Video Widget

« »

بدھ، 28 مئی، 2014

بیگم مودی کی پس پردہ اور پر سکون زندگی میں ہلچل




 ایک گجراتی  ٹی وی چینل پر گزشتہ ہفتے نشر ہونے والے ایک خصوصی انٹرویو میں جشودبن  نے کہا تھا کہ شادی کے بعد مودی پورے ملک میں آر ایس ایس کے کاموں میں مصروف ہو گئے اور انسے کہا کہ وہ گھر واپس چلی جائیں. انہوں نے کہا "جب میں وڈناگر میں انکے خاندان کے ساتھ رہنے کیلیے آئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اپنے سسرال  میں کیوں آئی ہو، جبکہ تم ابھی بہت کم عمر ہو، اسکے بجائے تمھیں اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے. انہیں چھوڑنے کا فیصلہ میرا اپنا تھا، اور ہمارے درمیان کوئی  تنازعہ نہیں تھا".  مودی اپنے خاندان سے دور ہوتے چلے گئے اور سیاست انپر غالب آتی گئی، انہوں نے بہت سے دیگر  سیاستدانوں کے بر عکس اپنے خاندان سے ایک فاصلہ رکھا، جیسا کہ انکے بیٹے اور بیٹیوں کو بھی شہرت اوراقتدار ورثے میں ملتا ہے




بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کی اہلیہ جو انکی آبائی ریاست کے ایک دیہات میں رہائش پزیر ہیں، ہندوستانی حکومت انہیں اعلی سطح کی سیکورٹی فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، اس  اقدام سے انکی پرسکون زندگی کیلیے خطرہ بن سکتا ہے، وہ اس گاؤں میں اس وقت سے مقیم ہیں، جب پینتالیس برس پہلے انکے شوہر ان  سے علیحدہ  ہو گئے تھے- باسٹھ برس کی جشودبن ایک ریٹائرڈ پرائمری ٹیچر ہیں. جب مودی نے برسوں کی خاموشی کے بعد پچھلے ماہ الیکشن اندراجات میں اپنی شادی کا انکشاف کیا. وہ دو مرتبہ ہمالیہ کے پہاڑوں پر عبادت کیلیے جا چکی ہیں، اور حالیہ ہفتوں کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بچنے کیلیے انہوں نے گجرات کے گاؤں براہمن واڑہ میں واقع اپنے تنگ سے گھر کی کھڑکیاں ختم کر دی ہیں، جس میں وہ اپنے بھائی کے گھرانے کے ہمراہ رہائش پزیر ہیں- خفیہ سروس جو امریکی صدر کی حفاظت پر مامور ہے، اس طرز کی ایک ایلیٹ فورس اسپیشل پروٹیکشن گروپ اب انکی سیکورٹی کی ذمہ داری لے لی ہے، قانون کے تحت ایلیٹ فورس اسپیشل پروٹیکشن وزیراعظم اور انکے قریبی عزیزوں  کی  سیکورٹی کی ذمہ دار ہے- گجرات پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ  ایلیٹ  فورس  اسپیشل پروٹیکشن نے  جشودبن  کے سلسلے میں عمومی انکوائری کی تھی_ ریاستی پولیس اس معاملے کی قیادت  کرے گی.  اور ایس  پی جی کو اسپر انحصار کرنا پڑے گا-  جشودبن   کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ  انہیں سیکیورٹی فراہم کرنے کے کسی منصوبے کا انہیں کوئی علم نہیں ہے انکے بھائی اشوک مودی نے کہا کہ انہیں کسی قسم کی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں، اشوک مودی اپنے گھر کے سامنے کے حصّے میں پرچون کی ایک دکان چلاتے ہیں. انھوں نے کہا " کیا وہ چاہیں گی کہ وہ اپنے شوہر کے پاس واپس چلی جایئں جیسا کہ ہمارے سماج کی ہر ایک عورت چاہتی ہے. لیکن ایسا نہیں ہو گا"_ واضح رہے کہ گجرات میں اکثر لوگوں کے نام مودی ہیں، جشودا کے دوسرے بھائی کملیش ہیں، وہ پیاز فروخت کرکے گزارا کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انکے گاؤں کی آبادی ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہے، جب مودی نے بالآخر اپنی شادی کو قبول کر لیا تھا تو یہاں کے لوگ بہت خوش ہوۓ تھے . اب جبکہ وہ وزیراعظم بن گئے  ہیں، تو یہاں ایک امید پیدا ہوئی ہے کہ اس گاؤں میں کچھ اچھا ہو گا. وزیراعظم مودی نے ابتک اپنی بیوی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی، لیکن انکے دوستوں اور عزیزوں کا کہنا ہے کہ انکی شادی اسوقت ہوئی تھی جب وہ کمسن نوجوان تھے، انکے والدین نے یہ رشتہ طے کیا تھا، جیسا کہ غریب گھرانوں میں ہوتا ہے- لیکن مودی نے اسکے بعد جلد ہی گھر چھوڑ دیا اور ہندو قوم پرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رضاکار بنکر اپنی جدوجہد والی زندگی شروع کر دی. اس تنظیم کے اعلی سطح کے بہت سے رہنما قومی ترقی کے تنظیمی مقاصد پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے مجرد زندگی گزار رہے تھے. ایک گجراتی  ٹی وی چینل پر گزشتہ ہفتے نشر ہونے والے ایک خصوصی انٹرویو میں جشودبن  نے کہا تھا کہ شادی کے بعد مودی پورے ملک میں آر ایس ایس کے کاموں میں مصروف ہو گئے اور انسے کہا کہ وہ گھر واپس چلی جائیں. انہوں نے کہا "جب میں وڈناگر میں انکے خاندان کے ساتھ رہنے کیلیے آئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اپنے سسرال  میں کیوں آئی ہو، جبکہ تم ابھی بہت کم عمر ہو، اسکے بجائے تمھیں اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے. انہیں چھوڑنے کا فیصلہ میرا اپنا تھا، اور ہمارے درمیان کوئی  تنازعہ نہیں تھا".  مودی اپنے خاندان سے دور ہوتے چلے گئے اور سیاست انپر غالب آتی گئی، انہوں نے بہت سے دیگر  سیاستدانوں کے بر عکس اپنے خاندان سے ایک فاصلہ رکھا، جیسا کہ انکے بیٹے اور بیٹیوں کو بھی شہرت اوراقتدار ورثے میں ملتا ہے

 

Thank You For Reading
ایک تبصرہ شائع کریں