Video Widget

« »

منگل، 17 جون، 2014

ضرب عضب پاکستان کے وجود کی جنگ

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے آئین کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے دہشت گردی سے الگ ہونے کا اعلان کریں. غیر ملکی دہشت گردوں کو ملک سے صاف  کرنے کیلئے افواج پاکستان کا ساتھ دیں اور اس امر پر پوری توجہ  مبذول کریں کہ پاکستانی فوج انہیں مکمل اور بھر پور شکست دینے کی صلاحیت  رکھتی ہے. حکومت نے مجبورا ہی سہی اس آخری آپشن کو اختیار کیا ہے تو اب اسے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ عمل جاری رکھنا ہو گا.



 وہ کونسا نظریہ ہے جو دہشت گردی اور ملک کے خلاف تخریب کاری کا سبق دیتا ہے. اپنے ملک کی سر زمین کو دشمن کی سرزمین قرار دیتا ہے. ریاست کے  خلاف انقلاب کی جنگ ملک کے خلاف نہیں ہوتی اور ملک کے خلاف جنگ عوام کیلئے نہیں ہوتی. ضیاالحق کی آمریت نے پوری دنیا کے جرائم پیشہ، فرقہ پرست، دہشت گرد اور تخریب کار اس ملک کے اس حصّے میں اکھٹے کیے جس کی سرحد ابھی تک متنازعہ ہے.  افغانستان نے ڈیورنڈ لائن کو ابھی تک قبول نہیں کیا. اس کے دعوے ہماری زمین پر ہیں اور ضیاالحق نے اپنے ناپاک اور آئین دشمن مفادات کیلئے اس زمین کو استعمال کیا. ہر قسم کا شر پسند مذہب کے نام پر اکٹھا کیا. ضیاالحق کو تو صرف آئین اور جمہوریت سے دشمنی تھی اور ضیاء کی یہ دشمنی آخرکار پاکستان  دشمن طاقتوں کی قوت بن گئی.

 عمران خان، جماعت اسلامی اور ہمارے تزویراتی اثاثے اس پر نہ صرف خاموش تھے بلکہ درپردہ سوات میں ظلم اور بربریت  کا راج قائم کرنے والوں کی دبی زبان میں حمایت بھی کر رہئے تھے لیکن اس کا علاج صرف ایک ہی تھا اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت نے وقت ضائع کیے بغیر یہ فیصلہ کیا کہ سوات کو فوجی آپریشن کے ذریعے ہی آزاد کروایا جا سکتا ہے. طالبان دہشت گردوں نے پاکستانی قوم کی خون اور پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والی دفاعی قوت اور تنصیبات کو نشانہ بنایا. پاکستانی قوم کے شہریوں اور فوجیوں  پر بے دریغ حملے کیے. نہ کسی ہسپتال کو چھوڑا، نہ مدرسے کو اور نہ ہی مسجد کو، بازاروں اور شہروں کولہولہان کر دیا.


عمران خان جیسے تبدیلی کے  کپتانوں نے اس خونریزی کی حمایت کی  اور بار بار کی. بنوں جیل پر حملہ ہوا، عمران خان کی زیر حکومت صوبے ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل توڑی گئی. تحریک انصاف کے وزیر اور اراکین اسمبلی قتل کیے گئے لیکن کپتان دہشت گردوں سے مزاکرات کا واویلا کرتا رہا. ان دہشت گردوں نے انسانی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹے اور انکی ویڈیو بناکر ہمیں پیش کر دی.  جن ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں، بیویوں اور بچوں نے اپنے پیاروں کے  گلے کٹتے دیکھے ہوں گے وہ تمام زندگی اس اذیت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتے اور ہمارا کپتان شاہد الله شاہد کے بیانات کی تائید کرتا رہا. اس درندگی کی حمایت کرتا رہا جسے دیکھ کر ہر انسان کی روح زخم خوردہ ہو جاتی ہے لیکن بنی گالہ کا مقیم اپنی ایکٹروں پر پھیلی ہوئی اسٹیٹ میں ان خون آشام واقعات کی صفائی پیش کرنے میں مصروف رہا
 
 ہمارا وزیر داخلہ بھی اس کا ہمنوا تھا. چاروں طرف مذاکرات مذاکرات کی آوازیں آرہی تھیں. اے این پی  متحدہ قومی مومنٹ اور پی پی پی بار بار کہہ رہی تھیں انکا علاج صرف اور صرف آپریشن ہے اور وہ بھی مکمل فتح تک. دہشت گردی کے آخری  ہاتھ کے قلم ہونے تک آپریشن جاری رہے . پاکباز کالم نگار آپریشن کے حامیوں کو ملک اور قوم کا دشمن قرار دے رہے تھے. مسلم لیگ (ن) کی حکومت کیلئے یہ کڑا وقت تھا. ایک طرف دہشت گردی بڑھ رہی تھی، لوڈشیڈانگ نے عوام کی زندگی دو بھر کر دی تھی اور کچھ بھی ہاتھ میں نہ تھا. صرف مذاکرات سے امیدیں وابستہ تھیں اور پھر کراچی ائیرپورٹ کا واقعہ ہوا، جس میں طالبان کے غیر ملکی ساتھیوں نے حصہ لیا  تاکہ پاکستان پوری دنیا سے کٹ جائے. غیر  ملکی پروازیں پاکستان آنا بند ہو جایئں. یہ پاکستان کی معیشت پر ایک کاری وار تھا. آخر کار مصلحت پر حقائق غالب آگئے. پاکستان کی قومی  سیاسی قیادت نے صحیح فیصلہ کیا کہ اب  دہشت گردوں سے اسی زبان میں گفتگو کی جائے جو زبان وہ سمجھتے ہیں اور آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا. اگرچہ یہ جنگ چند روز کی نہیں اسکے باوجود منزل کی طرف اٹھا ہوا صحیح قدم ہی انسان کو منزل کے قریب کرتا ہے. پوری قوم نے اس آپریشن کی حمایت کردی ہے اور مجھے یقین ہے کہ قوم اس جنگ میں جو پاکستان کے وجود اور مستقبل کی جنگ ہے فتح یاب ہو گی اور ہم ایک جمہوری معاشرے کے فیوض سے بہرہ ور ہونگے.



ریاض خان

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں