Video Widget

« »

منگل، 10 جون، 2014

حق پرستی کا بے مثال سفر

آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس پورے پاکستان سمیت کئی ممالک میں روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جا رہا ہے اس دن ملک قوم کی ترقی اور استحکام کیلئے نہ صرف دعائیں کی جاتی ہیں بلکہ تجدید عہد وفا بھی کیا جاتا ہے  یہ عہد اپنے قائد جناب الطاف حسین کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور اپنی قوم اور ملک کے ساتھ بھی ہوتا ہے، اے پی ایم ایس او بلاشبہ ملک و قوم کے معماروں کی بہترین نرسری اور درسگاہ ہے اور جناب الطاف حسین انکے ٹیچر اور لیڈر ہیں





11 جون 1978 بلاشبہ ایک تاریخ ساز دن ہے، اس دن جامعہ کراچی کے طالبعلم الطاف حسین نے مہاجر طلباء کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کے جواب میں ایک طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی، اس وقت جامعہ کراچی میں اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنان کھلے عام اسلحہ لیکر غنڈہ گردی کرتے تھے، انہوں نے طلبہ و طالبات کا جینا دو بھر کیا ہوا تھا لیکن جمیعت کے تھنڈر اسکواڈ کی وجہ سے کسی کو بولنے کی جرات نہیں ہوتی تھی، ایسے میں واحد حل اس نوجوان الطاف حسین نے نکالا کہ طلباء کو جمیعت کے عتاب سے بچانے کیلئے طلبہ و طالبات کو ایک جگہ جمع کیا جائے، جب یونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن قائم کی گئی اس وقت سندھی، پنجابی، ہزارہ، گلگتی، بلوچ اور پختون قومیتوں کے نام پر یونیورسٹی میں طلباء تنظیمیں قائم تھیں، لیکن اے پی ایم ایس او وہ واحد تنظیم تھی جدھر طالبعلم کھنچے چلے آرہے تھے.

اے پی ایم ایس او کا قیام شدید ردعمل کا نتیجہ تھا، ان  نا محرومیوں کا، نا انصافیوں کا اور ظلم کا جو بانیان وطن کی اولادوں پر کیا گیا، اے پی ایم ایس او جاگیردارنہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف ایک جرات مندانہ قدم تھا، جس میں الطاف حسین کے ساتھیوں نے انکے فکر و فلسفے کا ساتھ دیا.

آزادی کے باوجود ہم اب بھی ذہنی مفلوج اور محکوم تھے، صرف چہرے تبدیل ہوئے تھے، نظام نہیں بدلا، اس وقت ملک کو ایک انقلابی سوچ کا انتظار تھا، جو الطاف حسین نے عطا کی، اس وقت ضرورت اس امر کی تھی کہ فرسودہ نظام سے بغاوت  کرکے ایک منظم اور مثبت سیاست کا آغاز کیا جائے، اس کام کا بیڑا جناب الطاف حسین نے اپنے ناتواں کاندھوں پر بخوبی نبھایا ہے،   25  سال کے ایک مجاہد صفت انسان نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی، 25 سال کا نوجوان صرف چمک دمک کا اسیر ہوتا ہے، مگر الطاف حسین جیسے مسیحا نے لوگوں کے درد کو محسوس کیا اور انکو زندگی سے متعارف کروایا.

الطاف حسین ایک عظیم مدبر اور مفکر ہیں، جنکی زندگی کا فکر و فلسفہ " زندگی کا مقصد دوسروں کی " ہے، ایک  ایسا معاشرہ جہاں ہر طرف افراتفری کا بازار گرم ہو وہاں پر الطاف حسین جیسے عظیم رہنما کا ہونا ہمارے لیئے  رحمت ہے، حق پرستی کی پاداش میں قائد تحریک کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا، آپکو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا، کوڑوں کی سزا سنائی گئی، انکو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر ناقابل بیان صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، ایم کیو ایم کے ہر کارکن کو سچ کی بڑی کڑی سزا بھگتنی پڑی.

1992 میں کراچی  شہر  میں بدترین ریاستی آپریشن کیا گیا، بقول حکومت وقت یہ آپریشن سیاسی میدان اور ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ہے، مگر تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے کتنے بھائیوں کو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے پڑے، سنگدل سیکورٹی اہلکاروں نے حاکم وقت کے اشاروں پر ایم کیو ایم کے معصوم اور نہتے کارکنان کو چن چن کر شہید کیا، کتنے بیٹوں کو ماؤں سے بچوں سے انکے باپ کو جدا کر دیا گیا، اب بھی ایم کیو ایم کے کتنے  کارکنان ایسے ہیں، جن کا ابتک  کوئی پتہ نہیں ہے کہ زندہ  ہیں یا انکو  شہید کر دیا گیا، ہنستے بستے شہر کو درندہ صفت انسانوں نے غم کی آگ میں جھونک دیا، جیتے جاگتے شہر کو تاریکی میں دھکیل دیا، لوگ اپنے گھروں سے باہر جانے میں خوف کھانے لگے، لوگ اپنے گھروں میں محصور زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے.
مگر ایم کیو ایم ان تمام چیرا دستیوں کے باوجود ایسی جماعت نہ تھی ، جو ظلم کے اگے  جھکتی یا چند سکوں کے عوض اپنے ضمیر کو بیچ دیتی، ایم کیو ایم نے حق گوئی اور حق پرستی کی راہ کو اپنے لہو کے چراغ جلا کر روشن کیا ہے، مگر جابر کے سامنے گردن نہ جھکائی، اس جماعت نے جتنے بھی الیکشن میں حصہ لیا، ایم کیو ایم نے بے نظیر کامیابی حاصل کی اور اس نے ثابت کر دیا کا باطل کی کالی رات چھٹ چکی ہے اور حق آخرکار ہمیشہ رہنے والا ہے، حق کی راہ پر چلنے والے کبھی متزلزل  نہیں ہوتے ہیں، الله ہمیشہ ان لوگوں  کا ساتھ دیتا ہے جو مظلومیت کا ساتھ دیتے ہیں، الحمدوللہ آج ایم کیو ایم کا شمار پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے، بدترین ریاستی آپریشن کے باوجود بھی ایم کیو ایم کو کچلا نہیں جا سکا، رب کے فضل و کرم سے جس وقت بلدیاتی الیکشن کا آغاز ہوا، اسمیں ایم کیو ایم کو بے مثال کامیابی نصیب ہوئی، الطاف حسین نے ناظم اور نائب ناظم کے چناؤ میں اپنے جرات مند کارکنان کا انتخاب کیا.

آج اے پی ایم ایس او کے جنم دن کے موقع پر ہم دل کی گہرائیوں سے جناب الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او کے تمام ذمہ داران اور عہداران کو مبارکباد دیتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ الله تعالی الطاف حسین کو درازی عمر اور صحت کاملہ عطا فرمائے اور انکا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پر سلامت رکھے. آمین
___________________________________________________________-

 شہلا شفیق

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں