Video Widget

« »

سوموار، 26 مئی، 2014

جماعت اسلامی اور مارشل لاء


جماعت اسلامی کے نئے امیر سراج الحق نے ایک انٹرویو میں یہ مضحکہ خیز بات کہی ہے کہ جماعت اسلامی مارشل لاء کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، انہوں نے پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ کراچی پولیس میں ایک سیاسی جماعت کے ہزاروں کارکن بھرتی کیے گئے ہیں، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ مارشل لاء کی مخالفت کی ہے






ہمارے ملک میں چار مرتبہ جنرلوں کی حکومت قائم ہوئی ہے، امیر جماعت اسلامی سراج الحق دودھ  پینے والے بچے نہیں ہیں ، وہ قوم کو  بتائیں کہ کون سے  جنرل کے بر سر اقتدار آنے پر جماعت اسلامی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور اس مقابلہ کا کیا انجام ہوا تھا؟


 پہلا مارشل  لاء جنرل ایوب نے، دوسرا مارشل لاء جنرل یحییٰ نے اور تیسرا مارشل لاء جنرل ضیاء نے نافذ کیا تھا، چوتھے جنرل پرویز مشرف  تھے جو بر سر اقتدار   آے، مگر انہوں نے مارشل لاء نافذ نہیں کیا، فوجی عدالتیں بھی نہیں قائم کیں اور اخبارات پر سنسر بھی  نہیں نافذ کیا تھا


 سراج الحق کو اگر یاد ہو تو وہ عوام کو بتائیں کہ جنرل ایوب کے خلاف جماعت اسلامی نے کتنے تیر چلاۓ تھے، جنرل یحییٰ کا ساتھ دیا تھا یا نہیں اور جنرل ضیاء کی فوجی کابینہ میں چار وزارتیں قبول کی تھیں یا نہیں


 جنرل ضیاء سب سے زیادہ مدت تک بر سر اقتدار رہے، اگر وہ ایک فضائی حادثہ کی وجہ سے جاں بحق نہ ہوتے اور الله انکی عمر دراز کرتا تو وہ آج بھی راج کر رہے ہوتے، انکی طویل ترین حکومت کے دور میں پہلے دن سے آخری دن تک جماعت اسلامی نے انکا بھر پور ساتھ دیا،  کبھی انکے خلاف کوئی بیان نہیں دیا اور کوئی مظاہرہ نہیں کیا تھا، پیپلز پارٹی نے جنرل ضیاء کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت چلائی تھی، جماعت اسلامی نے اسمیں حصہ نہیں لیا  اور اسے ناکام بنانے یا اس میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں ضرور کی تھیں


 سراج الحق نے اپنی جماعت کے بانی امیر مولانا مودودی کی کتابیں ضرور پڑھی ہوں گی، اگر انہیں موقع ملے تو وہ انکے بیانات کا ریکارڈ بھی دیکھیں جو انہوں نے تحریک پاکستان کے دوران دیے تھے، انہوں نے پاکستان کو نا پاکستان کہا تھا  اور قائد اعظم کو کافر اعظم  کہا تھا


 سراج الحق کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس میں ایک سیاسی جماعت کے ہزاروں کارکن بھرتی کیے گئے ہیں، یہ معمہ کسطرح حل ہو کہ امیر جماعت اسلامی نے اس سیاسی جماعت کا نام کیوں نہیں لیا جس کے ہزاروں کارکن کراچی پولیس میں بھرتی کیے گئے ہیں، ویسے یہ بات سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت سندھ پیپلز پارٹی کے پاس ہے اور سابق حکومت بھی اسی جماعت کی تھی

 سراج الحق امیر جماعت اسلامی کی دریافت یہ ہے کہ کراچی پولیس میں ایک سیاسی جماعت کے ہزاروں کارکن بھرتی کیے گئے ہیں، کیا انکے پاس پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی فہرست ہے، اگر ایسا ہے تو وہ ان ہزاروں کارکنوں کی فہرست جاری کریں جو کراچی پولیس میں بھرتی کیے گئے ہیں، اگر وہ ہزاروں کارکنوں کے نام نہیں بتا سکتے تو صرف چار پانچ سو کارکنوں کے نام ہی بتا  دیں جو کراچی پولیس میںبھرتی کیے گئے ہیں، اگر انکے پاس ان کارکنوں کی فہرست بھی نہیں ہے تو انہوں نے کس  کی خفیہ اطلاع پر کراچی پولیس میں کسی جماعت کے ہزاروں کارکن کی بھرتی کا الزام لگا دیا، کیا وہ آدمی صادق اور امین کہا جا سکتا ہے جو میڈیا کی اطلاع  پر حکومت پر سنگین الزام تو لگاے مگر کوئی ٹھوس ثبوت نہ پیش کر سکے

Thank You For Reading
ایک تبصرہ شائع کریں