Video Widget

« »

سوموار، 16 جون، 2014

ضرب عضب طالبان کے سروں پر غضب برسانے لگا

افواج  پاکستان نے طالبان اور غیر  ملکی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کون آپریشن " ضرب عضب ' کا آغاز کر دیا ہے . یہ ساری صورتحال پوری قوم کیلئے  بھی ایک بڑا امتحان ہے. اس امتحان میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے دفاعی اداروں کی پشت پر پورے اخلاص کے ساتھ کھڑی ہوں



 پاک فوج نے حکومت کی ہدایات پر شمالی وزیرستان میں غیر ملکی اور  مقامی دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن شروع کر دیا .آپریشن کو " ضرب   عضب   " کا نام دیا گیا ہے.

 شمالی وزیرستان میں  ہفتہ کی شب بڑی فضائی کاروائی میں 150 ازبک دہشت گرد مارے گئے جس میں کراچی ائیرپورٹ کا ماسٹر مائنڈ  ابو عبدالرحمان المانی بھی شامل تھا، اس فضائی کاروائی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی دہشت گردوں کی ہلاکت سے یہ حقیقت طشت از بام ہو گئی ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی دہشت گرد موجود ہیں . ازبکستان سمیت دنیا بھر سے آنے والے یہ  دہشت گرد ہماری  داخلی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ ہیں. ایسی صورتحال میں ناگزیر ہو چکا ہے کہ ملک کی سلامتی اور اندرونی استحکام کیلئے دہشت گرد تنظیموں خاص طور پر ملک کے قبائلی علاقوں میں مقیم غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کیا جائے. یہی وجہ ہے کہ حکومت نے افواج پاکستان کو شمالی وزیرستان کو ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں  سے صاف کرنے کا حکم دے دیا  ہے.

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی سطح پر دہشت گردی اور شدت پسندی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے. گزشتہ بارہ برس سے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور بارود سے بھری گاڑیوں سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا جو بازار گرم ہوا، ایک اندازے کے مطابق اس سے ملکی معیشت کو 100 ارب ڈالرز سے زیادہ نقصان ہو چکا ہے. دہشت گردی اور انتہا پسندی  نے ہمارے معاشرے کو تفریق اور تقسیم کے نہ ختم ہونے والے رحجان میں مبتلا کیا ہوا ہے. سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں سمیت ہزاروں بے گناہ پاکستانی دہشت گردی کی اس  آگ کا شکار ہو گئے.

ہمارے کھیل کے میدان، سیاحتی مقامات ویران ہوکر رہ گئے جبکہ دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر ہونے لگی. افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہر اول دستے کا کردار  ادا کرنے اور دنیا کے امن کی خاطر قربانیاں دینے کا  صلہ یہ مل رہا ہے کہ ہم خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں. پاکستان کے قبائلی علاقے دنیا بھر سے آئے دہشت گردوں کی آما جگاہ بنے ہوئے ہیں. غیر ملکی دہشت گردوں کی پاکستان آمد کا سبب بھی خطے میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے مفادات کی اندھی  تکمیل ہے. ایک وقت تک امریکہ اور اسکے اتحادی ان غیر ملکی دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ہمارے قبائلی علاقوں میں قیام کیلئے انکی سرپرستی کرتے رہے.  جب انکے مفادات پورے ہو گئے تو ان عالمی قوتوں نے ڈرون حملوں اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے ہماری خود مختاری کیلئے مسائل پیدا کئے. اسی جارحیت کی وجہ سے جب قبائلی علاقوں میں بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے تو اس کا  خمیازہ بھی پاکستان کو بھگتنا پڑا.  

یہ بات طے شدہ ہے اور اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ دہشت گردوں، شدت پسندوں اور شرپسندی پر اترے عناصر کا علاج ریاستی طاقت کے ذریعے انہیں جڑ سے اکھاڑنے کی پالیسی ہے، کوئی محب وطن ادارہ، سیاسی و مذہبی جماعت اور تنظیم داخلی استحکام اور قومی سلامتی پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گی.



پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں