Video Widget

« »

منگل، 10 جون، 2014

غفلت ہمیں کہاں لے جائے گی؟



 ہم لوگ عجیب غفلت کا شکار ہیں حالانکہ ہم ایسی ان دیکھی جنگ کا مسلسل شکار ہیں جس میں دہشت گردی کی جاتی ہے. دہشت گردوں کا ہدف ہمیں جسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہماری اہم تنصیبات کو تباه کرنا ہوتا ہے.


 ایک بارپھر ہماری سیکورٹی کے ڈھول کا پول کھل گیا. کراچی ہوائی اڈہ دہشت گردی کا  نشانہ بنا، ایئر فورس سیکورٹی کے جوانوں سمیت پی آئی اے کے ملازمین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے. دہشت گردوں کو تو مرنا ہی تھا. پانچ جہنم رسید ہوئے. پی آئی اے کے جہازوں کو نقصان پہنچا، جہاز میں موجود مسافروں کو پوری رات شدید کرب میں گزارنا پڑی. انہیں پینے کا پانی تک نہیں مل سکا.

ایئرپورٹ جیسے اہم تریں مقام پر دہشت گردوں کا حملہ اس قدر تیز رفتار تھا کہ پہلے مرحلے پر ہی اے ایس ایف کے تین اہلکار مار دیئے گئے تھے. جہازوں کو کھڑا کرنے والے ایک ہینگر میں کھڑے ایک جہاز کو بھسم کر دیا گیا. ایئر پورٹ پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی گئی تھیں. کچھ پروازوں کو واپس کیا گیا اور بعض کو دوسرے شہروں کے ایئر پورٹوں پر اتارا گیا. حیدرآباد ایئر پورٹ تو اس قابل ہی نہیں تھا کہ کسی جہاز کے اترنے کا بندوبست ہو پاتا. نواب شاہ میں انتظامات ادھورے تھے. ایئر پورٹس کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے  کیلئے تیار  ہی نہیں تھے.

 ہم لوگ عجیب غفلت کا شکار ہیں حالانکہ ہم ایسی ان دیکھی جنگ کا مسلسل شکار ہیں جس میں دہشت گردی کی جاتی ہے. دہشت گردوں کا ہدف ہمیں جسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہماری اہم تنصیبات کو تباه کرنا ہوتا ہے.

انہیں اسسے کوئی سروکار نہیں کہ نتائج کیا نکلیں گے اور خمیازہ کسے بھگتنا پڑے گا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ملک خود کئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہے لیکن ملک کے معاملات چلانے والے اہم تریں ذمہ دار افراد ہر موقع پر ناکامی کی تصویر بن جاتے ہیں کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردی کے بعد ایک بار پھر لازمی ہو گیا ہے کہ حکومت اور وزارت داخلہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اپنے تمام اقدامات کا بھر پور جائزہ لے.

 حکام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی کاروائی کے بعد بیانات کے پردے میں منہ چھپا لیتے ہیں  اور کاغذی خانہ پری کی کاروائی کرکے دہشت گردی کے واقعہ کو داخل دفتر کر دیتے ہیں. کئی اور ملک ہوتا تو شائد اسطرح  غفلت سے ہمکنار نہیں ہوتا جس سے پاکستان دوچار ہے اور غفلت کے ذمہ دار لوگوں کو فارغ کر دیا جاتا.

 ایک درجن دہشت گرد زمینی راستوں سے اتنی بڑی تعداد میں ہتھیار کے ساتھ کراچی میں داخل ہوئے ہوں گے . اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے راستے خالی  تھے، کہیں کوئی نگرانی کرنے والا موجود نہیں تھا. اور جو لوگ یعنی پولیس کو جو چھوٹے اہل کار موجود بھی ہوتے ہیں وہ اپنی ڈیوٹی  کی طوالت کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں. چند روپے کے عیوض یہ لوگ ہاتھی بھی لے جانے دیتے ہیں.

جب دہشت گرد کراچی میں داخل ہو رہے تھے تو کراچی میں داخل ہونے والے مقامات پر بھی انہیں کسی نے روکا اور ٹوکا نہیں. ان مقامات پر رینجرز موجود ہوتی ہے. ضروری نہیں کہ وہ کراچی میں اتوار کے روز ہی داخل ہوئے ہوں، انکی کراچی آمد اور موجودگی کی مخبری نہیں ہو سکی، وہ اس علاقے میں پہنچ گئے جو چھاؤنی کا علاقہ ہے. یہ لوگ پیدل نہیں آئے ہوں گے، انھوں نے گاڑیاں حاصل کی ہوں گی، کسی  گاڑی والے نے پولیس کو مطلع کرنے کی زحمت ہی نہیں کی. دہشت گردوں نے ائیرپورٹ تک رسائی حاصل کر لی، یہ لوگ خالی ہاتھ نہیں تھے یا کوئی ماچس کی ڈبیا انکے پاس نہیں تھی بلکہ ہتھیاروں کی بڑی بھاری کھیپ تھی جو کسی کو نظر نہیں آئی. انکے سامان کی کہیں کسی نے تلاشی نہیں لی، جگہ جگہ غفلت برتی گئی، تمام دہشت گردوں کی بظاہر شناخت ایسی تھی کہ دوران سفر ہی انسے کہیں کوئی پوچھ گچھ کر لیتا، پھر یہ لوگ ائیرپورٹ جیسے حساس علاقے میں داخل ہوے، کہیں کہیں تو کسی کی غفلت یا پھر کسی اور وجہ سے دہشت گرد ائیرپورٹ میں داخل ہونے میں کامیاب رہے.

یہ کہنا کہ وہ اے ایس ایف  کی وردی میں ملبوس تھے، ایک ایسی بے تکی تاویل  ہے  جسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا. کیا کوئی   آدمی اے ایس ایف ہو یا فوج ہو یا پولیس ہو یا رینجرز کی وردی  پہن کر کسی بھی حساس علاقے میں داخل ہونے کی اگر صلاحیت رکھتا ہے تو پھر ان اداروں کو کوئی ایسی حکمت عملی واضح کرنا چاہئے تاکہ ہر وردی والے سے بھی شناخت تو معلوم کی جائے، عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے.ائرپورٹس پر وردی پہنے ہوئے اے ایس ایف والوں کی جسمانی تلاشی لی جاتی ہے اور پھر انہیں رن وے پر جانے کی اجازت ملتی ہے. ان لوگوں کے بارے میں یہ چوک کہاں  اور کیوں ہوئی.

جب دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں مصروف تھے تو پولیس کی مدد طلب کی گئی، جواب ملا کہ تھانے پر پولیس موجود نہیں ہے. پولیس کمانڈو  کے بارے میں بتایا  گیا کہ وہ نام نہاد اہم شخصیات کی پروٹوکول ڈیوٹی پر ہیں. جب وزیراعظم اور فوج کے سربراہ نے صورت حال کا نوٹس لیا تو گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، اور دیگر اہم  شخصیات  ائیرپورٹ  پہنچنا شروع ہو گئیں، کیا ایسے وقت میں جب ہنگامی صورت حال ہو  ان افراد کو ائیرپورٹ پر جانا چاہئے تھا. یقینا نہیں. ہمارے ان حکمرانوں کو ہر جگہ پروٹوکول چاہئے ہوتا ہے جسکی وجہ سے کاروائیوں میں شدید  مداخلت ہوتی ہے. کورکمانڈر، رینجرز کے سربراہ، پولیس کے سربراہ سب ہی ائیرپورٹ پہنچ گئے. کیوں؟ کیا یہ لوگ اپنے اپنے دفاتر سے دہشت گردی سے نمٹنے کی کاروائی کا جائزہ نہیں لے سکتے تھے. کیا ان حضرات کو اپنے ماتحت افسران کی صلاحیتوں پر شک تھا. کیا فوج سمیت کسی ادارے یعنی پولیس، رینجرز کے پاس کوئی ایسا منصوبہ جسے فوجی کانٹی جنسی پلان کہتے ہیں، موجود ہے کہ کسی صورت حال کو سامنا کسطرح کیا جائے گا. کراچی ائیرپورٹ پر جو کچھ ہوا اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کے کیسے کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے. اس  بات سے یہ بھی عیاں ہو گیا کہ وفاقی وزارت داخلہ آج تک ایسے اصول اور ضابطے تیار نہیں کر سکی ہے جو ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کیلئے ضروری ہوتے ہیں. کسی بھی ایک فورس کو کمانڈ کرنا ہوتا ہے.

ایک ہی وقت میں ایمبولنس، ڈاکٹر، مقابلے کرنے والے اہلکار، ہتھیار، رضاکاروں  اور دیگر ضروری اشیاء کا انتظام کیا جاتا ہے. جسکے لئے ذمہ داریوں کو تقسیم کیا جاتا ہے. تمام لوگ ایک ہی کام میں نہیں جت جاتے ہیں. جب کوئی ضابطہ ہی نہیں ہوگا تو کسی کو کیا علم کہ اسے کیا کرنا ہے. اے ایس ایف  ہو یا ائیرپورٹ پر موجود دیگر اہلکار انہیں اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکیں. وہ اس صلاحیت سے کیوں محروم پائے گئے. انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور دہشت گرد ادھر ادھر دندناتے پھرے. پاکستان میں دہشت گردی نہتو نئی کاروائی ہے اور نہ ہی آخری. حکام کا یہ کہنا کہ دہشت گردوں سے جو ہتھیار  برآمد ہوئے ہیں وہ بھارتی ساخت کے ہیں، اپنی ناکامی کا برملا اعتراف ہے. پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی میں بھارت سر فہرست ملوث ہے. بلوچستان میں جو بھی کاروائیاں ہو رہی ہیں اسکے پس پشت بھارت ہے. سندھ بلوچستان سرحد پر رینجرز جو جس صورت  حال کا سامنا ہے وہ عام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے.


بھارت پاکستان میں ایک خلفشار پیدا کر دینا چاہتا ہے جسے سلجھانا کسی بھی حکومت کی قوت میں نہ رہے. ایسی صورت میں کیا ہمیں ہاتھ پر ہاتھ دھرنے تماشہ دیکھنا چاہئے یا پھر اپنے عوام، اپنے نوجوانوں کی تربیت کا انتظام کرنا چاہئے . لوگوں کی  انکے ملک اور حالات سے لاتعلقی سب کیلئے ہی خودکشی ہے.  اپنے اداروں اور ان میں موجود ملازمین کی کارکردگی کا برکی سے جائزہ لینا چاہئے. جن لوگوں سے اپنے فرائض ادا نہیں ہو پاتے انہیں فارغ کیا جانا چاہئے. سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزراے داخلہ کی بھی تربیت  کی جانی چاہئے کہ انہیں  ملک کا اہم ترین محکمہ کسطرح چلانا ہے
 __________________________________________________________-

 علی حسن

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں