Video Widget

« »

منگل، 27 مئی، 2014

عمران خاں کے خواب

تحریک انصاف کے صدر عمران خاں نے کہا ہے کہ "بہت جلد" پورے ملک پر تحریک انصاف حکومت کرے گی اور عوامی تحریک کے قائد علامہ طاہرالقادری بھی کہتے ہیں کہ انقلاب آنے میں "چند روز" رہ گئے ہیں، انکا یہ بھی کہنا ہے کے ایک کروڑ غازی نکلیں گے تو سب گیڈر بھاگ جایئں گے اور حکمرانوں کو دن میں تارے نظر آجائیں گے





 
عمران خاں نے "بہت جلد" اور طاہرالقادری نے "چند روز"  کے الفاظ استعمال کیے اب دیکھنا یہ ہے کہ " بہت جلد" جو کچھ ہونا ہے وہ کتنی مدت میں ہو گا اور "چند روز" میں جو کچھ ہونا ہے وہ کتنے عرصے میں ہو گا، اس سلسلے میں عمران خاں اور طاہرالقادری نے کوئی تاریخ سے گریز کیا ہے اور کوئی سال بھی نہیں بتایا لیکن امید پر دنیا قائم ہے، خواب دیکھنے والوں کو بہرحال انتظار کرنا ہو گا



عمران خاں کی ایک شکایت یہ ہے کہ موروثی سیاست نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے شاید عمران خاں کو اس حقیقت کا علم نہیں ہے کہ دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں مخصوص سیاسی  جماعتوں کی اجارے داری ہے اور موروثی سیاست بھی صرف پاکستان میں نہیں ہے




امریکہ میں دو جماعتوں اور برطانیہ میں تین جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے،  بھارت  اور بنگلہ دیش میں بھی صرف دو، دو جماعتوں میں سے کوئی  ایک برسراقتدار آتی ہے، ایسا کوئی جمہوری ملک نہیں ہے جہاں دس بارہ جماعتیں باری باری برسر اقتدار آتی رہی ہوں . کیا یہ موروثی سیاست نہیں ہے؟



 اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کسی جماعت میں موروثی سیاست ہے یا نہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ دو تین جماعتوں میں سے کوئی ایک برسر اقتدار آتی رہتی ہے، چنانچہ اس بات پر کیوں اعتراض کیا جائے کہ اس جماعت کی قیادت ایک ہی خاندان کے پاس ہے، ہر ایک جماعت میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی عہدیدار ہوتے ہیں، اگر وہ اپنی جماعت کی قیادت سے ناراض ہوں تو اسکو تبدیل کرسکتے ہیں یا خود علیحدگی اختیار کرکے اپنی الگ  جماعت بنا کر نئی قیادت منتخب کرسکتے ہیں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس جماعت کے مخالفین کو اپنی زبان کھولنے کی کیا ضرورت ہے، ہر ایک جمہوری جماعت کے عہدیداروں کو اگر اپنی قیادت پر اعتماد ہے تو غیر کیوں انگلی اٹھائیں





 کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا قانون موجود ہے جس کے تحت ہر ایک جماعت کیلیے ایک خاص مدت کے بعد اپنی قیادت بدلنی پڑے اور نئی قیادت کی کوئی رشتے داری سابق قیادت سے نہ ہو؟


ہمارے الیکشن کمیشن میں دو سو سے زیادہ سیاسی و مذہبی رجسٹرڈ ہیں جنکو الیکشن میں حصّہ لینے کی اجازت ہے، ان میں سے درجنوں جماعتیں الیکشن میں حصّہ لیتی ہیں اور  ایک درجن جماعتوں کو قومی اسمبلی کی نشستیں ملتی ہیں، چند  دوسری جماعتوں کو صوبائی اسمبلیوں میں  بھی نمائندگی کا حق مل جاتا ہے، جبکہ موجودہ پاکستان میں ابتک صرف تین جماعتوں کو وفاقی حکومت مل سکی ہے، ان میں سے پیپلز پارٹی  کو چار مرتبہ، مسلم لیگ ن کو تین مرتبہ اور مسلم لیگ ق کو ایک مرتبہ وفاقی حکومت  مل سکی، کیا اس  صورت حال کو موروثی سیاست کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے، مگر وہاں کوئی جماعت یہ نہیں کہتی کہ موروثی سیاست نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے، بیشتر جمہوری ممالک کا یہی حال ہے وہاں عام طور پر دو تین بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے، چاہے ان جماعتوں میں موروثی سیاست ہو یا نہ ہو، جہاں کہیں جماعتی بنیاد پر الیکشن ہوتے ہیں،  وہاں جماعتوں کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا ہے، امیدوار  کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، مگر یہ ضرور دیکھا جاتا  ہے کہ وہ کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے


Thank You For Reading
ایک تبصرہ شائع کریں