Video Widget

« »

جمعرات، 5 جون، 2014

الطاف حسین بھائی سے امتیازی سلوک کیوں؟

قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ ایک فکر کا نام ہے جسے کبھی بھی ذہنوں سے، دلوں سے مٹایا نہیں جا سکتا. الطاف بھائی کے  خلاف  اقدامات برطانوی حکومت کو قابل نفرت اورمتنازعہ بنا رہے ہیں




انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کی دعویدار برطانیہ  میں جس طرح انسانی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اس کی واضح مثال یہ ہے کہ پاکستان کے عرصے دراز سے جاگیردارانہ، وڈیرانہ نظام میں جکڑے محکوم و مظلوم عوام کو آزاد کرانے، انہیں باشعور اور با اختیار بنانے کیلئے فرسودہ روایات، رسم و رواج اور نظام سے برسرپیکار الطاف حسین کو پابند سلاسل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں. عرصہ دراز سے متحدہ قومی  موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے پیغام کو پاکستان بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے کون سا  ایسا ہتھکنڈہ ہے جو استعمال نہیں کیا گیا ملکی دشمنی  کا الزام ، دہشت گرد قرار دیکر کارکنوں کا قتل عام، ملکی و بین الاقوامی سازشوں کے ذریعے انکے اعصاب کو کمزور بنانے کیلئے ہر ہر تدبیر کو آزمایا گیا اور انکے جاں نثاروں ہزاروں کی تعداد میں قتل کئے گئے. ملکی و بین الاقوامی سازشی عناصر ہمیشہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے ہیں

 تاریخ گواہ ہے کہ ایم کیو ایم ہمیشہ سے ہی مشکلات اور  مصائب کا سامنا کرتی نظر آئی ہے آج منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کو حراست میں لینا انہی سازشی عناصر کی سازشوں کا نتیجہ ہے جو عرصہ دراز سے ایم کیو ایم اور اسکے قائد کے خلاف نئے نئے جال بنتے رہتے ہیں بلاشبہ الطاف حسین کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں. دنیا کی تاریخ میں اس وقت بھی شاید ہی کوئی ایسی مثال ہو، ایسا قائد ہو جسکی ایک آواز، ایک اشارے پر ہزاروں لاکھوں جاں نثار اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے ہوں.

 کراچی کو ایسا لگتا ہے سانپ سونگھ گیا ہے ، ہر طرف سناٹا ہے، اندرون سندھ، پنجاب ، خیبر پختون خوا، بلوچستان پاکستان کے کونے کونے میں ایم کیو ایم کے کارکن، مرد خواتین تین دن سے بھوکے پیاسے، بچوں کے ہمراہ دھرنے دیے بیٹھے ہیں.

 الطاف حسین کوئی مجرم نہیں، انکی صحت سخت خراب ہے، پاکستان کے کئی حکمرانوں کے اربوں کھربوں بیرون ممالک میں پڑے ہیں، ملکی دولت لوٹ کر بنائے گئے کھربوں کے اثاثے ہیں انکے بارے میں تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی. برطانوی حکومت کے ارباب اختیار کو چاہئے کہ وہ الطاف حسین کو فوری طور  رہا کریں اور ایک غیر جانبدار اور آزاد کمیشن تشکیل دیں جو خود پاکستان آکر متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے قائد کی جدوجہد اور قربانیوں کا مطالبہ اور تحقیق کرے تبھی اسے پتہ چلے گا کہ ہر مذہب، مسلک، زبان اور قوم کے لوگ شامل ہیں اور عام آدمی کو حقوق دلانے کیلئے الطاف  حسین اور اسکے ساتھیوں نے کیسی لازوال قربانیاں دی ہیں. کیسے ایم کیو ایم کے قائد نے غریب اور متوسط طبقے سے پڑھے  لکھے نوجوانوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا ہے؟ کسطرح پاکستان بھر
بالخصوس اندورون سندھ اور جنوبی پاکستان کے جنگلوں دیہاتوں میں بسنے والوں کو بڑے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کے مظالم سے نجات دلائی ہے اور فرسودہ رسم و رواج اور روایات کا راستہ روکا ہے کیسے اپنے کارکنوں کی تربیت کی ہے؟ علم و ادب کا گہوارہ کہلانے والے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر  کیا کام ہوتا ہے؟ خدمت خلق فاونڈیشن کی خدمات کیا ہیں اسکا دائرہ کار کہاں تک پھیلا ہوا ہے؟ جب سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے گا اس  وقت پتہ چلے  گا کہ اور  اندازہ ہو گا کہ الطاف حسین محض ایک شخصیت  کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک فکر کا نام ہے جسے کبھی بھی ذہنوں سے، دلوں سے مٹایا نہیں جا سکتا. 

 جب انسانی حقوق کے علمبرداروں نے الطاف حسین کی حقیقت کو پالیا تو مجھے یقین ہے کہ انہیں کراچی میں ہونے والے ظلم و ستم بھی نظر آنے لگیں گے، کراچی  اور یہاں بسنے والوں کی خستہ حالی ، لاقانونیت، وحشت ناک سڑکیں، زندہ درگور بوڑھے ماں باپ کی آہوں بھری سسکیاں، کھلے سر بہنوں کے جوان بھائیوں کی لاشوں پر بین، سب دیکھ کر انہیں اندازہ ہو سکے گا کہ الطاف حسین کا جرم دراصل کیا ہے. حقیقت کو جاننے کے بعد مجھے یقین ہے کہ وہ الطاف حسین کو خراج تحسین پیش کریں گے  اور کراچی کے  حالات پر بھی تشویش کا  اظہار کریں گے اور یہاں ہونے  والے ماوراے عدالت قتل عام کی روک تھام کیلئے بھی موثر کردار ادا کر سکیں گے.

 تحریر. زبیر کلیم

پڑھنے کا شکریہ
اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں