Video Widget

« »

سوموار، 23 جون، 2014

عالم اسلام میں نئی خلافت کا ظہور

 کیا عالم اسلام میں نیا دور خلافت دستک دے رہا ہے، کیا ایک جنگجو طاقت عالم اسلام کو دے گی خلافت  کا تحفہ. کیا عراق کی نئی جنگ کی کوکھ سے جنم لے گا نیا عالم اسلام. کیا یہ طوفان عالم اسلام کی سرحدوں کو مٹا دے گا. کیا عالم اسلام کا ایک نیا نقشہ دنیا کے سامنے آئے گا اور کیا عراق   سے اٹھے اس طوفان کو روک پانا ممکن ہو گا ؟


 عراق میں " اسلامک اسٹیٹ ان عراق اور شام " کی بغاوت للکار اور پیش قدمی نے   شام اور عراق میں تو کہرام برپا کر دیا ہے، مگر اسکے اثرات نے مشرق وسطیٰ بلکہ عالم اسلام کو سکتہ میں ڈال ہے ، کیونکہ اب تک مختلف جہادی گروپ خلافت کا نعرہ تو ضرور بلند کرتے تھے، مگر یہ نعرہ پروپیگنڈا مواد تک ہی محدود رہتا تھا. کوئی بھی طاقت نئے اسلامی ملک کی تشکیل اور خلافت کے نفاذ کیلئے فوجی پیش قدمی نہیں کر سکی تھی. یہ پہلا موقع ہے جب عالم اسلام میں مسلکی ناراضگی، بیزاری، مایوسی، غصہ اور نفرت کو آئی ایس آئی ایس نے کچھ اس طرح بھنایا ہے کہ عراق کی سانسیں تھم گئی ہیں. بغداد میں جان بچانے  کیلئے جان کی بازی لگانا ہی آخری راستہ نظر آرہا ہے.

 عراقی حکومت نے الله کے بجائے امریکا سے مدد مانگی، مگر امریکا بھی اب آنکھیں بند کرکے اس سرزمین میں چھلانگ لگانے کو تیار نہیں، جہاں سے نجات پانے میں اسے 8 سال لگ گئے تھے. یہی وجہ ہے کہ اب عراقی حکومت آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے بغداد میں ہتھیار ایسے بانٹ رہی ہے، گویا کوئی بزرگ بچوں کو کھلونے دے رہا ہو، مگر یہ عمل عراقی حکومت کو اپنی کمزوری اور آئی ایس آئی اس کی طاقت کا ثبوت دے رہا ہے، جس کی لاکھوں فوج چند ہزار جہادیوں کے سامنے بونی ثابت ہو گئی . حقیقت یہی ہے کہ عالم اسلام نے اب تک بہت سی جنگیں دیکھی ہیں، مختلف جنگجوؤں کا دیدار کیا ہے . بدترین دہشت گردی کا تجربہ کیا ہے، مگر آئی ایس آئی ایس کچھ خاص ہے. ایک عجیب و غریب طاقت جس نے دنیا کی سب سے بڑی جہادی طاقت القاعدہ کو انگوٹھا دکھا دیا اور القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو آئینہ. سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے ماضی کی غلطیوں سے سبق لیا اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایسی یلغار کی ہے، جس کو شام سے لیکر عراق تک سنی علاقوں میں مقامی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہو  رہی ہے اور جنگجو گروپ کے حوصلے اس قدر بلند کی جانب رواں دواں ہے. اب مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کر مان رہئے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس میں کچھ خاص ہے. اس بغاوت میں نیا جوش ہے، نئی طاقت ہے، نیا حوصلہ ہے اور نیا جذبہ ہے جو یقینا تباہی تو لائے گا، مگر اسکی کوکھ سے ایک نئے عالم اسلام کا ظہور ہو گا.


 آئی ایس آئی ایس نے عراق اور شام کے سنی علاقوں پر ایک اسلامی ملک کی تشکیل  کا خاکہ تیار کیا ہے اس میں ابوبکر بغدادی کا دماغ سب سے اہم ہے، جس نے عراق کی شیعہ حکومت کے سنیوں کے ساتھ امتیاز کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ بھنا لیا ہے اور آئی ایس آئی ایس نے اس یلغار سے قبل عراق کے قبائلی لیڈران کو اعتماد میں لیا، انکے ساتھ اتحاد کیا اور انہیں اس بغاوت  کا حصہ دار بنایا ہے، جس نے آئی ایس آئی ایس کو شام کی سرحد سے تکریت اور موصل  ہوتے ہوئے بغداد کا رخ کرنے  کا حوصلہ دیا ہے.  ابوبکر بغدادی اور عراقی سنیوں کے دلوں میں نوری المالکی  کیلئے یکساں نفرت ہے، جس کے سبب دونوں نے ہاتھ ملایا ہے ورنہ کسی ایک گروپ کیلئے عراق کے اتنے بڑے حصے پر قبضہ کرنا ممکن نہیں ہوتا. اس گروپ کو عراقی قبائلی لیڈران کی مدد مل رہی ہے. حقیقت یہ ہے کہ عراق کے قبائلی لیڈران کی حمایت کے سبب ہی آئی ایس آئی ایس  نے اس قسم کی پیش قدمی کی ہے. سب سے  اہم بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے، جس سے عراقی سنی مخالف ہو جائیں، جیسا کہ عراقی القاعدہ لیڈر  الزرقاوی کے ساتھ ہوا تھا، جس نے عراق میں اتنے بڑے خود کش دھماکے کرائے تھے کہ قبائلی ہی زرقاوی کے خلاف ہو گئے تھے اور " انبار بیداری " مہم کے سبب زرقاوی کا خاتمہ ہوا.کل جن قبائلی لیڈران نے آئی ایس آئی ایس کے بانی زرقاوی کی مخالفت کی تھی، اب ابوبکر بغدادی کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں . انبار کے عراقی قبائلی   زید ان الجباری کے مطابق آئی ایس آئی آئی نے زرقاوی دور کی غلطیوں سے سبق لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تنظیم کا واحد مقصد صرف سنیوں کو عراق کی شیعہ حکومت کے امتیاز اور عتاب سے بچانا ہے.

 سیاسی تجزیہ کاروں کا یہی خیال ہے کہ بہت ممکن ہے کہ امریکا مداخلت کرکے آئی ایس آئی ایس کو پچھاڑ دے یا پسپا کردے، مگر یہ سب کچھ عارضی ہو گا، کیونکہ عراق میں قبائلی لیڈران کی حمایت کے سبب آئی ایس آئی  کو دبانا بہت مشکل ہو گا. ایک مغربی انٹلی جنس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بیمار ہو سکتے ہیں، کمزور پڑ سکتے ہیں ، مگر ختم نہیں ہو سکتے. عراق کے قبائلی لیڈران بڑے صاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ اگر ابو بکر بغدادی نے مدد طلب کی اور اتحاد کی پیش کش کی تو ہم ضرور آگے بڑھیں گے، کیونکہ آئی ایس آئی ایس فی الحال وہی کر رہی ہے، جو  عراق کے سنی چاہتے ہیں،  ہم عراق میں آزادی چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پچھلے 6 ماہ سے جنگ لڑ رہے ہیں.

 جنوری میں جب آئی ایس آئی ایس نے فلوجہ پر قبضہ کیا تھا، تو ابوبکر بغدادی نے سب سے پہلے شہر کے قبائلی لیڈران کےساتھ رابطہ قائم کیا اور انہیں اعتماد میں لیا نہ کہ سیاہ و سفید پرچم لہرا دیا. دلچسپ بات تو یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے جہاں بھی قدم رکھا، سب سے پہلے علاقے میں فلاحی کام انجام دینے اور بچوں میں تلاوت کے مقابلے کرائے. کھانے کا سامان تقسیم کیا. دوائیں مہیا کرائیں اور ایندھن سپلائی کیا. آئی ایس  آئی  کی اس نئی تصویر نے عراق کے سنیوں کے دلوں میں گھر کر لیا اور اب یہی حمایت آئی ایس آئی ایس کو ایک نئے اسلامی ملک کی تشکیل کا حوصلہ دے رہی ہے.

 عراق کے سنیوں اور آئی ایس آئی ایس میں صرف ایک یکسانیت ہے کہ  دونوں کے دلوں میں عراقی حکومت کیلئے بے پناہ نفرت ہے. اس نفرت نے عراقی قبائلی لیڈران کو آئی ایس آئی ایس کی یلغار  نے دنیا کے سامنے جنگجوؤں کا ایک خوفناک چہرہ  لا دیا ہے، جو بہت سخت گیر  اور بے رحم ہے، جس کے جہادیوں نے تقریبا دو ہزار عراقی فوجیوں کا قتل عام کیا مگر آئی ایس آئی ایس کی ویب سائٹ پر تنظیم پر تنظیم کے فلاحی کاموں کی تشہیر کی جاتی ہے، جس میں جہادیوں کو غربا میں کھانا اور گرم کپڑے و بستر تقسیم کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے. جہاں آئی ایس آئی ایس نے قبضہ کیا ہے ان علاقوں میں شریعت کا نفاذ ہوا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ عراق کے قبائلی لیڈران ان کا کچھ یوں کہنا ہے کہ " ہم ایک اسلامی ملک کا حصہ ہیں، مگر ہم ایک ترقی پسند اسلامی ملک بننا پسند کریں گے، تاکہ ہم دنیا  کا حصہ ہوں، قومی دھارے میں شامل ہوں، ہمیں یقین ہے کہ ابو بکر بغدادی عراق میں شریعت نافذ کرنے کی  ہمت نہیں کریں گے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قبائلی لیڈر اسکو  برداشت نہیں کریں گے.

اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عراق کے سنی علاقوں میں آئی ایس آئی ایس کو حمایت تو حاصل ہے، مگر اسکی بنیاد  مسلکی نفرت ہے اور اگر سنی علاقوں پر مشتمل ایک نئی طاقت کا ظہور ہوتا ہے تو آئی ایس آئی ایس کو درمیانی راستہ اختیار کرنا ہو گا، تاکہ عراق کے طاقتور قبائلی اسکے ساتھ رہیں اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر جو حشر الزرقاوی  کا ہوا، وہ ابوبکر بغدادی کا ہو سکتا ہے.

 آئی ایس آئی ایس کے جہاد نے مشرق وسطیٰ سے لیکر مغرب تک ایسا خوف پیدا کیا ہے کہ کوئی دوست دشمن  منظر آنے لگا ہے تو کوئی دشمن دوست. عراق میں حالات بے قابو ہوتے دیکھ کر اب امریکا نے ایران سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کیلئے براہراست بات چیت پر غور و خوص شروع کر دیا ہے. کل تک جس ملک پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے سنگین الزامات عائد کرکے اسکا دانا پانی بند کرنے کو انسانی خدمت کا نام دیا جاتا تھا، اب اوبامہ انتظامیہ اسی ایران سے عراق میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نسخہ مانگ رہی ہے. شاید اس لئے کہ امریکا کو عالم اسلام میں اپنے پرانے دوست سعودی عرب، کویت اور قطر اب ناقابل اعتماد نظر آرہے ہیں ، کیونکہ آئی ایس آئی ایس ہو یا بوکو حرام سب کے پیچھے عرب طاقتوں کا ہاتھ اور دماغ ہے. اب ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکا چاہئے گا، تو عراق کے مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہیں، مگر اب ایک بات واضح ہے  کہ آئی ایس آئی ایس نے جس بغاوت کا پرچم بلند کیا ہے اسکا علاج طاقت ہے نہ فوج، کیونکہ  خود امریکا کے صدر بارک حسین اوبامہ نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جب تک عراقی حکومت بغاوت کا سبب بنے مسلکی امتیاز کا کوئی سیاسی حل پیش نہیں کرے گی تب تک امریکا فوجی کاروائی کرنے پر غور نہیں کرے گا. اوبامہ نے اس بات کو محسوس کر لیا ہے کہ عراقی حکومت کے مسلکی  امتیاز نے آئی ایس آئی ایس کو پیدا کیا ہے اور مشرقی  وسطی میں مسلکی ٹکراؤ کے سبب ہی آئی ایس آئی ایس کو کویت ، قطراور سعودی عرب سے بھر پور ،مالی امداد مل رہی ہے حالانکہ تینوں ملک  دہشت  گردی مخالف جنگ میں امریکا کے سب سے بڑے حلیف ہیں مگر سوال ہے مسلکی دبدبہ اور غلبہ کا جس نے سب کو دوہرا کھیل کھیلنے پر مجبور کر دیا ہے. ایران اور شام کے سبب عرب ممالک نے آئی ایس آئی ایس  کی پشت پناہی کی اور عراق سے شام تک سنی خطے میں ایک نئے ملک کی تشکیل کا حوصلہ دیا، مگر اب یہ کھیل ایک ایسا موڑ لے چکا ہے، جس نے سب کو دنگ کر دیا ہے. کویت نے آئی ایس آئی ایس کو سب سے زیادہ عطیات دیئے مگر تنظیم نے عراق میں صدام  حسین  کا جانشین تلاش  کر رہا ہے.

سچ یہ ہے کہ عراق کے شیعوں میں نوری المالکی اب مقبولیت گنوا چکے ہیں. بدعنوانیوں اور تانا شاہی کے سبب شیعہ نوری المالکی کا  ساتھ چھوڑ رہئے  ہیں. یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل انہوں نے یہ مسلکی شوشہ یا فتنہ پھیلا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کہ قبلہ رخ مکہ نہیں بلکہ کربلہ ہونا چاہئے. صدام حسین کے بعد عراق کا یہ انجام کسی کیلئے حیران کن نہیں، کیونکہ 2003 میں جنگ عراق کا آغاز بش کے اس ناپاک پلان کے تحت ہوا تھا کہ عراق کے تین ٹکرے ہوں اور عالم اسلام کا شیرازہ بکھر جائے جیسا اب ہوتا نظر آرہا ہے.

 امریکا اس بات کو سمجھ رہا ہے کہ جنگ عراق سے مشرق وسطیٰ میں جو آتش فشاں پیدا ہوا تھا اب خلافت تحریک کے ساتھ پھٹ پڑا  ہےعالم اسلام میں طاقت کے بدلتے توازن نے شدت پسندی کا طوفان  کھڑا کر دیا ہے اور اب شام، عراق، لیبیا، ترکی، مصر سے لیکر صومالیہ سوڈان، نائیجریا سے الجزائر تک ایسے جہادی گروپوں کو ابھرنے کا موقع دیا ہے، جنہیں عالم عرب سے زبردست حمایت حاصل ہے کل تک یہ گروپ صرف شدت پسندی کے علمبردار تھے اب یہ حکمرانی کے دعویدار ہیں. نئی سرحدیں بنانے کیلئے پرعزم ہیں. نقشہ بدلنے پر اڑے ہوئے ہیں اور سب سے نازک بات یہ ہے کہ مختلف ممالک میں اب ان نظریات کو مقبولیت اور حمایت مل رہی ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ اب امریکا  کے وہ بڑے دماغ جو کل تک صدام حسین کے فاتح کو عراق کا سب  سے بڑا  مسئلہ حل ہونا مان رہئے تھے، اب کہہ رہے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال  مسئلہ کا حل نہیں. اوبامہ انتظامیہ سمجھ رہی ہے کہ آسمان سے بم برسانے سے زمینی حقیقت نہیں بدل سکتی ہے. اس مسئلے کی بنیاد بغداد میں برسر اقتدار  شیعہ قیادت ہے، جس سے مسلکی امتیاز برتنے سے سنی جہاد کا ظہور  ہوا. اب ان بڑے گروپوں کو بڑے عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے اور امریکا کے سامنے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عرب  ممالک دہشت گردی مخالف جنگ  میں اسکے حلیف ہیں، مگر اب جو تصویر سامنے ہے. اس نے اچھے اچھوں کے  طوطے اڑا دیئے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ اگر  زمینی صورت حال نہیں بدلی جا سکی تو آئی ایس آئی ایس کا خلافت قائم کرنے کا خواب پورا ہو جائے گا. امریکا ہو یا عراقی حکومت اس کیلئے آئی ایس آئی ایس ایک ٹیڑھی کھیر بن گیا ہے. یہ سزا ہے امریکا کیلئے  جس  نے چھوٹے جواز بشمول مہلک ترین ہتھیار اور القاعدہ سے ساز باز کے نام پر عراق پر حملہ کیا تھا. یہ سزا ہے عراقی حکومت کیلئے جس نے بغداد میں اقتدار حاصل ہونے کے بعد وہی کیا، جس کا الزام صدام حسین پر عائد کیا جاتا تھا. اب عالم اسلام میں کوئی بغداد میں خلافت کے خوف سے تھرا رہا ہے، تو کوئی خوشی منا رہا ہے.

________________________________________________________
پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں