Video Widget

« »

جمعرات، 19 جون، 2014

پنجاب پولیس کی ایکشن فلم " گلو بٹ "

 تاریخ اسلام کا دیا ہوا سبق اور بتایا ہوا، اٹل حصول ہے کہ دنیا کے حکمران اس وقت تک اپنے اقتدار کے تخت پر برانجمان رہتے جب تک وہ سچائی، صداقت اور اضافی فلاح کے جذبہ سے سرشار ہوکر مصروف رہتے ہیں. جو حکمران انسانی حقوق کی پامالی کا مظاہرہ اور لاقونیت کے اقتدار سے اپنے رعایا کی زندگیوں کے چراغ گل کرتے ہیں وہ تخت اقتدار سے نہ صرف اتار دیئے جاتے ہیں  بلکہ انہیں قدرت نشان عبرت بھی بناء دیتی ہے.



 سانحہ لاہور جہاں پولیس کی بربریت، جبر و تشدد کا عکاس دکھائی دیتا ہے وہاں تاریخ کا سیاہ  ترین باب بھی قرار پائے گا جمہوری دور میں  آمریت کی یاد تازہ کر دی گئی معصوم شہریوں کو جس بے دردی سے مارا گیا اسکی مثال نہیں ملتی اس واقعہ کا پیش منہاج القرآن سیکرٹریٹ سے پولیس کا ، روکاوٹیں  اٹھانا قرار پایا جسکی آڑ میں پولیس نے ظلم کی انتہا کر دی اور دو خواتین سمیت 8 افراد کی جان لے ڈالی اس دل سوز واقعہ پر انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے اور پوری قوم اسکی مذمت کر رہی ہے. یہ ریاستی تشدد ہے یا سازش اسباب کون تلاش کرے گا. پنجاب  حکومت 15 گھنٹے یہ تماشا دیکھتی رہی پولیس کو کنٹرول کیوں نہ کیا گیا اور یہ معصوم شہریوں کو قتل کرتی رہی ظلم ڈھاتی رہی خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر گھسیٹی رہی یہ ریاستی تشدد نہیں تو پھر اسکو کیا کہا جائے پولیس کو یہ حکم کس  نے دیا اور گولی کیوں چلی پرامن طریقے سے کارکنوں کو منتشر کیوں نہیں کیا گیا.

یہ سوال ہر کس و نا کس کی زبان پر ہے پولیس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرے . جرائم اور کرائم کو روکے، امن و امان قائم رکھے لوگوں کو تحفظ دے لیکن ہماری مثالی پولیس کا یہ کمال ہے کہ یہ جانوں کی حفاظت کرنے کے بجائے جانوں کی دشمن قرار پائی جس سے ملک بھر میں ایک سوگوار کیفیت دیکھنے میں آرہی ہے. پنجاب میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے  کالعدم تنظیموں کے کارکن بدامنی کا موجب بن رہئے ہیں، کچہریوں میں وکلاء کو قتل کیا جا رہا ہے معزز اور شریف لوگوں کے گھروں کو جلانے کے بھی شرمناک واقعات آن ریکارڈ ہیں. سینکڑوں اشتہاری لوگوں کیلئے پریشانی کا موجب بنے دندناتے پھر رہے ہیں پولیس انکو پکڑنے میں ناکام ہے پولیس جرائم کم کرنے میں ناکام ہے پولیس مال بناؤ اور قدم آگے بڑھاؤ کی پالیسی پر ہے جس سے تھانے، قصاب خانے بنے نظر آرہے ہیں.


وزیراعلیٰ پولیس کو عوام کا خادم بنانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے . سانحہ لاہور نے انکے دعوؤں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے. ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر مجھے یا میرے خاندان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار شریف برادران ہوں گے. ملک بھر میں پولیس گردی کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے دھرنے دیئے جا رہے ہیں اور اس دل خراش واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے . متحدہ قومی موومنٹ اور سنی تحریک نے طاہر القادری اور عوامی تحریک کے کارکنوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تین سوگ کا اعلان کیا ہے. سانحہ لاہور کی اندرونی کہانی کی کڑی صوبائی وزیر قانون رانا ثنا الله سے جا ملتی ھے. جنہوں نے ضلعی انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود مزاحمت کاروں کو سبق سکھانے کا حکم دیا اور اس سارے معاملے میں وزیراعلیٰ کو بے خبر رکھا پولیس ذرائع نے دعوی کیا ہے چند روز پہلے صوبائی دارلحکومت  میں ہونے والی میٹنگ میں رانا ثنا الله نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں کاروائی کریں تاہم کمشنر لاہور نے کاروائی کی مخالفت کرتے ہوئے آپریشن میں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن رانا بضد رہے اور جسکے نتیجے میں 8 افراد مارے گئے 90 زخمی ہوئے.


 ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی سے حکومت کے وزراء اتنے خوف زدہ ہیں کہ وہ قانون شکنی پر اتر آئے ہیں. امن و سلامتی کی بجائے تشدد کی سیاست پر اتر آئے ہیں یہ سانحہ نادان سوچ کی غمازی ہے جس نے تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کیا ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے حکومت کی بدنامی رسوائی کا موجب یہ سانحہ قرار پایا اور اسکے منفی اثرات مرتب ہوں گے. یہ  سانحہ ظلم و جبر کی داستان بنکر ایک انقلابی سوچ کو جنم دے گا سیاست میں رواداری کا ہونا ضروری ہوتا ہے جبر سے نہ کسی جماعت کو دبایا جا سکتا ہے نہ کسی لیڈر کو جھکایا جا سکتا ہے. طاہر القادری قوم کا سرمایہ ہیں اور عوام کی نگاہیں انکی طرف لگی ہوئی ہیں  جمہوریت کے دعویدار عوام کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہے ہیں. پولیس جرائم  پیشہ افراد کو پکڑنے اور جرائم روکنے میں ناکام ہے، تھانے درلآمن کب بنیں گے کب لوگوں کو تحفظ ملے گا کب جان و مال کی حفاظت ہو گی کب لاشوں کی سیاست سے چھٹکارا ملے گا.

 یہ سوال حکومت کیلئے توجہ طلب ہے اس واقعہ کی غیر جانبداری انکوائری اور ملوث افراد  کو قرار واقعی سزا ہی انکے بہاتے آنسوؤں کو روک سکتی ہے اس آگ کو انصاف ٹھنڈا کر سکتا ہے اگر اسطرح خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی تو پھر امن کا قیام نا ممکن  جائے  ، حکومت ہوش کے  ناخن لے اور سیاست میں انتقام کی روایت ختم کرے، جمہوریت میں جلسے، جلوس، مظاہرے ہوتے رہئے ہیں مخالفین کو دبانے جھکانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتے ہیں اس سانحہ میں (ن) لیگ کے کارکن گلو بٹ کے غنڈے گردی بھی نمایاں دکھائی دی جو ڈنڈے سے گاڑیوں کے شیشے توڑنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا پایا گیا عوامی تحریک کے کارکنوں پر پولیس کے وحشیانہ تشدد نے حکومتی ساکھ کو جہاں متاثر کیا وہاں وقار کو مجروح کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، بنائے عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے ملک میں اس وقت دہشت گردی کے سائے منڈ لا رہے ہیں. بدامنی کا دور دورہ ہے پولیس شہریوں کو مار کر آخر کیا کارنامہ انجام دینا چاہتی ہے اس واقعہ کے ذمہ دار کون ہیں انکو بے نقاب کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے .



پڑھنے کا شکریہ اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں