Video Widget

« »

جمعرات، 3 جولائی، 2014

آخر یہ ISIS ہے کیا؟

آئی ایس آئی ایس نے یوں تو القاعدہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، مگر تشدد بے رحمی اور بربریت کے معاملے میں القاعدہ کو بونا بنا دیا ہے.


اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا جہادیوں کی تنظیم نہیں کوئی گروپ نہیں کوئی گینگ نہیں بلکہ یہ ایک  حکومت کا نام ہے ایک فوج کا نام ہے اور ایک خوفناک موت کا نام ہے جو مذہبی نظریات کیلئے دل دماغ پر قبضہ  کے ساتھ ایک ایسی سر زمین کا طلب گار ہے جہاں اسلامی حکومت ہو اور نئے دور خلافت کا آغاز ہو.

آئی ایس آئی ایس نے شام سے لیکر عراق تک فوجی پیش قدمی کرکے ایسا قدم اٹھایا ہے، جس کیلئے اب تک بڑے بڑے جہادی بشمول اسامہ بن لادن نعرے بلند کرتے تھے یعنی ایک اسلامی ملک اور خلافت. آئی ایس آئی ایس نے یوں تو القاعدہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، مگر تشدو، بے رحمی اور بربریت کے معاملے میں القاعدہ کو بونا بنا دیا ہے. جنگ عراق کے بعد اردن نژاد جہادی الزرقاوی نے عراق ان القاعدہ کا پرچم لہرایا، تو  عراق میں القاعدہ کا وجود ہوا. زرقاوی کے مسلکی تشدد بھڑکانے پر اسامہ نے اعتراض کیا اور زرقاوی کو حکمت عملی تبدیل کرنے کا مشورہ دیا، تو زرقاوی نے اسامہ کو نظرانداز کردیا تھا. جون 2006 میں  زرقاوی کی ہلاکت کے بعد عراق میں القاعدہ کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا، مگر 2010 میں ابوبکر البغدادی نے القاعدہ کا پرچم اٹھایا، بلکہ اپنا دائرہ کار عراق سے شام تک کر لیا، جسکے سبب تنظیم کا نام اسٹیٹ ان عراق اینڈ سریا ہوا، لیکن زرقاوی کی طرح البغدادی نے بھی تشدد اور بربریت پر القاعدہ کی ہدایت کو نظرانداز کیا، بلکہ موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کو یہ کہہ کر آئینہ دکھادیا کہ آئی ایس آئی ایس دراصل اسامہ بن لادن کے اسلامی ملک اور خلافت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے مشن میں لگی ہوئی ہے. جبکہ القاعدہ کی قیادت جہادیوں میں پھوٹ ڈال رہی ہے. یہ ہیں تیور اور مزاج آئی ایس آئی ایس کے، جس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا پسند نہیں کیا ہے، اسلئے القاعدہ کی " ذرا آہستہ " کم تشدد اور قتل عام پر لگام کے مشوروں کو درکنار کرکے آئی ایس آئی ایس نے آج خود  کو دنیا کی سب سے بڑی جہادی طاقت بنا دیا ہے جسکے حوصلے سے القاعدہ پسینہ پسینہ ہے جس کی بربریت سے القاعدہ پر  کپکپی ہے، جس کے عزائم سے القاعدہ نروس ہے.


 زرقاوی کا ظہور


جنگ عراق کے بعد جب سنی جہاد کا آغاز ہوا، تو اس میں سب سے بڑا نام تھا الزرقاوی... زرقاوی نے 17 اکتوبر 2004 کو القاعدہ کے سربراہ  اسامہ بن لادن کے نام ایک پیغام جاری کیا تھا.


 " خدا کی قسم ! جہادیوں کے جہادی، اگر آپ ہمیں سمندر میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں گے تو ہم ایسا ہی کریں گے. ہم آپ کے حکم کے غلام رہیں گے. آپ حکم کریں، ہم اسکی تعمیل کریں گے."


 اسکے ساتھ ہی زرقاوی کی تنظیم القاعدہ ان عراق کے نام سے ابھری، جس نے خوفناک بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے سبب امریکی فوج کو ہلا دیا. سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار بروس ری ڈیل کے مطابق زرقاوی نے عراق میں القاعدہ کی کمان سنبھالتے ہی بے پناہ ذہانت کا مظاہرہ کیا، وہ بھی حکمت ساز تھا. اس نے شیعوں پر حملے کئے اور تشدد کی لہر پیدا  کر دی. مقصد تھا شیعہ جوابی حملے شروع کریں اور پھر القاعدہ سنیوں کا تحفظ کرنے کیلئے مورچہ سنبھالے، ایسا ہی ہوا. عراق تین  سال تک خوفناک مسلکی تشدد کی آگ میں جلا اور القاعدہ کیلئے جہادیوں کا لشکر تیار ہو گیا. جب سامرت کی سنہری مسجد پر بم دھماکہ ہوا، تو مسلکی تشدد 2006 میں  انتہا پر تھا. زرقاوی نے امریکی فوج کے ساتھ عراقی سیکورٹی میں خوف پیدا کردیا تھا. زرقاوی  نے تشدد کی ایسی لہر پیدا کی کہ سنی قبائلی زرقاوی کے کھل خلاف ہو گئے، مگر اردن نژاد زرقاوی اپنی  حکمت عملی میں  تبدیلی کرنے کو تیار نہیں تھا.

سابق امریکی صدر جارج بش نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ زرقاوی اور معزول صدر صدام حسین میں  تال میل ہے. 5 فروری 2003 کو امریکی وزیر دفاع کولن پاول نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں 20 مرتبہ زرقاوی کا نام لیا. وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ عراق میں القاعدہ پہلے سے سرگرم تھا، مگر ایسا ثابت نہ ہو سکا. فوجی دماغ حیران تھے کہ عراق پر قبضے کے چند  ہفتہ بعد ہی زرقاوی بغداد میں داخل ہو گیا تھا. اردن کے زرقا میں پیدا ہوئے زرقاوی نے 25 سال کی عمر  میں افغانستان کا رخ کیا تھا اور کمیونسٹوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا. اردن واپسی پر مقامی جہادیوں کے ساتھ حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کے الزام میں زرقاوی جیل گیا، 1999 میں رہا ہوا. اسکے بعد دوبارہ افغانستان گیا، مگر اسامہ بن لادن نے زرقاوی پر بھروسہ نہیں کیا. تو اس نے ہرات کے قریب اپنا تربیتی کیمپ کھول لیا تھا. 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد زرقاوی نے شمال مشرقی عراق کے کرد علاقوں کے پہاڑوں میں پناہ لی تھی، تاکہ صدام حسین کی پہنچ سے باہر رہے. 2003 میں جنگ عراق کے بعد جب بغداد پر امریکہ کا قبضہ ہوا تو زرقاوی نے 6 ماہ کے دوران ایسے دہشت گردانہ حملے کئے، جس نے امریکہ کو دہلا دیا اور اسلامک اسٹیٹ ان عراق کے نام سے زرقاوی نے القاعدہ کا دامن تھام لیا. زرقاوی نے القاعدہ کے پرچم تلے عراق میں بدترین مسلکی تشدد بھڑکایا جس میں تین سال کے دوران 70 ہزار افراد مارے گئے اور آجتک اسکے اثرات ختم نہیں ہو سکے ہیں. جب 7 جون 2006 کو  زرقاوی کو امریکہ  نے لیزر گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بناکر موت کی نیند سلایا، تو عراق میں القاعدہ کا زور ٹوٹا تھا. جہادی بکھر گئے تھے اور نیٹ ورک میں  رابطہ نہیں رہا تھا.

 البغدادی نے سنبھالی کمان


  2010 میں جب البغدادی ایک طاقتور جہادی کی شکل میں ابھرا، تو اس وقت عراقی القاعدہ کا بکھراؤ ہو رہا تھا. امریکی فوج اور سنی قبائلی لیڈران کے دباؤ کے سبب القاعدہ کیلئے عراق میں کھل کر جنگ لڑنا مشکل ہو گیا تھا، مگر البغدادی نے جب اسلامک اسٹیٹ ان عراق کی قیادت سنبھالی، تو اس میں شام  تک دائرہ وسیع کر لیا اور تنظیم کا نام اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا رکھ دیا، کیونکہ البغدادی جانتا تھا کہ شام کی خانہ جنگی القاعدہ کو نئی زندگی دے گی اور ایسا ہی ہوا. ساتھ ہی آئی ایس آئی ایس نے دیگر جہادی گروپوں کی ایک چھتری کے نیچے لانے کا کام کیا اور جو اتحاد کیلئے تیار نہیں ہوا، اس کو بھی دشمن کی فہرست میں شامل کر دیا. البغدادی نے تنظیم کے دروازے غیر ملکی جہادیوں کیلئے کھول دیئے. سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس رازداری کو بہت اہمیت دیتی ہے البغدادی کی سرگرمیوں کی آہٹ نہیں مل پائی ہے.

 شام کی خانہ جنگی میں تنہا لڑتے ہوئے آئی ایس آئی ایس نے نظر عراق پر رکھی اور جب البغدادی کو محسوس ہوا کہ اب تنظیم عراق میں  یلغار کر سکتی ہے یا پھر قدم جما سکتی ہے، تو پچھلے سال فلوجہ  اور دیگر سنی شہروں پر قابض ہو گئے. البغدادی نے آئی ایس آئی ایس کو ایک ایسی طاقت بنایا، جس کو کوئی للکارنے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے. تنظیم میں برداشت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے.  یہی وجہ ہے کہ دشمن یا مخالف کی گردن ایک پل میں زمین پر نظر آتی ہے، تو دوست یا حلیف ایک پل میں نشانہ پر آجاتے ہیں. البغدادی کے مطابق تنظیم کا مشن ہے اسامہ کا خواب پورا کرنا اور ایک اسلامی ملک قائم کرنا، جہاں خلافت نافذ ہو، مگر البغدادی کی سب سے بڑی طاقت ہے اتحاد.  وہ جہاں پیش قدمی کرتا ہے تنظیم کے  نئے دوست اور حلیف بنا کر  زمین تیار کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ شام میں آئی ایس آئی ایس سب سے بڑی طاقت بنی اور اب اس نے عراق میں کہرام مچا رکھا ہے.

 آئی ایس آئی ایس کا مشن اور مقصد


 البغدادی کی فوج نے شام سے عراق تک یلغار کی تو ایک نعرہ تھا اور ایک ہی عزم کہ دونوں ملکوں کے سنی علاقوں پر مشتمل ایک اسلامی حکومت کی تشکیل، جہاں خلافت لاگو ہو گی. عراق میں داخل ہونے سے قبل البغدادی کا لشکر جانتا تھا کہ یہ ون وے سفر ہے. یہ فوج عراق میں داخل تو ہو گی، مگر واپسی کی ضمانت نہیں، کیونکہ اگر امریکہ نے ہوائی حملے کر دیئے تو 6 یا 7 ہزار جنگجوؤں کیلئے واپسی ممکن نہیں رہے گی. مگر آئی ایس آئی ایس  کے جہادیوں کے سر پر صرف ایک مقصد  چھایا ہوا ہے کہ نیا اسلامی ملک اور خلافت.

 ایک اندازے کے مطابق آئی  ایس آئی ایس میں تقریبا 10 ہزار جہادی ہیں ، جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی کے ساتھ دیگر یوروپی ممالک کے جہادی شامل ہیں. امریکہ اور عرب کے جہادی بھی ہیں. برطانیہ کے ایک تجزیہ کار رچرڈ بریٹ کے مطابق البغدادی میں غضب کی صلاحیت ہے، وہ فوجی حکمت عملی کا ماہر ہے، جس طرح شام اور عراق کے شہروں پر اس نے قبضہ کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطہ کی باریکیوں سے واقف ہے. اگر آپ کسی کا ایکشن دیکھنا چاہتے ہیں تو البغداد کا رخ کریں. البغدادی کا بنیادی اصول ہے کہ خوف پیدا کرو. خوف ہی پیش قدمی کی راہ صاف کرتی ہے. اس کا نمونہ تکریت  اور موصل میں ملا، جب عراقی فوجی صرف آئی ایس آئی ایس  کی آمد کی خبر سنکر فرار ہو گئے تھے. آئی ایس آئی ایس کا ایک مقصد تو پورا ہو گیا ہے اسنے خوف پیدا کردیا ہے. کسی ملک کی فوج اگر چند ہزار جنگجوؤں کا سامنا کئے بغیر فرار ہو جائے، تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جہادی کس قدر خطرناک اور خونخوار ہوں گے. ایک اور مغربی تجزیہ کار نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آئی ایس آئی ایس بڑی حد تک اپنے مقصد میں  کامیاب ہو رہا ہے. اگر عراق کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہیں، تو تکریت سے لیکر موصل تک کا خطہ سنیوں کا ہو گا اور ایسا ہوا تو سنی خطے پر آئی ایس آئی ایس کو قبضہ کرنے سے کوئی روک نہیں سکے گا.

  شاید آئی ایس آئی ایس واحد ایسی دہشت گرد تنظیم ہے، جو سالانہ رپورٹ کارڈ شائع کرکے دنیا کو بتاتی ہے کہ تنظیم کی کار گزاری کیسی رہی. 2012 اور 2013 میں تنظیم نے سالانہ رپورٹ کارڈ جاری کیا ، جس کے تحت صرف 2013 میں آئی ایس آئی ایس نے عراق میں 10 ہزار حملے کئے، جن میں قتل، اغوا، بمباری، خود کش حملے  اور قیدیوں کو آزاد کرانا شامل ہے. اس رپورٹ کا مقصد تنظیم کو فنڈ دینے والوں کو متوجہ کرنا ہے یا جو لوگ تنظیم کو فنڈ دے رہے ہیں انہیں اس بات کا علم ہو سکے کہ آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیاں کیا ہیں. ایسی ہی ایک رپورٹ میں اس بات کا اعتراف  کیا گیا ہے کہ تنظیم کو  سب سے زیادہ فنڈ  جنوبی ایشیا سے حاصل ہوا ہے اور انڈونیشیا میں آئی ایس آئی ایس کو بہت مقبولیت ملی ہے، جہاں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے. تنظیم چاہتی ہے کہ لوگ اسکے سیاسی نظریات اور مقاصد سے واقف ہوں اور ساتھ ہی اسکے کاموں کی تفصیل معلوم ہو. 2013 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 ہزار جہادی فی الحال آئی ایس آئی ایس کے پرچم تلے اکٹھا ہوئے  ہوئے ہیں. جن میں تقریبا 12 ہزار شام اور عراق کے باہر  سے تعلق رکھتے ہیں. دو ہزار جہادی یوروپ کے ہیں. سوشل میڈیا کے بھر پور  استعمال کے سبب آئی ایس آئی ایس نے یوروپ اور امریکہ سے نہ صرف فنڈ حاصل کیا، بلکہ جہادی بھی پہنچ رہے ہیں اور فنڈ کے سبب آئی ایس آئی ایس  اب دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم کے ساتھ سب سے دولت مند دہشت گرد طاقت بن گئی ہے.

پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں