Video Widget

« »

سوموار، 26 مئی، 2014

اسلام کے نام پر دشتگردوں کا احمقانہ قدم


 جماعت اہل سنت الدعوت  الجہاد یعنی بو کو حرام  نائیجریا کی سرگرم ایک ایسی تنظیم کا نام ہے جس کی تشکیل ٢٠٠٢ میں  محمد یوسف نے کی تھی جس کا مقصد  نائیجریا  میں حکومت کے خلاف جہاد ایک خالص اسلامی  حکومت کی تشکیل تھا. مغربی تہذیب اور طرز زندگی کے خلاف بو کو حرام نے ٢٠٠٢ سے ٢٠١٣ کے دوران نائیجریا  میں سرکاری دفاتر گرجا گھروں، اسکولوں پولیس سٹیشن پر لاتعداد حملے  کیے ہیں. اس دوران تشدد میں 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں





 نائیجریا  میں سینکڑوں اسکولی لڑکیوں کا اغوا اور پھر جنگجوؤں کے شادی کیلیے فروخت کئے جانے کی دھمکی کا واقعہ دنیا کو دہلا گیا. اسلام پسند اور اسلام پرست کہلانے والے ہی اسلام دشمن بن گیے. اسلام کا نام بدنام کر گئے اور مسلمانوں کو رسوا کر گئے. :بوکو حرام" کے جنگجووں نے نائیجریا  کے ایک اسکول سے ٢٥٠ سے زیادہ لڑکیوں کو اغوا کیا تو  دنیا بھر میں چہرے پر داڑھی اور سر پر ٹوپی کے ساتھ جنگجووں کی تصاویر مسلمانوں کو منہ چڑا رہی تھی، اسلام کو بدنام کر رہی تھیں. لڑکیوں کو اغوا کرکے  جبرن شادی کرانے کی دھمکی نے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر جہاد کا نعرہ بلند کرنے والے بوکو حرام جنگجووں کا اسلام سے کوئی  تعلق ہے نہ مسلمانوں سے، وہ تو صرف مذھب کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں اپنی خواہشات کو پورا کر رہے ہیں  اور ہوس کی آگ بجھا رہے ہیں. یہ وہ خود ساختہ جہادی ہیں. جو  جہالت کی دلدل میں ہیں، جنہیں اسلام کا علم ہے نہ قرآن کا.  یہ ایک ایسا طبقہ ہے جو ملک  کے حالات کا فائدہ اٹھا کر کما رہا ہے اور کھا رہا ہے. نائیجریا  میں بوکو حرام کی حرکت نے دنیا بھر میں انکے جہاد کا پول کھول دی، لڑکیوں کے اغوا کا واقعہ دراصل ایک داغ  ہے، جو نائیجریا  کے اسلام  پسندوں کی حقیقت بیان کر رہا ہے اور دنیا کو بتا رہا ہے کہ نعرہ تکبیر الله اکبر کے نعرے بلند کرنے والے یہ جنگجو وحشی، جو مذھب کا استعمال صرف اور صرف اپنے مفاد اور بقا کیلیے کر رہے ہیں یہ درندے ہیں جنہیں انجام تک پہنچنا ضروری ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے  نائیجریا ی حکومت پر کوئی اثر نہیں . دنیا کے متعدد ممالک مدد کی پیش کش کر رہے ہیں مگر نائیجریا  خاموش ہے








Thank You For Reading
ایک تبصرہ شائع کریں