Video Widget

« »

ہفتہ، 31 مئی، 2014

ایک عورت ایک کہانی

 جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کو لاہور ہائی کورٹ کے باہر پولیس کی موجودگی میں اسکے ناراض والدین نے ساتھیوں سمیت  سنگسار کر دیا اور فرار ہو گئے. اقوام متحدہ سے لے کر دنیا کے کئی ممالک نے اس اندوہناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جسکے بعد وزیراعظم نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرکے معاملے میں حکومتی دلچسپی کا ثبوت فراہم کردیا. اسکے بعد کیا ہو گا پاکستان میں پولیس تفتیش، سیاسی دباؤ اور آخر میں عدالتی فیصلوں کے منطقی انجام کے بارے میں آسانی کے ساتھ رائے قائم کی جا سکتی ہے


 آخری ہچکی لینے سے قبل فرزانہ اقبال نے اپنے اردگرد جمع ہوتے لوگوں کو دیکھا جو مجمع کی شکل اختیار کر رہے تھے. آنکھوں کی مدھم ہوتی  روشنی میں اس ہجوم کو دیکھا جو اس کی زندگی بچانے کیلئے تو ایک نہ ہو سکا اور اب اسکی موت کا تماشا  دیکھنے کیلئے دھکم پیل کر رہا تھا. وردی میں ملبوس اسلحے سے لیس ان محافظوں کو دیکھا جن میں کوئی ایک بھی ایسا جواں مرد نہ تھا جو اپنے فرض کی پکار پر قاتلوں کو للکارتا.  اب یہ سب ایک زندگی کو لاش بنتے دیکھنے کے عمل میں کیسے پرجوش تماشائی تھے. اسکی گردن ایک طرف ڈھلک رہی تھی اور صرف خدا جانتا ہے کہ اس لمحے " غیرت مندوں " کے اس معاشرے میں کتنوں نے مرتی ہوئی اس بےبس عورت کی آنکھوں  میں لکھے اس پیغام کو سمجھنے میں کامیابی حاصل کی تھی جو کچھ یوں تھا کہ ......
" سنو موت کسی کے مارنے سے نہیں آتی، بیماری سے نہیں آتی، حادثے سے نہیں آتی، بڑھاپے سے نہیں آتی، موت تو بے حسی سے آتی ہے، ضمیر کے مرنے سے آتی ہے- فرزانہ نہیں اسوقت تم سب لاشیں ہو، چلتی پھرتی زندہ  لاشیں"-

 یہ صرف ایک فرزانہ کی کہانی نہیں یہاں تو ہر دوسرے دن کسی نہ کسی عورت کو غیرت کے نام پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، ظلم کی کہانیاں یہاں کچھ زیادہ اجنبی نہیں- اسی غیرت کے نام پر کہیں عورت کو قتل کیا جا رہا ہے تو کہیں اسکی عصمت دری کی جا رہی ہے . ایسے واقعات کو جس قدر سرسری انداز سے ہمارے ہاں لیا جاتا ہے، ایسا کہیں نہیں ہوتا لیکن شائد  اس ملک میں کوئی ظلم اب ظلم نہیں رہ گیا.

فرزانہ اقبال نے جو جرم کیا وہ خاندانی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے  پسند  کی شادی تھا. وہ سمھجتی تھی کہ عاقل بالغ ہونے  کے ناطے اپنی پسند کے لڑکے سے نکاح کرنا اسکا مذہبی اور قانونی حق ہے. اسی خوش گمانی کے سہارے نڈر ہوکر انصاف کیلئے عدالت عالیہ کی دہلیز تک  آن پہنچی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ اس معاشرے میں پسند کی شادی ایک ایسا جرم ہے جس میں خاندان کا کوئی بھی مرد خود ہی منصف بن جاتا ہے اور عورت کو سزا دینے کا فیصلہ سنا سکتا ہے.

 یہاں تو منصف  ایک نہیں درجنوں تھے جو عدالت عالیہ میں اسکے قدم رکھنے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ  سنانے ہاتھ میں اینٹیں اٹھائے دیوانہ وار اسکی طرف دوڑے چلے آرہے  تھے. " مجرم " نے اپنے خاندان کی مرضی کے برعکس پسند کی شادی کرکے اپنے خاندان کی " بےعزتی " کی تھی. " بے عزتی " کا یہ تصور ہی ایک اپاہج اور مفلوج سوچ ہے. ممکن ہے کہ وہ اپنے انتخاب میں غلط ہو اور خاندان کے دیگر افراد اقبال نامی لڑکے کو اسکے لئے موزوں خیال نہ کرتے ہوں لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ اسکی جان ہی لے لی جاتی. جب بات غیرت کی ہو تو ذہنوں میں عموما شادی سے قبل تعلق کا خیال ابھرتا ہے لیکن فرزانہ اقبال کے درجنوں خود ساختہ منصف تو ہاتھ میں جس طرح اینٹیں اٹھائے بھاگے چلے آرہے تھے اس سے ان کا یہ پیغام واضح تھا کہ اس معاشرے میں یہ بھی ناقابل معافی جرم ہے کہ  عورت کسی ایسے لڑکے سے شادی کرے جو خاندان کی پسند نہ ہو

بہت سے لوگوں کے نزدیک شریعت کا مطلب محض ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے اور عورتوں پر جبر ہے لیکن وہ اس طرف دھیان دینا پسند نہیں کرتے کہ ان سزاؤں کے نفاذ کیلئے شہادت کا معیار کتنا سخت رکھا گیا ہے. وہ یہ بھی بهول جاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کے حقوق کیا ہیں. انہیں یہ نظر آنا بھی بند ہو جاتا ہے کہ یہ اسلام ہی ہے جس نے اسلامی قوانین کی شکل میں ساری دنیا کے سامنے سب سے زیادہ واضح ، مدلل، روشن خیال اور شائستہ اصول پیش کئے جنکی روح کو سمھجنے کی ضرورت ہے. یہ نہیں کہ اپنی مرضی کے لفظ اٹھائے اور اسلام کی خدمت کرنے چلے نکلے. کسی دانا کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاشرے کا تجزیہ کرنا مقصود ہو تو وہاں کی عورت کی سماجی حیثیت دیکھ لو.  اس قول کی روشنی میں سڑک پر فرزانہ کی لہو میں لتھڑی لاش کو دیکھتے ہوئے آپ اپنے معاشرے کا خاکہ خود بنا لیجئے.

 ایک عاقل بالغ بیاہی حاملہ عورت کو سنگسار کرنا اور اسکے قتل کو " قتل برائے غیرت " کا نام دینا ہی لفظ " غیرت " کی توہین ہے. سانحہ ہو جانے کے بعد وزیراعظم کی طرف سے نوٹس لئے جانے سے کیا آئندہ ایسے خوفناک واقعیات کی روک تھام ہو جائے گی؟ اسکا جواب یقینا " نہیں " ہے کیونکہ جب تک قانون کو مضبوط کرنے اور اس پر سختی سے عمل کروانے کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی اسطرح کے سانحات ہوتے رہیں گے. فرزانہ کو موت کے گھاٹ اتارنے والے قاتلوں کے سامنے پولیس کی خاموشی ہی گویا " ریاست کی واضح منظوری ہے "  اور عورتوں کیلئے پیغام کہ ایک عورت کو خاموشی سے سب کچھ  برداشت کر لینا چاہیے خواہ یہ " غیرت مندوں " کی طرف سے مسلط موت ہی کیوں ناں ہو.


 ( زیبا نورین )

اوریجنل لنک پر پڑھنے کیلیے یہاں کلک کریں..... ڈیلی وقت

پڑھنے کا شکریہ
ایک تبصرہ شائع کریں