Video Widget

« »
الطاف حسین کراچی ایم کیو ایم لندن منی لانڈرنگ جنگ نیوز دنیا نیوز نواے وقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
الطاف حسین کراچی ایم کیو ایم لندن منی لانڈرنگ جنگ نیوز دنیا نیوز نواے وقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 9 جون، 2014

فطرت کا تقاضا

 اپنے تیور  تو سنبھا لو  کہیں کوئی یہ نہ کہئے
رت بدلتی  ہے تو لہجے  بھی بدل  جاتے   ہیں



 یہ  شعر ایم کیو ایم کے موجودہ حالات کے حوالہ سے بعض اینکر پرسنز، صحافیوں اور دانشوروں کے موجودہ طرز عمل، غیر  پیشہ وارانہ انداز گفتگو اور ایم کیو ایم سے انکی نفرتوں کے انداز پر پورا اترتا ہے،   ایم کیو ایم پر آزمائش کا مرحلہ آتے ہی صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض دوستوں کے لب و لہجے ، انداز تخاطب اور تیوریوں پر پڑے بل دیکھ کر مذکورہ  شعر  تحت الشعور سے شعور میں آگیا، خامیاں اور خوبیاں انسانی فطرت کا حصہ ہوتی ہیں اور فطرت کا تقاضا ہے کہ فطرت کا اظہار کیا جائے لیکن بعض یاران چمن آج بھی یہ سمجھ رہئے ہیں کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو سانپوں کی فطرت کا اندازہ نہیں ہے، حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ڈسنا، پلٹنا اور پلٹ کر وار کرنا سانپوں کی فطرت ہے اور یہ فطرت سنپولوں اور سنپولیوں میں بھی بقدر جثہ موجود ہوتی ہے

ایک وقت تھا جب مفادات کے غلام.... خواھشات کے اسیر... نام و نمود  کے شیدائی... ٹی آر پی میں اضافے کے تمنائی... اور ابن الوقت قسم کے بعض صحافی، دانشور، کالم نگار اور اینکر پرسنز قائد تحریک جناب  الطاف حسین سے بات کرنا، ان سے  انٹرویو کی خواہش کرنا، ملاقات کرنا اور انکے ہمراہ فوٹو بنوانا اپنے لیئے فخر تصور کیا کرتے تھے، یہ معزز و محترم حضرات اور آزادی صحافت کے علمبردار ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کی منفرد سیاسی جدوجہد،  فکر و فلسفہ اور اس جدوجہد کی راہ میں انگنت قربانیوں کا تذکرہ کرتے  نہیں تھکتے تھے، فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف  حقیقت و عملیت پسندی  کے فکر و فلسفہ اور پاکستان  کی روایتی سیاسی تاریخ میں پہلی بار غریب و متوسط طبقہ کی قیادت کو، وطن عزیز کے ہر مسئلہ کے حل کیلئے کامیاب ترین نسخہ قرار دیا کرتے تھے.... ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیا کرتے تھے اور بعض اینکر پرسنز تو ایسے بھی ہیں جو جناب الطاف حسین سے خود ساختہ دوستی کا بھی دعویٰ کیا کرتے تھے، یہی نہیں بلکہ بیشتر صحافی، کالم نگار، دانشور اور اینکر پرسنز نہ صرف خود جناب الطاف حسین سے بات کرنا پسند کرتے تھے بلکہ انکی قربت وشفقت کے حصول کیلئے اپنے بیوی بچوں سے  بھی گفتگو کرانا پسند کیا کرتے تھے،  بزرگوں نے کہا ہے کہ آپ کا بہترین دوست وہ ہے جو خوشامد اور چا پلوسی کے بجائے آپکی غلطیوں کی  نشاندھی کرے، یہ عمل اس وقت زیادہ مستحسن ہوتا ہے جب کوئی صاحب منصب ہو، مقام عروج پر ہو اور جسکے اطراف جی حضوری کرنے والوں کی  فوج ظفر موج ہو، ان حالات میں اصلاح احوال کی کوشش کرنا اور کسی کی غلطی کی نشاندہی کرنے والا ہی بہترین دوست ہوتا ہے،  لیکن موافق حالات میں تعریف کرنا، تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا اور رت بدلتے ہی طوطا چشمی، مفاد پرستی اور موقع پرستی کا  مظاہرہ کرنے والے کسی کے کجا اپنے بھی دوست نہیں ہوتے اور ایسے عناصر کو دوست  تصور کرنے والوں کو کسی دشمن  کی ضرورت  باقی نہیں  رہتی ، بدلتی  رت کے محض اثار  دیکھ کر ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین سے دوستی کا دم بھرنے والے ان دوستوں نے جس تیزی سے  کینچلی بدل کر اپنی فطرت کا اظہار کیا ہے اسنے گرگٹ اور سانپ جیسی الله تعالی کی مخلوق کو بھی مات دیدی. یہ معزز حضرات پیشہ ور صحافی ہیں، پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی انکی ذمہ داری میں شامل ہیں لیکن مچھے تو ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کے خلاف انکے چہرے کے تیور ، الفاظ کا استعمال اور دلوں میں پوشیدہ نفرت و عصبیت پر حیرت ہوتی ہے اور حضرت ناطق یاد آجاتے ہیں کہ.....

ہائے کس کس پہ بھروسہ کیجئے ناطق!!!!!!!
کل مرے سائے کے دامن سے بھی خنجر نکلا

 
برطانیہ میں ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کی رہائش  گاہ پر برطانوی پولیس کے چھاپے کی خبریں کیا شائع یا نشر ہوئیں گویا بعض دوستوں کی مراد بر آئ... خوشامد پسند حضرات کا ضمیر اچانک جاگ گیا اور وہ  الطاف حسین اور ایم کیو ایم دشمنی میں متحد ہو گئے، کسی کے منہ سے چھاگ نکلنے لگے، کوئی فرط مسرت سے بات کرنے کے قابل نہ رہا، کسی کو منافقت کی آخری حدود کو چھونے کی تمنا  تھی اور کوئی ہر قیمت پر ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کے خلاف تعصب، نفرت اور عصبیت دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا، آزادی صحافت کے علمبردار زمینی خدا بن کر فیصلے دینے لگ گئے، جھوٹ، مکر و فریب  اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر جھوٹ کی عمارت تعمیر کرنے میں لگ گئے... کوئی بخار میں مبتلا نیولا بن گیا تو کوئی کوبرا ناگ.... کسی نے حرام جانور کا طرز عمل اپنایا تو کسی دوست نے روایتی طوطے کی ادا اپنائی.... کوئی بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والا آداب دشمنی اور بڑ کپن کے  تقاضے بھلا بیٹھا تو کسی کی  نگاہوں میں جگنوں کی روشنی کے بجائے شعلے لپکنے لگے، کہیں افغانستان کے امور پر دسترس رکھنے والا شکوہ کرنے لگا تو کہیں بدکاری اور حرام کاری میں پی ایچ ڈی، حکیم لقمان کے نسخے بیان کرنے لگا، غرض جسکو جتنا مال، ڈھال، کمال اور موقع ملا ان ابن الوقت قسم کے لوگوں نے حسب توفیق ایم کیو ایم کے خلاف اپنی نفرت کا کھل کر مظاہرہ کیا... ایم کیو ایم پر بے بنیاد، جھوٹے اور لغو الزامات عائد کیئے ... ایم کیو ایم کی قیادت کے مستقبل کے حوالہ سے اپنی دلی خواہشات کا اظہار کیا لیکن یہ بهول بیٹھے کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اور جھوٹ صرف جھوٹ ہے آغاز سے انجام تلک.

انہیں یہ بھی خیال نہیں رہا کہ اگر کل حالات ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کے حق میں ہو گئے تو پھر کیا ہوگا.. بقول شاعر
 تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں، تم ہنس رہے ہو، میں مسکرایا تو کیا کرو گے
  حسینیت کے ماننے والے کرب و بلا کی آزمائش سے گزرتے ہیں، صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مخالفین  کی باتیں اور ظلم سہنے کے باوجود حق کی تلقین کا عمل جاری رکھتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ فتح بالآخر حق پرستوں کا مقدر ہو گی، حق پرستی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، ہمیں الله تعالی کی ذات پر کامل یقین ہے کہ انشاءاللہ آج نہیں تو کل، ہم بھی مسکرائیں گے.

  جناب الطاف حسین  کے پیروکار ہم تمام کارکنان پر لازم ہے کہ وہ سانپ، نیولے، گرگٹ، طوطے اور دیگر چرند پرند کی خصوصیات رکھنے والے خواتین و حضرات کے سیاہ کارنامے، نفرتوں سے بھرے لہجے، غلاظتوں سے بھری باتیں اور تعصب زدہ چہروں کو یاد رکھیں یا نہ رکھیں.... کم از کم ایسے مخلص، ایماندار اور دیانتدار صحافیوں، کالم نگاروں، دانشوروں اور اینکر پرسنز کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں جو  اپنے ظرف و ضمیر کا سودا کرنے اور زبان و قلم کی حرمت کو داغدار دیکھنا ہرگز نہیں کرتے.
 _______________________________________________________________

قاسم علی رضا

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

قیادت کی خوبیاں

قائد تحریک الطاف حسین وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہر طرح سے عام عوام کی خدمت کی چاہئے وہ علمی خدمت ہو یا معاشی و معاشرتی یہ الطاف حسین ہی ہیں جنہوں نے خدمت خلق کو اپنی زندگی کا فرض اولین بنایا، تعلیم کو عام کرنے میں آپکی خدمات قابل تعریف ہیں.

 

آزاد وطن ایک ایسی آزاد ریاست  حاصل کی جائے جہاں ہم یعنی مسلمان اپنی مذہبی اقدار ، تہذیب و تمدن اور روایات کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی بسر کر سکھیں. اب ہم زیادہ  گہرائی میں نہیں جاتے لیکن آپ کے سامنے ان حقائق کو مختصرا پیش ضرور کریں گے کہ پاکستان آزاد ہونے کے بعد بانیان پاکستان کی اولادوں کو ہمیشہ نچلے طبقے کا شہری کیوں سمجھا گیا ان پر ملازمتوں کے تعلیمی اداروں کے اور انکے دیگر حقوق کے دروازے کیوں بند کر دیے گیے. کیا انکا یہ قصور تھا کہ وہ بانیان پاکستان کی اولاد تھے اور پاکستان پر قابض 2 فیصد طبقے کو یہ ڈر تھا کہ کہیں ان لوگوں کو انکے جائز حقوق نہ دینے پڑیں اسلئے انکو اتنا کمزور کردو کہ یہ بھی اپنے جائز حقوق کیلئے بھی بول نہ سکیں. جب گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا جاتا ہے تو روشنی کی کرن ضرور  نکلتی ہے اور وہ آہستہ  آہستہ اس اندھیرے کو ختم کر دیتی ہے ایسا ہی کچھ مملکت خداداد پاکستان میں  ہوا کہ جب مظلوم ومحکوم 98  فیصد طبقے کی کوئی شناخت، کوئی پہچان نام نہیں تھا، ایسے میں ایک مرد آہن اسی مظلوم طبقے کے درمیان اٹھا اور اسنے 35 برس  کی جدوجہد کی اور اپنے مظلوم عوام کے مستقبل پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا. جیسے دنیا آج الطاف حسین کے نام سے جانتی ہے کیونکہ یہ وہ انسان ہے جس نے  98فیصد  پسے ہوے طبقے کو شناخت دی اور آج اسی رہبر و رہنما اسی قائد کی شناخت چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے.
قائد تحریک الطاف حسین وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہر طرح سے عام عوام کی خدمت کی چاہئے وہ علمی خدمت ہو یا معاشی و معاشرتی یہ الطاف حسین ہی ہیں جنہوں نے خدمت خلق کو اپنی زندگی کا فرض اولین بنایا، تعلیم کو عام کرنے میں آپکی خدمات قابل تعریف ہیں.

 الطاف حسین کو ساری دنیا ایک مدبر و رہنما کے طور پر جانتی ہے انکو اپنے شناخت کیلئے کسی کارڈ کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ عناصر وہ 2 فیصد استحصالی طبقہ جو کہ پاکستان پر قابض ہے وہ نہیں چاہتا کہ الطاف حسین پاکستان آئیں جبکہ یہ وہی  لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ الطاف حسین پاکستان کیوں نہیں آتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جناب الطاف حسین کے شناختی کارڈ کا سوچ کر ہی کئی لوگوں کے سوئچ  اڑ  گئے ہیں. کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ  محترمالطاف حسین ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو پاکستان آباد اور درخشاں  اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکتے ہیں.

حقیقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا میں کم کم ہی ایسی صفات کی حامل شخصییات نظر آتی ہیں کہ جو زندگی کو دشوار گزار سفر میں اکیلے  اپنے عزم و حوصلے اور یقین کامل  کے ساتھ قدم رکھتے ہیں لیکن انکے ہر بڑھتے قدم  کے ساتھ  ساتھ انکے چاہنے والوں کا ایک کارواں شامل ہو جاتا ہے. بلاشبہ جب ایک ایسی کرشمہ ساز شخصیت کسی  تحریک کو قائد کی صورت میں میسر آجائے تو تحریک اور کارکنان کے حوصلے بلند رہتے ہیں اور آگ و خون کے دریا عبور کرکے بھی منزل  کا حصول ممکن ہو تو  وہ کرتے ہیں یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ قائد تحریک الطاف حسین کی شکل میں ہمیں ایسی قیادت میسر آئ جس نے ہمیں جینے کا ڈھنگ سیکھایا اور حق پرستی کو ایک شمع روشن کی جس نے ہماری زندگیوں کو ایک فکر و فلسفے کو اختیار کرکے ایک عزم و حوصلہ عطا کیا

الله رب العزت کے حضور دست  دعا دراز کرتے ہیں کہ وہ ہمارے محبوب قائد کا سایہ ہمارے سروں پر تا قیامت  قائم دائم رکھے اور قافلہ حق پرستی کو منزل مقصود تک پہنچنے کی استقامت عطا فرمائے. آمین
_______________________________________________________________

صاعقہ ناز

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

اتوار، 8 جون، 2014

قائد تحریک الطاف حسین سازش کا شکار ہو گئے

الطاف حسین کی حقیقت پسندی، عملیت پسندی اور حق پرستی نے ایم کیو ایم کے  کارکنوں کو کندن بنا دیا ہے، وہ اپنے قائد ، انکے نظریہ اور ایم کیو ایم سے بے وفائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے، یہی الطاف حسین کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور یہ انکی تربیت کا  نتیجہ ہے کہ ایم کیو ایم کراچی سے نکلی، سندھ میں پھیلی، دوسرے صوبوں میں بھی اپنا مقام بنایا، پھر دوسرے ملکوں میں بھی اپنی جڑیں مظبوط کیں اور وہ ایک بین الاقوامی تحریک بن چکی ہے، جو سیاسی اجارے داریوں کے خلاف ہے، غریب اور متوسط طبقہ کو انکے حقوق دلانا چاہتی ہے اور اس نے سیاست کو عبادت سمجھ کر اختیار کیا ہے




 متحدہ قومی موومنٹ کے قائد تحریک الطاف حسین کسی تعریف کے محتاج نہیں پوری دنیا میں یہ نام جانا پہنچنا ہے. 17 ستمبر    1953میں مولانا مفتی رمضان حسین کے برخودار نذیر حسین کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جسکا نام الطاف حسین رکھا گیا. انکے والد نذیر حسین کا 13 مارچ 1968میں انتقال ہوا اور انکی والدہ محترمہ خورشید بیگم 5 دسمبر 1985میں انتقال کر گئیں. اس  جوان نے 1969میں جیل روڈ اسکول سے میٹرک کیا اور 1980میں سٹی کالج سے B S c  میڈیکل کیا اور کراچی یونیورسٹی سے BPharmacy پھر Seven Day ہسپتال میں بطور Trainee رہئے. یونیورسٹی میں جہاں بہت سی طلباء تنظیمیں تھیں جو خاص طور پر مہاجریں طلباء کو نظر انداز کرتی تھیں اس وقت اس نوجوان کو احساس ہوا کیوں نہ اس مظلوم طبقہ کو یکجا کیا جائے اسکی خاطر اس جوان نے اپنے دوستوں کو مشوره دیا کہ 20 بیس روپے جمع کرکے ایک کتابچہ شائع کرتے ہیں اور تمام مہاجر طلباء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ان کیلئے جدوجہد کرتے ہیں.

 16 جون میں اس طلباء تنظیم کا نام APMSO رکھا گیا اور جدوجہد شروع کی اس جدوجہد کا نتیجہ میں 18 اگست میں گرفتار ہوئے اور نو ماہ تک قید کی صعوبتوں کو  برداشت کیا لیکن اس جوان کے عزم میں کمی کے بجائے پختگی پیدا ہوئی اور اپنی جدوجہد کو اپنے چند اہم ساتھیوں کے ساتھ جاری رکھا جس میں خاص طور پر ڈاکٹر فاروق ستار جیسے ساتھی آج بھی اسی لگن اور محبت سے اس جوان کا ساتھ دے رہئے ہیں.

قائد تحریک الطاف حسین نے اپنی تنظیم کو ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر چلایا اور تمام کرکنان کو  نظم و ضبط کی بہترین تعلیم دی. پاکستان کی تاریخ میں اتنی منظم کوئی سیاسی جماعت قائم نہ ہوئی. اس ایم کیو ایم کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں جسطرح پنجابی. پٹھان، سندھی، اور بلوچی لوگوں کو حقوق حاصل ہیں ویسے ہی حقوق ان لوگوں کو بھی ملنے چاہئیں جنکے والدین نے پاکستان کی محبّت میں ہندوستان سے ہجرت کی جنکی تیسری نسل اسی پاک سر زمین  پر پیدا ہوئی اور اسی زمین کو اپنا وطن قرار دیا، اپنا جینا مرنا اسی  زمین سے وابستہ رکھا اور  ایم کیو ایم کے اس مقصد میں بڑی رکاوٹیں آئیں پوری مہاجر قوم کو غدار بنانے کی کوشش کی مگر جدوجہد بڑھتی رہی یہاں تک کہ 16 جون 1992 میں اس ایم کیو ایم کے خلاف غیر ضروری   فوجی آپریشن کیا گیا. یہ آپریشن دراصل کرپٹ لوگوں کے خلاف کرنے کا اعلان ہوا تو ایم کیو ایم کے قائد نے پورا تعاون کیا کیونکہ انکی جدوجہد میں کرپشن سے پاک معاشرہ  شامل تھا. اسکی خاطر قائد تحریک الطاف حسین نے اپنی سیاسی جماعت میں لفظ مہاجر ختم کر دیا کیونکہ 1997تک پاکستان میں مہاجروں کو ایک مقام ایک باعزت شہری کے طور پر تمام دوسری قوموں نے تسلیم کرلیا تھا. یہ قائد تحریک الطاف حسین  کی زبردست کامیابی تھی اور اس کامیابی نے مہاجر قومی موومنٹ کا پہلا ہدف مہاجروں کی پہچان انکو  برابری کی بنیاد پر حقوق دینا جیسی حقیقت کو تسلیم کیا جا چکا تھا اسلئے 26 جولائی 1997میں اسکا  نام مہاجر قومی موومنٹ سے بدل کر  متحدہ  قومی موومنٹ رکھ دیا گیا جسکا مقصد یہ تھا کہ  اب یہ تحریک صرف مہاجروں کی جدوجہد نہیں بلکہ تمام مظلوم قوموں، غریبوں، مزدوروں، طلباء اور سفید پوش لوگوں کی تحریک ہو جائے گی.

اس وقت لندن میں ان پر منی لانڈرنگ کے نام پر جو ہراسمنٹ پیدا کیا گیا ہے وہ ناقابل فہم اسلئے ہے کہ منی لانڈرنگ کا  براہ راست تعلق کسی صورت پارٹی کے سربراہ سے نہیں ہوتا اور نہ ہی لندن کی گزشتہ تاریخ میں کسی منی لانڈرنگ کے مجرم کے ساتھ اس انداز کا سلوک کیا گیا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں یہ ہمارے کچھ نادانوں کا کام ہے جو قائد  تحریک الطاف حسین کی سندھ میں پھیلتی ہوئی مقبولیت کا سیاسی مقابلہ نہیں کر سکتے. اسلئے اس انداز کی سازش شروع کی جس انداز کی ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی راہ سے ہٹانے کی، کی تھی اور میں سمجھتا ہوں یہ معاملہ منی لانڈرنگ تک نہیں رہے گا اسکا رخ دہشت گردی کے الزامات اور عمران فاروق کے قتل سے جوڑا جائے گا جبکہ قائد تحریک کا ان معاملات سے دور دور تک واسطہ نہیں.

انہوں نے لندن میں رہ کر نہ وہاں کا کلچر اپنایا نہ وہاں کی سیاست کا حصہ بنے بلکہ مسلسل انہوں نے اپنی سیاسی، تاریخی و دینی معلومات میں اضافہ کیا اور اپنے عزم کو مظبوط بنایا. انکا مزاج یہ ہے کہ جو بھی انکا ہمدرد ہے انکا چاہنے والا ہے وہ کسی کو کسی مشکل میں نہیں دیکھ سکتے، وہ اپنی پارٹی کے لوگوں سے ایسی ہی محبت کرتے ہیں جیسے باپ اپنی اولاد سے، اسی وجہ سے دنیا نے دیکھا کہ جب چند دنوں پہلے انہیں گرفتار کیا گیا تو پورے پاکستان میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے انکے ساتھ  اظہار ہمدردی کیا اور کارکنوں نے جو جذبات، جوش میں  تھے انہوں نے انتہائی پرامن رہ کر اپنے جذبات کا اظہار دھرنوں  کی صورت میں کیا.

ہمیں اس  بات کا پورا یقین ہے کہ اگر قائد تحریک الطاف حسین پر سازش کے بجائے اپنے مروجہ قوانین کے ذریعہ تحقیقات کی جائے تو ہر حال میں وہ تمام الزامات سے بری الذمہ قرار پائیں  گے. حکومت برطانیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس سازش کو تلاش کیا جائے ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے ایم کیو ایم کے اس قائد جس نے برطانیہ میں کبھی کوئی قانون شکنی نہیں کی، اس پر اس انداز سے تحقیقات کرنا خود حکومت برطانیہ کو داغدار کرنا ہے. برطانیہ وہ ملک ہے  جہاں کی عدالتوں میں واقعی انصاف ملتا ہے. اگر ہماری حکومت نے اخلاقی اور قانونی معاونت کی تو یقینان بہت جلد قائد تحریک الطاف حسین تمام الزامات سے بری الذمہ قرار +پائیں گے.
 _________________________________________________________________

علامہ سید محسن کاظمی

پڑھنے کا شکریہ
اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

ہفتہ، 7 جون، 2014

عوام کی قائد سے بے پناہ محبّت اور اظہار یکجہتی


 آج ملکی اور بین الاقوامی سطح پر لاکھ قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے خلاف سازشیں ہو رہی ہوں، لیکن انکے چاہنے والے انکے ساتھ ہیں اور ان کیلئے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں اور یقینان قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائ پر جب جب کٹھن وقت آیا، قائد کے عزم و حوصلے نے اسے گزرنے پر مجبور کر دیا اور آج بھی یہ وقت گزر جائے گا اور ہمیشہ کی طرح قائد تحریک کو سر خروئی حاصل ہو گی.




 قائد تحریک الطاف حسین پاکستان کے پہلے انقلابی رہنما ہیں، جنہوں نے ملک کے غریب و متوسط طبقے میں اپنے حقوق کا احساس اور شعور پیدا کیا،  ایم کیو ایم پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت ہے، جس نے قائد تحریک کی قیادت میں پاکستان میں ایک نئے سیاسی کلچر کو متعارف کراتے ہوئے ملک کے ایوانوں تک متوسط طبقے کے حقیقی نمائندوں کو پہنچایا، قائد تحریک وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے جو کہا اس پر عمل کر دکھایا، قائد تحریک نے  بغیر حکمرانی کے دکھی اور مظلوم عوام  کی جتنی خدمت کی ہے، اسکی نظیر دنیا بھر میں نہیں ملتی، قائد تحریک خدمت کے اس مشن پر آج تک مصروف عمل ہیں

3 جون2014کو برطانیہ میں میٹرو پولٹن پولیس نے  قائد تحریک الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کیلئے گرفتار کر لیا اور پورے گھر کی تلاشی بھی لی گئی. ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین برطانیہ حکومت  کے قوانین کے مکمّل پاسداری اور احترام کرتے ہیں جسکی مثال یہ ہے  کہ جب کبھی بھی کسی بھی کیس میں پولیس نے الطاف حسین کو بلایا ہے تو قائد تحریک نے انسے مکمّل تعاون کیا ہے کیونکہ  الطاف حسین کسی فرد واحد کا نام نہیں بلکہ ایک نظریہ کا نام ہے ایک ایسا نظریہ جو انسانیت کی پہچان ہے اور اس پہچان کیلئے قائد تحریک نے 18 فروری 1991کو حقیقت پسندی و عملیت پسندی کا نظریہ دیکر انسانیت پر  ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف وہ عملی اقدامات کئے ہیں جو ظلم سے نجات کا اہم ذریعہ ہیں یہ وہ ہتھیار ہے جو ساری دنیا کے مظلوم عوام  کیلئے وہ قوت ارادی دینے والا نظریہ ہے جسکے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے ظلم و ستم کا خاتمہ عمل  میں لایا جا سکتا ہے. فلسفہ حقیقت پسندی و عملیت پسندی کے فلسفے  پر مبنی ایک نئے نظام کی ضرورت پر زور دیا جسکے مطابق دراصل ہر شے کی اچھائی و برائی، خوبی و خامی جانچنے کیلئے ایک پیمانہ ہے جسکے ذریعے ہم تصورات، پالیسیاں، کلیات و نظریات اور تمام نظام جس میں فرسودہ، جدید اور موجودہ نظام حکومت یا کسی بھی ادارے کے نظام کو جانچ سکتے ہیں جو غریب و متوسط طبقے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے لازم و ملزوم ہے

دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ظلم و جبر ہو گا وہاں الطاف حسین کا یہ دیا ہوا نظریہ مظلوم عوام کی رہنمائی کا ذریعہ بنے گا. یہی جرم ہے جو الطاف حسین  نے مظلوم عوام کی بقا و سلامتی کیلئے کیا ہے اور حق پرستی کا پیغام دیا ہے  جس سے بین الاقوامی سطح پر الطاف حسین کو جو پزیرائی حاصل ہوئی ہے اس سے خائف ہو کر دنیا بھر میں فرسودہ نظام کے حامی عناصر الطاف حسین کو اپنا  دشمن تصور کرتے ہیں اسی بات کی قائد تحریک کو ذہنی اذیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے. اربوں کھربوں روپے کا غبن کرنے والے اور دنیا بھر میں ملز، فیکٹر یز لگانے والے عناصر جنہوں نے کرپشن کرکے غریبوں کو لوٹا ہے کیا یہ کرپشن دنیا بھر کے قانونی ماہرین کی نظر میں نہیں آتی؟ بہرحال الطاف حسین کے خلاف جتنی بھی سازشیں  کر لی جایئں  بالخصوص پاکستان اور دنیا بھر کے مظلوم عوام چاہئے انکا تعلق کسی بھی رنگ و نسل سے کیوں نہ ہو وہ الطاف حسین کے نظریے کی پاسداری ہر حال میں کریں گے کیونکہ سچ آنے کیلئے  اور باطل مٹ  جانے کیلئے ہے. ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود بھی کروڑوں لوگوں کے دل الطاف حسین کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں جسکی واضح مثال نہیں بلکہ حقیقت دنیا کے سامنے عیاں ہے کیونکہ لاکھوں کے مجمع میں خطاب کرنے والا اپنی خدادا د صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والا، لاکھوں کے مجمع کو چند سیکنڈوں  میں خاموش کروادینے والا یہ عظیم رہنما جسے الله تعالی نے وہ عزت بخشی ہے جسے دنیا کی کوئی بھی طاقت  الله کے فضل و کرم سے  پامال نہیں کر سکتی.

 تحریک میں شامل افراد کا قائد سے یہی اندھا اعتماد تحریک کی بقاء کی ضامن ہے، اعتماد یقین سے پیدا ہوتا ہے یقین کا مطلب ہے کسی قسم کی  شک و ابہام کی گنجائش بالکل نہیں ہونی چاہئے. پاکستان کو آزادی تو مل گئی لیکن پاکستان کے مظلوم عوام کو آزادی نہیں ملی، پاکستان میں 66 سالوں سے قائم فرسودہ نظام کا دور دورہ رہا ہے جو آج تک جاری و ساری ہے اس فرسودہ نظام نے پاکستان کے 98 فیصد مظلوم عوام کو غلام بنا رکھا ہے یہ غلامی انگریزوں کی غلامی سے زیادہ تلخ ثابت ہوئی. اس تلخ حقیقت سے نجات کی خاطر عوام الناس کو تیار کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے. الطاف حسین کا نظریہ حقیقت پر مبنی ہے اس سے انکار چراغ  تلے اندھیرے کے متعارف ہے. پاکستان کی واحد جماعت ایم کیو ایم ہے جو غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے الطاف حسین نے جو پاکستان میں انقلاب برپا کیا ہے وہ پاکستان کے مظلوم عوام کے سامنے عیاں ہے. الطاف حسین ہر مصائب کے باوجود  اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مظلوم عوام کیلئے ہر سطح پر آواز حق بلند کرتے رہئے پاکستان میں پہلی مرتبہ غریبوں کی قیادت  میں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جو ابتدائی مراحل ہی سے  مظلوم مہاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام مظلوموں کے حقوق کی محافظ بن گئی اور اس تحریک کے قائد الطاف حسین کی صلاحتیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا . اس تحریک کا راستہ روکنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر بھی کوششیں ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوئیں.

 3 جون سے ابتک دھرنوں  کا سلسلہ ( تادم تحریر دھرنا اختتام پذیر ہو چکا ہے) پورے پاکستان میں جاری ہے اور الطاف حسین کے کروڑوں چاہنے والے اپنے قیمتی رات دن دھرنوں میں ایک کر چکے ہیں کیا یہ حق پرستی کی دلیل نہیں ہے ؟  الطاف حسین برسوں سے جلاوطنی کی زندگی  گزارنے پر مجبور ہیں لیکن اسکے باوجود ساری دنیا کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں روحانی طور پر موجود رہتے ہیں کیا یہ حق پرستی کی جیت نہیں؟  دھرنوں میں موجود نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزروگوں، خواتین عورتیں اور شیر خوار بچوں کی ایک کثیر تعداد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ الطاف حسین اس نظریے کا نام ہے جو دنیا بھر میں امن و امان کے قیام میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں. الطاف حسین وہ بین الاقوامی لیڈر ہیں جنہوں  دہشت گردی کے خاتمے کیلئے، لاقانونیت کے خاتمے کیلئے اس نظریے کو متعارف کروا کے دنیا بھر میں دہشت گردی  کے خاتمے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے جس سے عالمی امن قائم کرنے والی تنظیمیں بھی انگشت بدنداں ہیں لہذا برطانیہ حکومت کو ان تمام پہلووں پر غور و  خوض کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ الطاف حسین کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ حق پرستی کا درس دینے والے اس عظیم لیڈر کیلئے پاکستان میں بلکہ دنیا  بھر میں گومگوں کی کیفیت میں مبتلا  ہیں جنکے دل  الطاف حسین  کے ساتھ دھڑکتے  ہیں. کیونکہ حکومت برطانیہ عوامی حقوق کی علمبردار ہونے کی دعویدار ہے لہذا انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا انکی اولین ذمہ داری ہے. مظلوم عوام کے نجات دہندہ الطاف حسین کیلئے ممکن نہیں کہ وہ کسی بھی جرم کے مرتکب ہوں. برطانیہ حکومت اور انتظامیہ سے پاکستان کی عوام کی پرزور اپیل  ہے کہ الطاف حسین کو جلد از جلد رہا کیا جائے.
______________________________________________________________________

 کوثر علی صدیقی




 اگر آپ یہ آرٹیکل اوریجنل  لنک پر  پڑھنا چاہتے ہوں تو  اس لنک پر کلک کیجئے  ( قومی اخبار )
 



پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

جمعرات، 5 جون، 2014

الطاف حسین بھائی سے امتیازی سلوک کیوں؟

قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ ایک فکر کا نام ہے جسے کبھی بھی ذہنوں سے، دلوں سے مٹایا نہیں جا سکتا. الطاف بھائی کے  خلاف  اقدامات برطانوی حکومت کو قابل نفرت اورمتنازعہ بنا رہے ہیں




انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کی دعویدار برطانیہ  میں جس طرح انسانی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اس کی واضح مثال یہ ہے کہ پاکستان کے عرصے دراز سے جاگیردارانہ، وڈیرانہ نظام میں جکڑے محکوم و مظلوم عوام کو آزاد کرانے، انہیں باشعور اور با اختیار بنانے کیلئے فرسودہ روایات، رسم و رواج اور نظام سے برسرپیکار الطاف حسین کو پابند سلاسل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں. عرصہ دراز سے متحدہ قومی  موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے پیغام کو پاکستان بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے کون سا  ایسا ہتھکنڈہ ہے جو استعمال نہیں کیا گیا ملکی دشمنی  کا الزام ، دہشت گرد قرار دیکر کارکنوں کا قتل عام، ملکی و بین الاقوامی سازشوں کے ذریعے انکے اعصاب کو کمزور بنانے کیلئے ہر ہر تدبیر کو آزمایا گیا اور انکے جاں نثاروں ہزاروں کی تعداد میں قتل کئے گئے. ملکی و بین الاقوامی سازشی عناصر ہمیشہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے ہیں

 تاریخ گواہ ہے کہ ایم کیو ایم ہمیشہ سے ہی مشکلات اور  مصائب کا سامنا کرتی نظر آئی ہے آج منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کو حراست میں لینا انہی سازشی عناصر کی سازشوں کا نتیجہ ہے جو عرصہ دراز سے ایم کیو ایم اور اسکے قائد کے خلاف نئے نئے جال بنتے رہتے ہیں بلاشبہ الطاف حسین کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں. دنیا کی تاریخ میں اس وقت بھی شاید ہی کوئی ایسی مثال ہو، ایسا قائد ہو جسکی ایک آواز، ایک اشارے پر ہزاروں لاکھوں جاں نثار اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے ہوں.

 کراچی کو ایسا لگتا ہے سانپ سونگھ گیا ہے ، ہر طرف سناٹا ہے، اندرون سندھ، پنجاب ، خیبر پختون خوا، بلوچستان پاکستان کے کونے کونے میں ایم کیو ایم کے کارکن، مرد خواتین تین دن سے بھوکے پیاسے، بچوں کے ہمراہ دھرنے دیے بیٹھے ہیں.

 الطاف حسین کوئی مجرم نہیں، انکی صحت سخت خراب ہے، پاکستان کے کئی حکمرانوں کے اربوں کھربوں بیرون ممالک میں پڑے ہیں، ملکی دولت لوٹ کر بنائے گئے کھربوں کے اثاثے ہیں انکے بارے میں تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی. برطانوی حکومت کے ارباب اختیار کو چاہئے کہ وہ الطاف حسین کو فوری طور  رہا کریں اور ایک غیر جانبدار اور آزاد کمیشن تشکیل دیں جو خود پاکستان آکر متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے قائد کی جدوجہد اور قربانیوں کا مطالبہ اور تحقیق کرے تبھی اسے پتہ چلے گا کہ ہر مذہب، مسلک، زبان اور قوم کے لوگ شامل ہیں اور عام آدمی کو حقوق دلانے کیلئے الطاف  حسین اور اسکے ساتھیوں نے کیسی لازوال قربانیاں دی ہیں. کیسے ایم کیو ایم کے قائد نے غریب اور متوسط طبقے سے پڑھے  لکھے نوجوانوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا ہے؟ کسطرح پاکستان بھر
بالخصوس اندورون سندھ اور جنوبی پاکستان کے جنگلوں دیہاتوں میں بسنے والوں کو بڑے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کے مظالم سے نجات دلائی ہے اور فرسودہ رسم و رواج اور روایات کا راستہ روکا ہے کیسے اپنے کارکنوں کی تربیت کی ہے؟ علم و ادب کا گہوارہ کہلانے والے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر  کیا کام ہوتا ہے؟ خدمت خلق فاونڈیشن کی خدمات کیا ہیں اسکا دائرہ کار کہاں تک پھیلا ہوا ہے؟ جب سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے گا اس  وقت پتہ چلے  گا کہ اور  اندازہ ہو گا کہ الطاف حسین محض ایک شخصیت  کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک فکر کا نام ہے جسے کبھی بھی ذہنوں سے، دلوں سے مٹایا نہیں جا سکتا. 

 جب انسانی حقوق کے علمبرداروں نے الطاف حسین کی حقیقت کو پالیا تو مجھے یقین ہے کہ انہیں کراچی میں ہونے والے ظلم و ستم بھی نظر آنے لگیں گے، کراچی  اور یہاں بسنے والوں کی خستہ حالی ، لاقانونیت، وحشت ناک سڑکیں، زندہ درگور بوڑھے ماں باپ کی آہوں بھری سسکیاں، کھلے سر بہنوں کے جوان بھائیوں کی لاشوں پر بین، سب دیکھ کر انہیں اندازہ ہو سکے گا کہ الطاف حسین کا جرم دراصل کیا ہے. حقیقت کو جاننے کے بعد مجھے یقین ہے کہ وہ الطاف حسین کو خراج تحسین پیش کریں گے  اور کراچی کے  حالات پر بھی تشویش کا  اظہار کریں گے اور یہاں ہونے  والے ماوراے عدالت قتل عام کی روک تھام کیلئے بھی موثر کردار ادا کر سکیں گے.

 تحریر. زبیر کلیم

پڑھنے کا شکریہ
اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں