں. شمالی وزیرستان میں موجود دہشت گردوں کی جانب سے افواج پاکستان کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے نتیجہ میں   بے پناہ نقصانات اٹھانا پڑے. قومی  املاک کو بار بار نشانہ بنایا جاتا رہا. ہزاروں کی تعداد  میں افواج پاکستان اور عام شہری جاں بحق ہوئے جس پر اگرچہ پاکستان کے مختلف طبقات کی طرف سے آپریشن کے مطالبات بڑھتے جا رہے تھے  مگر پاکستانی فوج اور حکومت کی جانب سے اس آپریشن سے گریز اور مذاکرات سے مسائل حل کرنے کی خواہشات کا اظہار کیا جاتا رہا. حکومت پاکستان کی جانب سے ایک اعلی سطحی مذاکراتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی اور طالبان سے مذاکرات کئے جاتے رہے کہ کسی طرح انہیں قومی دھارے میں لایا جائے تاکہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا اور پاکستانی امن و سکون سے رہ سکیں مگر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے. ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب ملک گیر تحریک چلائی گئی اور ملک کے کونے کونے میں جہاں حکومت پاکستان کو اس بات کا احساس دلایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت جو مسائل درپیش ہیں وہ ماضی میں کی گئی غلطیوں اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا نتیجہ ہیں وہیں پر اس بات کی طرف زور دیا جاتا رہا کہ حکومت اپنی غلطیوں  کی اصلاح کرتے ہوئے محب وطن قبائلیوں کو اعتماد میں لے اور طالبان سے مذاکرات و مفاہمت کا راستہ  اختیار کیا جائے لیکن جب بھی مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھنا شروع ہوئے امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے کرکے انہیں  سبوتاژ کیا جاتا رہا. بعدازاں ہم  نے دیکھا کہ بھارت و امریکہ کی  مداخلت اس قدر بڑھ گئی کہ امریکہ کو ڈرون حملے کی بھی خاص ضرورت نہیں رہی اور دہشت  گردوں نے مذاکرات کے بجائے قتل و غارت کا راستہ ہی اختیار کیا اور مذاکرات کو محض خود کو مظبوط کرنے کیلئے ہتھیار  کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی. 

 کراچی ائیرپورٹ پر جس طرح حملہ کیا گیا، سیکورٹی اداروں اور وہاں کھڑے طیاروں اور دیگر قومی املاک کو نشانہ بنا کر ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا اسکے بعد ملک بھر کی مذہبی ، سیاسی و سماجی تنظیموں اور قوم کے ہر طبقہ کا مطالبہ یہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں بھر پور آپریشن کرکے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے. اس وقت جب آپریشن شروع ہو چکا ہے تو اس بات کا ضرور خیال رکھا جانا چاہئے کہ قبائلی عوام  نے  ہمیشہ وطن عزیز کی سلامتی و استحکام کیلئے قربانیاں پیش کیں اور دفاع پاکستان کی جدوجہد میں  میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ہے. اس لئےآپریشن کے دوران محب وطن قبائلی عوام جن کا دہشت گردوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے انکے جان و مال کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے


پنجاب پولیس کی ایکشن فلم " گلو بٹ "

 تاریخ اسلام کا دیا ہوا سبق اور بتایا ہوا، اٹل حصول ہے کہ دنیا کے حکمران اس وقت تک اپنے اقتدار کے تخت پر برانجمان رہتے جب تک وہ سچائی، صداقت اور اضافی فلاح کے جذبہ سے سرشار ہوکر مصروف رہتے ہیں. جو حکمران انسانی حقوق کی پامالی کا مظاہرہ اور لاقونیت کے اقتدار سے اپنے رعایا کی زندگیوں کے چراغ گل کرتے ہیں وہ تخت اقتدار سے نہ صرف اتار دیئے جاتے ہیں  بلکہ انہیں قدرت نشان عبرت بھی بناء دیتی ہے.



 سانحہ لاہور جہاں پولیس کی بربریت، جبر و تشدد کا عکاس دکھائی دیتا ہے وہاں تاریخ کا سیاہ  ترین باب بھی قرار پائے گا جمہوری دور میں  آمریت کی یاد تازہ کر دی گئی معصوم شہریوں کو جس بے دردی سے مارا گیا اسکی مثال نہیں ملتی اس واقعہ کا پیش منہاج القرآن سیکرٹریٹ سے پولیس کا ، روکاوٹیں  اٹھانا قرار پایا جسکی آڑ میں پولیس نے ظلم کی انتہا کر دی اور دو خواتین سمیت 8 افراد کی جان لے ڈالی اس دل سوز واقعہ پر انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے اور پوری قوم اسکی مذمت کر رہی ہے. یہ ریاستی تشدد ہے یا سازش اسباب کون تلاش کرے گا. پنجاب  حکومت 15 گھنٹے یہ تماشا دیکھتی رہی پولیس کو کنٹرول کیوں نہ کیا گیا اور یہ معصوم شہریوں کو قتل کرتی رہی ظلم ڈھاتی رہی خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر گھسیٹی رہی یہ ریاستی تشدد نہیں تو پھر اسکو کیا کہا جائے پولیس کو یہ حکم کس  نے دیا اور گولی کیوں چلی پرامن طریقے سے کارکنوں کو منتشر کیوں نہیں کیا گیا.

یہ سوال ہر کس و نا کس کی زبان پر ہے پولیس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرے . جرائم اور کرائم کو روکے، امن و امان قائم رکھے لوگوں کو تحفظ دے لیکن ہماری مثالی پولیس کا یہ کمال ہے کہ یہ جانوں کی حفاظت کرنے کے بجائے جانوں کی دشمن قرار پائی جس سے ملک بھر میں ایک سوگوار کیفیت دیکھنے میں آرہی ہے. پنجاب میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے  کالعدم تنظیموں کے کارکن بدامنی کا موجب بن رہئے ہیں، کچہریوں میں وکلاء کو قتل کیا جا رہا ہے معزز اور شریف لوگوں کے گھروں کو جلانے کے بھی شرمناک واقعات آن ریکارڈ ہیں. سینکڑوں اشتہاری لوگوں کیلئے پریشانی کا موجب بنے دندناتے پھر رہے ہیں پولیس انکو پکڑنے میں ناکام ہے پولیس جرائم کم کرنے میں ناکام ہے پولیس مال بناؤ اور قدم آگے بڑھاؤ کی پالیسی پر ہے جس سے تھانے، قصاب خانے بنے نظر آرہے ہیں.


وزیراعلیٰ پولیس کو عوام کا خادم بنانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے . سانحہ لاہور نے انکے دعوؤں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے. ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر مجھے یا میرے خاندان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار شریف برادران ہوں گے. ملک بھر میں پولیس گردی کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے دھرنے دیئے جا رہے ہیں اور اس دل خراش واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے . متحدہ قومی موومنٹ اور سنی تحریک نے طاہر القادری اور عوامی تحریک کے کارکنوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تین سوگ کا اعلان کیا ہے. سانحہ لاہور کی اندرونی کہانی کی کڑی صوبائی وزیر قانون رانا ثنا الله سے جا ملتی ھے. جنہوں نے ضلعی انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود مزاحمت کاروں کو سبق سکھانے کا حکم دیا اور اس سارے معاملے میں وزیراعلیٰ کو بے خبر رکھا پولیس ذرائع نے دعوی کیا ہے چند روز پہلے صوبائی دارلحکومت  میں ہونے والی میٹنگ میں رانا ثنا الله نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں کاروائی کریں تاہم کمشنر لاہور نے کاروائی کی مخالفت کرتے ہوئے آپریشن میں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن رانا بضد رہے اور جسکے نتیجے میں 8 افراد مارے گئے 90 زخمی ہوئے.


 ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی سے حکومت کے وزراء اتنے خوف زدہ ہیں کہ وہ قانون شکنی پر اتر آئے ہیں. امن و سلامتی کی بجائے تشدد کی سیاست پر اتر آئے ہیں یہ سانحہ نادان سوچ کی غمازی ہے جس نے تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کیا ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے حکومت کی بدنامی رسوائی کا موجب یہ سانحہ قرار پایا اور اسکے منفی اثرات مرتب ہوں گے. یہ  سانحہ ظلم و جبر کی داستان بنکر ایک انقلابی سوچ کو جنم دے گا سیاست میں رواداری کا ہونا ضروری ہوتا ہے جبر سے نہ کسی جماعت کو دبایا جا سکتا ہے نہ کسی لیڈر کو جھکایا جا سکتا ہے. طاہر القادری قوم کا سرمایہ ہیں اور عوام کی نگاہیں انکی طرف لگی ہوئی ہیں  جمہوریت کے دعویدار عوام کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہے ہیں. پولیس جرائم  پیشہ افراد کو پکڑنے اور جرائم روکنے میں ناکام ہے، تھانے درلآمن کب بنیں گے کب لوگوں کو تحفظ ملے گا کب جان و مال کی حفاظت ہو گی کب لاشوں کی سیاست سے چھٹکارا ملے گا.

 یہ سوال حکومت کیلئے توجہ طلب ہے اس واقعہ کی غیر جانبداری انکوائری اور ملوث افراد  کو قرار واقعی سزا ہی انکے بہاتے آنسوؤں کو روک سکتی ہے اس آگ کو انصاف ٹھنڈا کر سکتا ہے اگر اسطرح خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی تو پھر امن کا قیام نا ممکن  جائے  ، حکومت ہوش کے  ناخن لے اور سیاست میں انتقام کی روایت ختم کرے، جمہوریت میں جلسے، جلوس، مظاہرے ہوتے رہئے ہیں مخالفین کو دبانے جھکانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتے ہیں اس سانحہ میں (ن) لیگ کے کارکن گلو بٹ کے غنڈے گردی بھی نمایاں دکھائی دی جو ڈنڈے سے گاڑیوں کے شیشے توڑنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا پایا گیا عوامی تحریک کے کارکنوں پر پولیس کے وحشیانہ تشدد نے حکومتی ساکھ کو جہاں متاثر کیا وہاں وقار کو مجروح کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، بنائے عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے ملک میں اس وقت دہشت گردی کے سائے منڈ لا رہے ہیں. بدامنی کا دور دورہ ہے پولیس شہریوں کو مار کر آخر کیا کارنامہ انجام دینا چاہتی ہے اس واقعہ کے ذمہ دار کون ہیں انکو بے نقاب کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے .


بدھ، 18 جون، 2014

سانحہ ماڈل ٹاؤن اور پولیس کا دیوالیہ پن

پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارلحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہو گئے.





 پنجاب پولیس نے منہاج القرآن سیکرٹریٹ پر شاید یہ سوچ کر اس قدر بہیمانہ حملہ کیا کہ وہ بھی شمالی وزیرستان کی کوئی آما جگاہ تھی. نوجوان طالب علموں، خواتین اور باریش بزرگوں کو جس سلوک کا نشانہ بنایا گیا منتقم مزاجی کے زمرے میں ہی آئے گا.


پاکستان اپنی تاریخ کی اہم ترین جنگ لڑ رہا ہے. پوری قوم اس جنگ میں شریک ہے. اس وقت قوم کے اتحاد اور فکری یکجہتی کی ایسی ضرورت ہے جیسی تحریک پاکستان پاکستان کے دوران دیکھنے میں آئی تھی. یہ وقت ہے ذاتی سیاسی اور گروہی اختلافات ختم کرکے ایک قوم بننے اور ایک جذبے کے اظہار کا. ہم دہشت گردی کو ہرگز قبول نہیں کرتے. دہشت گردی سے اپنے ناپاک مقاصد پورے کرنے والوں کے مقابل ہم عزم و ہمت کی چٹان ہیں. پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام دہشت گردوں کے اس گروہ کو اپنی زندگی، اپنے معاشرے اور اپنی ثقافت سے کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے. جنکا اس زمین کے ساتھ کوئی تاریخی اور جذباتی تعلق ہی نہیں ہے. پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اس معاشرے کی تشکیل کیلئے بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں جو جمہوری اور آئینی روشن خیالی کے جذبوں پر تعمیر کیا جائے گا. فرقہ پرست اور اذیت پسند قوتیں ہمارے معاشرے پر کبھی غالب نہ آئیں گی. یہ فیصلہ ہے پاکستان کے شہریوں کا اور یہ فیصلہ لاگو ہو کر رہے گا. مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ چھ سال آپریشن کی مخالفت کی. وہ سوات میں فوجی آپریشن کے حق میں بھی نہیں تھی لیکن پیپلز پارٹی نے آپریشن کیا اور کامیاب کیا.

گزشتہ ایک سال کے واقعات کے بعد جب پانی اور آگ دونوں سر سے گزر گئے تو مسلم لیگ (ن) کو چاروناچار آپریشن کا فیصلہ کرنا پڑا.  اس وقت پوری قوم آپریشن کے حق میں ہے لیکن ایسی صورتحال میں جب قوم متحد ہو رہی ہے. پنجاب حکومت نے ایک بے معنی جھگڑا شروع کروادیا ہے. عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر پر دھاوا بول دیا گیا ہے. دھاوا تو دراصل ان رکاوٹوں پر بولا گیا جو آنے جانے والے راہگیروں اور وہاں رہائش پذیر لوگوں کیلئے مشکلات کا  موجب بن رہی تھی.  لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ ن لیگ کی قیادت  علامہ صاحب سے واقف نہیں تھی؟ مسئلہ صرف وہاں کے مکینوں کی تکالیف کا ہے مگر پروفیسر صاحب اسے عالم اسلام کیلئے انقلاب  کے راستے میں رکاوٹ قرار دے سکتے ہیں. دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا چوتھا دور ہے. ابھی دو روز قبل پاکستان  کے وزیراعظم نے قوم کو اعتماد میں لیا ہے. اس وقت پاکستان کے کسی شہر اور قصبے میں کسی قسم کے مظاہروں اور احتجاج کی ضرورت نہیں تھی. اگر پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ راستہ کئی سال سے بند کیا ہوا تھا تو چند ہفتے اور گزر جانے سے کیا فرق پڑتا تھا.

مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر عموما یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ دشمنی کو پروان چڑھانے اور مخالفوں سے بدلا لینے میں یکتا ہے لیکن شیخ   الاسلام کے راستے سے رکاوٹیں ہٹا کر اچھا کام نہیں کیا. انہوں نے ان کالم نگاروں کی بات مان لی جنہوں نے تمام زندگی نہ کبھی سیاست کی اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے فکری تربیت حاصل کی، محض اقتدار کیلئے قصیدہ خوانی ہی کو  سیاسی   تدبر سمجھا. ڈاکٹر صاحب کو آنے دیجئے حکومت کو فرق نہیں پڑے گا. البتہ اس وقت قوم کی توجہ کسی دوسری جانب  مبذول کروانا ضرب  عضب  کی اہمیت کو کم کرنے مترادف ضرور ہو گا. 

منگل، 17 جون، 2014

ضرب عضب پاکستان کے وجود کی جنگ

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے آئین کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے دہشت گردی سے الگ ہونے کا اعلان کریں. غیر ملکی دہشت گردوں کو ملک سے صاف  کرنے کیلئے افواج پاکستان کا ساتھ دیں اور اس امر پر پوری توجہ  مبذول کریں کہ پاکستانی فوج انہیں مکمل اور بھر پور شکست دینے کی صلاحیت  رکھتی ہے. حکومت نے مجبورا ہی سہی اس آخری آپشن کو اختیار کیا ہے تو اب اسے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ عمل جاری رکھنا ہو گا.



 وہ کونسا نظریہ ہے جو دہشت گردی اور ملک کے خلاف تخریب کاری کا سبق دیتا ہے. اپنے ملک کی سر زمین کو دشمن کی سرزمین قرار دیتا ہے. ریاست کے  خلاف انقلاب کی جنگ ملک کے خلاف نہیں ہوتی اور ملک کے خلاف جنگ عوام کیلئے نہیں ہوتی. ضیاالحق کی آمریت نے پوری دنیا کے جرائم پیشہ، فرقہ پرست، دہشت گرد اور تخریب کار اس ملک کے اس حصّے میں اکھٹے کیے جس کی سرحد ابھی تک متنازعہ ہے.  افغانستان نے ڈیورنڈ لائن کو ابھی تک قبول نہیں کیا. اس کے دعوے ہماری زمین پر ہیں اور ضیاالحق نے اپنے ناپاک اور آئین دشمن مفادات کیلئے اس زمین کو استعمال کیا. ہر قسم کا شر پسند مذہب کے نام پر اکٹھا کیا. ضیاالحق کو تو صرف آئین اور جمہوریت سے دشمنی تھی اور ضیاء کی یہ دشمنی آخرکار پاکستان  دشمن طاقتوں کی قوت بن گئی.

 عمران خان، جماعت اسلامی اور ہمارے تزویراتی اثاثے اس پر نہ صرف خاموش تھے بلکہ درپردہ سوات میں ظلم اور بربریت  کا راج قائم کرنے والوں کی دبی زبان میں حمایت بھی کر رہئے تھے لیکن اس کا علاج صرف ایک ہی تھا اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت نے وقت ضائع کیے بغیر یہ فیصلہ کیا کہ سوات کو فوجی آپریشن کے ذریعے ہی آزاد کروایا جا سکتا ہے. طالبان دہشت گردوں نے پاکستانی قوم کی خون اور پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والی دفاعی قوت اور تنصیبات کو نشانہ بنایا. پاکستانی قوم کے شہریوں اور فوجیوں  پر بے دریغ حملے کیے. نہ کسی ہسپتال کو چھوڑا، نہ مدرسے کو اور نہ ہی مسجد کو، بازاروں اور شہروں کولہولہان کر دیا.


عمران خان جیسے تبدیلی کے  کپتانوں نے اس خونریزی کی حمایت کی  اور بار بار کی. بنوں جیل پر حملہ ہوا، عمران خان کی زیر حکومت صوبے ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل توڑی گئی. تحریک انصاف کے وزیر اور اراکین اسمبلی قتل کیے گئے لیکن کپتان دہشت گردوں سے مزاکرات کا واویلا کرتا رہا. ان دہشت گردوں نے انسانی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹے اور انکی ویڈیو بناکر ہمیں پیش کر دی.  جن ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں، بیویوں اور بچوں نے اپنے پیاروں کے  گلے کٹتے دیکھے ہوں گے وہ تمام زندگی اس اذیت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتے اور ہمارا کپتان شاہد الله شاہد کے بیانات کی تائید کرتا رہا. اس درندگی کی حمایت کرتا رہا جسے دیکھ کر ہر انسان کی روح زخم خوردہ ہو جاتی ہے لیکن بنی گالہ کا مقیم اپنی ایکٹروں پر پھیلی ہوئی اسٹیٹ میں ان خون آشام واقعات کی صفائی پیش کرنے میں مصروف رہا
 
 ہمارا وزیر داخلہ بھی اس کا ہمنوا تھا. چاروں طرف مذاکرات مذاکرات کی آوازیں آرہی تھیں. اے این پی  متحدہ قومی مومنٹ اور پی پی پی بار بار کہہ رہی تھیں انکا علاج صرف اور صرف آپریشن ہے اور وہ بھی مکمل فتح تک. دہشت گردی کے آخری  ہاتھ کے قلم ہونے تک آپریشن جاری رہے . پاکباز کالم نگار آپریشن کے حامیوں کو ملک اور قوم کا دشمن قرار دے رہے تھے. مسلم لیگ (ن) کی حکومت کیلئے یہ کڑا وقت تھا. ایک طرف دہشت گردی بڑھ رہی تھی، لوڈشیڈانگ نے عوام کی زندگی دو بھر کر دی تھی اور کچھ بھی ہاتھ میں نہ تھا. صرف مذاکرات سے امیدیں وابستہ تھیں اور پھر کراچی ائیرپورٹ کا واقعہ ہوا، جس میں طالبان کے غیر ملکی ساتھیوں نے حصہ لیا  تاکہ پاکستان پوری دنیا سے کٹ جائے. غیر  ملکی پروازیں پاکستان آنا بند ہو جایئں. یہ پاکستان کی معیشت پر ایک کاری وار تھا. آخر کار مصلحت پر حقائق غالب آگئے. پاکستان کی قومی  سیاسی قیادت نے صحیح فیصلہ کیا کہ اب  دہشت گردوں سے اسی زبان میں گفتگو کی جائے جو زبان وہ سمجھتے ہیں اور آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا. اگرچہ یہ جنگ چند روز کی نہیں اسکے باوجود منزل کی طرف اٹھا ہوا صحیح قدم ہی انسان کو منزل کے قریب کرتا ہے. پوری قوم نے اس آپریشن کی حمایت کردی ہے اور مجھے یقین ہے کہ قوم اس جنگ میں جو پاکستان کے وجود اور مستقبل کی جنگ ہے فتح یاب ہو گی اور ہم ایک جمہوری معاشرے کے فیوض سے بہرہ ور ہونگے.