Video Widget

« »

منگل، 1 جولائی، 2014

ابو بکر البغدادی کون ہے ؟

 اس کا ایک اصول ہے کہ جب تک دنیا تمہارے نام سے تھرائے گی نہیں، تم کامیاب نہیں ہو سکتے. یہی وجہ ہے کہ عراق میں پیش قدمی کے دوران موصل میں دو ہزار عراقی فوجیوں کو سر عام قتل عام  کرنے کی تصاویر ویڈیو اور سوشل میڈیا پر لا کر آئی ایس آئی ایس کی دہشت کو انتہا پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے.



ابو بکر البغدادی..... دنیا کی نگاہ میں یہ نام ہے خوف کا، یہ نام ہے دہشت کا،  یہ نام ہے درندگی کا اور یہ نام ہے موت کا، جس نے اپنے دماغ اور انتہائی  پسندی کی انتہا کے سبب خود کو ثابت کر دیا ہے، دنیا کا سب سے خوفناک جہادی، جس نے القاعدہ کو سکتہ میں ڈال دیا، جس نے القاعدہ کے  کے سربراہ ایمن الظواہری کو کپکپا دیا، جس نے صرف اپنے دل کی سنی اور دماغ کی مانی، مگر اپنے چاہنے والوں کی نگاہ میں یہ اسلامی دنیا  کا سب سے طاقت ور قائد ہے، جس کے ایک اشارے پر ہزاروں  نوجوان جان دینے کو تیار ہے. یہی وجہ ہے کہ جب اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا نے شام سے لیکر عراق تک پیش قدمی کی تو جہاں دنیا دنگ رہ گئی، وہیں دشمن بھی لوہا ماننے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ سنی بغاوت میں جو سب سے بڑا نام ابھرا، وہ تھا  ابو بکر البغدادی، جس نے پچھلے پانچ سال کے دوران  بڑی خاموشی کے ساتھ آئی ایس آئی ایس کو ایک ایسی طاقت بنا دیا، جو شام اور عراق کے سنی علاقوں پر مشتمل ایک  اسلامی ملک کی تشکیل اور خلافت کی واپسی کا حوصلہ دکھا رہی ہے.

39 سالہ البغدادی 2009 میں امریکہ کی قید سے آزاد ہوا تھا، جسکے بعد اس نے عراق  میں سنی جہاد کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ہی تنظیم کو ایک ایسی  پہچان دے دی ہے، جس کے سامنے القاعدہ بونا نظر آرہا ہے. البغدادی کو جہادی دنیا میں ایک سخت گیر اور بے رحم انسان کے طور پر جانتی اور  مانتی ہے کہ البغدادی کی طرح  حکمت سازی اور ایکشن کا کوئی ثانی نہیں، جو دشمنوں کی گردن قلم کرنے میں ایک پل ضائع نہیں کرتا، تو ایک پل  میں حلیف کا حریف بن جاتا ہے، جیسا کہ القاعدہ کےساتھ ہوا .  اسکے دل میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں. وہ ہم خیال مذہبی نظریات کی تنظیموں کو بھی اختلافات ہونے پر چت کر چکا ہے، جو اپنے مشن میں کوئی رکاوٹ پسند نہیں کرتا ہے. کوئی تنقید  برداشت نہیں کرتا ہے. کوئی اعتراض  پسند نہیں کرتا ہے. اسکا ایک اصول ہے کہ جب تک دنیا تمہارے نام سے تھرائے گی نہیں، تم کامیاب نہیں ہو سکتے. یہی وجہ ہے کہ عراق میں  پیش قدمی کے دوران موصل میں دو  ہزار عراقی  فوجیوں  کو سر عام قتل عام کرنے کی تصاویر ویڈیو اور سوشل میڈیا پر لا کر آئی ایس آئی آئی ایس کی دہشت کو انتہا پر پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اپنی مرضی  کا مالک البغدادی اب کسی کے بس یا قابو میں نہیں ، وہ تو اپنی حکمت کا غلام ہے.

 جس  آدمی نے دہشت گردی کے بادشاہوں کو پسینہ پسینہ کر دیا، وہ بغداد یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکا ہے. جس کو یونیورسٹی  کے ساتھی  سامرت کے ایک غریب طالب علم کے طور پر جانتے تھے، جس کی بغداد کے فراخ دل اور رحم دل پروفیسر مالی مدد بھی کرتے تھے، مگر چند سال بعد جب البغدادی کا نام سامنے آیا، تو امریکہ اس پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھ چکا تھا، مگر اب بھی البغدادی کو پہچا ننے  کا دعوی نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ البغدادی کا صرف ایک فوٹو ہے، جو امریکہ سے لیکر عراق تک شائع ہوتا ہے. دراصل 2006 میں عراقی القاعدہ کے سربراہ الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد عراق میں تنظیم کا  زوال شروع ہو گیا تھا. کیونکہ انبار صوبہ میں سنی قبائلی ہی زرقاوی کے طریقہ  کارکے خلاف ہو گئے تھے اور القاعدہ کے نیٹ  ورک کو تباہ کرنے میں اہم کردار نبھا رہے تھے، مگر پھر عراقی القاعدہ کو نئی زندگی دینے کیلئے 2010 میں البغدادی نے اسکا دائرہ شام تک وسیع کر دیا ، تاکہ شام کی خانہ جنگی میں دوبارہ دھاک جمائی جا سکے. اسی مقصد سے البغدادی نے تنظیم کا نام اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا کر دیا تھا. 2010 کے بعد البغدادی نے خاموشی کے ساتھ ایسا جال بچھایا کہ امریکہ کو اسکی بو  تو ملی ، مگر امریکہ نے  شہد کی مکھی کے چھتے میں ہاتھ نہ ڈالنے کا فیصلہ کرکے عراق کو الوداع کہہ دیا.

 شام میں ابو بکرالبغدادی


2010 میں شام کی خانہ جنگی کے سبب البغدادی نے القاعدہ نواز نصر گروپ کو اتحاد کا پیغام محبت بھیجا. البغدادی کی خواہش تھی کہ بشار الاسد کے خلاف جنگ میں آئی ایس آئی ایس بھی لڑے، مگر نصر فرنٹ کے ابو محمد الگولانی نے انکار کر دیا، جو کہ شام میں کار دھماکوں کی جھڑی لگا کر سرخیوں میں تھے. وہ البغدادی کی کمانڈ میں لڑنے کو راضی نہیں ہوئے، تو البغدادی نے شام میں نصر فرنٹ کے خلاف جنگ چھیڑ دی. القاعدہ کے سربراہ ایمن الظوہری کی ناراضگی سامنے آئی، مگر البغدادی کسی کو خاطر میں لانے کا قائل نہیں، اسلئے شام میں سنی جہادیوں کی داخلی جنگ شدت پکڑ گئی، مگر  یہ البغدادی کا جادو تھا، جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ شام پر آئی ایس آئی ایس  کا کنٹرول ہو گیا. آئی ایس آئی ایس کے جہادیوں کا ماننا تھا کہ البغدادی میں دشمنوں کو چکرانے کی غیر معمولی صلاحیت ہے. وہ اس قسم کے حملے کرنے کا عادی ہے کہ دشمن بھونچکا رہ جائے ، جیسا کہ البغدادی کسی کی سنتا نہیں، اس نے صرف اور صرف القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو عزت و احترام دیا اور صرف اسامہ کی باتوں کو یاد رکھا ہے. یہی وجہ ہے  کہ اظواہری نے شام میں آئی ایس آئی ایس آئی کو سرگرم رکھا. اظواہری  نے البغدادی کو رام کرنے کی کوشش کی، مگر البغدادی نے جواب دیا  کہ  " شیخ (اسامہ بن لادن )  کا خواب تھا ایک اسلامی ملک کا، جہاں خلافت نافذ ہو اور ہم شیخ کے خواب کو حقیقت بنانے کیلئے لڑ رہئے ہیں". اسکے بعد  الظواہری نے یہ کہہ کر البغدادی سے  لاتعلقی کر لی تھی کہ اس نے تشدد کی انتہا کر دی ہے، مگر البغدادی نے شام یں 2012 اور 2013 کے دوران شمالی اور مشرقی شام میں کنٹرول پایا اور رقا میں شریعت نافذ کی.

دنیا کو ڈرنا چاہئے

 آئی ایس آئی ایس میں ابو بکر البغدادی نے غیر ملکی جہادیوں کیلئے دروازے کھولے، خاص طور پر امریکی  اور یوروپی جہادیوں کو آئی ایس آئی ایس نے تربیت دی، جسکا خاص سبب یہ تھا کہ جب تک چاہیں مغربی جہادی شام کی خانہ جنگی میں لڑتے رہیں ، پھر  وطن لوٹیں اور نئے  جہادی تیار کریں. البغدادی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے جہادی بے خوف اور بے رحم ہوں، جنہیں دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہوں اور تنظیم کا پرچم دیکھتے ہی کپکپی طاری ہو جائے، تنظیم نے ایسے ویڈیو سوشل میڈیا پر دکھائے ہیں، جن میں جہادی دشمنوں کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ قتل کر رہئے ہیں. البغدادی کو قریب سے جاننے والے ایک عرب جہادی کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے سربراہ کا  ماننا ہے کہ دنیا پر اسکا خوف ہو. اگر آپ اسکی فوج کا حصہ ہیں تو دنیا آپ سے ڈرے. اگر دنیا کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اگلا حملہ کیسے اور کب ہو گا. البغدادی کے مزاج میں بے انتہا ظلم اور بے رحمی نے القاعدہ کو  پریشان  کر دیا تھا. یہی وجہ ہے کہ القاعدہ نے البغدادی سے لا تعلقی ظاہر کی، مگر البغدادی جانتا تھا کہ اب القاعدہ بے سر کی لاش ہے، اسلئے اس نے بے رحمی اور درندگی سے توبہ کرنے کے بجائے القاعدہ اور الظواہری کو انگوٹھا دکھا دیا. حقیقت یہ ہے کہ البغدادی کا ایسا خوف ہے کہ عراقی فوج نے شمالی علاقوں میں جہادیوں کی آمد سے قبل ہی چیک پوسٹ، مورچے اور چھاؤنیوں کو خالی کر دیا تھا اور جہاں شکنجے میں آئے، وہاں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے.
 
2009 میں جب عراق کے ایک امریکی قید خانہ سے البغدادی کو چار سال بعد رہا کیا گیا، تو  البغدادی نے امریکی افسران سے کہا تھا کہ میں آپ سے نیویارک  میں ملوں گا. امریکی کرنل کنٹھ کنگ کے مطابق البغدادی نے رہائی کے وقت ایک فوجی کو دیکھ کر یہ جملہ ادا کیا  تھا، جو کہ  نیویارک سے تعلق  رکھتا تھا. کرنل کنگ کے مطابق جب البغدادی کے جہادی لیڈر بن کر ابھرنے کی خبر ملی، تو بہت زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی، البغدادی کو اب اسامہ بن لادن سے زیادہ  امریکی مخالف اور پر تشدد مانا جاتا ہے. امریکی فوج بھی جانتی ہے کہ 1971 میں پیدا ہونے والا البغدادی صرف ہتھیار چلانا نہیں جانتا ہے، بلکہ اسکا دماغ ان ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ہے. وہ میدان جنگ کا کمانڈر ہے اور فوجی حکمت ساز بھی. اسکو شام میں بشارالاسد کے حامی لڑاکے " بھوت" کے نام سے پکارتے ہیں کیونکہ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو البغدادی کا چہرہ دیکھ چکے ہیں. ٹائم میگزین کو  2013 میں ایک حزب الله کمانڈر نے بتایا تھا کہ البغدادی رازداری پر یقین رکھتا ہے. رازداری ہی اسکی طاقت ہے اور سب سے خطرناک دشمن ہے. جب وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ بات چیت کرتا ہے، تو اس وقت بھی چہرہ نقاب میں چھپا ہوتا ہے. امریکی فوج بھی حیران ہے کہ البغدادی کا یہ حملہ ایک بڑا اشارہ تھا اور اسکے اعتماد کا نمونہ ، جو اس وقت امریکی کمانڈر بھی سمجھ نہ سکا.

 اب البغدادی نمبر ون



جہادی دنیا میں اب البغدادی کو نمبر ون کا درجہ حاصل ہے. القاعدہ کے سربراہ الظواہری جو 10 سے روپوشی سے تنظیم کو کنٹرول کر رہئے ہیں اب البغدادی کے سایہ میں ہیں. اب البغدادی کے مخالف اور دشمن اس بات کو تسلیم کر رہئے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس  لیڈر میں پیش قدمی کا حوصلہ ہے اور شام و عراق سے باہر کی دنیا پر اثرانداز ہونے کی اہلیت ہے وہ دن بدن جہادیوں میں مقبول ہو رہا ہے. جہادیوں کی نظر میں وہ اسلام کیلئے لڑ رہا ہے. حیرت کی بات یہ ہے کہ شام میں البغدادی کا مخالف گروپ نصر فرنٹ کے جہادی بغدادی کو سلام کر رہئے ہیں. ایک جہادی کے مطابق البغدادی کو افغانستان اور پاکستان سے خطوط مل رہے ہیں، دیگر جہادی گروپ ہاتھ ملانا چاہتے ہیں. اظواہری  بھی البغدادی کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے.

آئی ایس آئی ایس کے جہادیوں کی نظر میں البغدادی نئی نسل کے جہادیوں کا ترجمان ہے، نمائندہ ہے، قائد ہے، جو  اسامہ بن لادن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے سرگرم ہے اور اسامہ.... البغدادی میں یہ یکسانیت تھی کہ دونوں ہمیشہ آگے کی جانب دیکھتے تھے. دونوں مستقبل کی سوچتے تھے. آئی ایس آئی ایس کی تشکیل نے الزواہری کے القاعدہ کو تقریباً ناکارہ بنا دیا ہے. اب شام اور عراق میں جہادیوں کا دعوی ہے کہ الزواہری کے سبب القاعدہ کا وجود ختم ہو چکا ہے. ایک جہادی نے کہا ہے کہ الظوہری اب بے بسی کے ساتھ تماشہ دیکھ رہے ہیں. وہ سوچ رہے ہیں کہ البغدادی کی کوئی چال غلط پڑے، وہ انتظار کر رہے ہیں  کہ البغدادی جیتیں گے یا  ہاریں گے، مگر دونوں صورت میں الزواہری کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ لیڈر تو البغدادی ہی رہیں گے.

2009 میں چار سال امریکی جیل میں گزارنے کے بعد عراقی القاعدہ کو دوبارہ زندہ کرنے کا بیڑا اٹھایا، جو 2006 میں زرقاوی کی ہلاکت اور سنی قبائلیوں کی بغاوت کے سبب  دمتوڑ رہا تھا. البغدادی نے 2010 میں شام کی خانہ جنگی کو سنہرا موقع مانا اور خانہ  جنگی کی آگ میں ایسا تیل ڈالا کہ دنیا دنگ رہ گئی. البغدادی نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ شام کی خانہ جنگی ہی عراق میں طاقت بخشے گی اور یہی وجہ  ہے کہ جب  الظوہری نے البغدادی   کو شام سے دور رہنے کی ہدایت کی، تو البغدادی نے الظوہری کو دور  کر دیا اور  القاعدہ کو الوداع کہہ دیا، مگر  القاعدہ کے بانی  اسامہ بن لادن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کر دیا کہ آئی ایس آئی ایس کا اصل مشن اسامہ کے اسلامی ملک اور دور خلافت کی واپسی ہے. مشرقی وسطیٰ کے تجزیہ کار البغدادی کے دماغ کی داد دے رہے ہیں، جس نے خود القاعدہ سے دور  کیا، مگر اسامہ  سے نہیں ، جس نے جہادیوں میں الظواہری کو ایک پل میں ویلن اور البغدادی کو ہیرو بنا دیا.


پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں