Video Widget

« »

ہفتہ، 7 جون، 2014

عوام کی قائد سے بے پناہ محبّت اور اظہار یکجہتی


 آج ملکی اور بین الاقوامی سطح پر لاکھ قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے خلاف سازشیں ہو رہی ہوں، لیکن انکے چاہنے والے انکے ساتھ ہیں اور ان کیلئے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں اور یقینان قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائ پر جب جب کٹھن وقت آیا، قائد کے عزم و حوصلے نے اسے گزرنے پر مجبور کر دیا اور آج بھی یہ وقت گزر جائے گا اور ہمیشہ کی طرح قائد تحریک کو سر خروئی حاصل ہو گی.




 قائد تحریک الطاف حسین پاکستان کے پہلے انقلابی رہنما ہیں، جنہوں نے ملک کے غریب و متوسط طبقے میں اپنے حقوق کا احساس اور شعور پیدا کیا،  ایم کیو ایم پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت ہے، جس نے قائد تحریک کی قیادت میں پاکستان میں ایک نئے سیاسی کلچر کو متعارف کراتے ہوئے ملک کے ایوانوں تک متوسط طبقے کے حقیقی نمائندوں کو پہنچایا، قائد تحریک وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے جو کہا اس پر عمل کر دکھایا، قائد تحریک نے  بغیر حکمرانی کے دکھی اور مظلوم عوام  کی جتنی خدمت کی ہے، اسکی نظیر دنیا بھر میں نہیں ملتی، قائد تحریک خدمت کے اس مشن پر آج تک مصروف عمل ہیں

3 جون2014کو برطانیہ میں میٹرو پولٹن پولیس نے  قائد تحریک الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کیلئے گرفتار کر لیا اور پورے گھر کی تلاشی بھی لی گئی. ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین برطانیہ حکومت  کے قوانین کے مکمّل پاسداری اور احترام کرتے ہیں جسکی مثال یہ ہے  کہ جب کبھی بھی کسی بھی کیس میں پولیس نے الطاف حسین کو بلایا ہے تو قائد تحریک نے انسے مکمّل تعاون کیا ہے کیونکہ  الطاف حسین کسی فرد واحد کا نام نہیں بلکہ ایک نظریہ کا نام ہے ایک ایسا نظریہ جو انسانیت کی پہچان ہے اور اس پہچان کیلئے قائد تحریک نے 18 فروری 1991کو حقیقت پسندی و عملیت پسندی کا نظریہ دیکر انسانیت پر  ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف وہ عملی اقدامات کئے ہیں جو ظلم سے نجات کا اہم ذریعہ ہیں یہ وہ ہتھیار ہے جو ساری دنیا کے مظلوم عوام  کیلئے وہ قوت ارادی دینے والا نظریہ ہے جسکے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے ظلم و ستم کا خاتمہ عمل  میں لایا جا سکتا ہے. فلسفہ حقیقت پسندی و عملیت پسندی کے فلسفے  پر مبنی ایک نئے نظام کی ضرورت پر زور دیا جسکے مطابق دراصل ہر شے کی اچھائی و برائی، خوبی و خامی جانچنے کیلئے ایک پیمانہ ہے جسکے ذریعے ہم تصورات، پالیسیاں، کلیات و نظریات اور تمام نظام جس میں فرسودہ، جدید اور موجودہ نظام حکومت یا کسی بھی ادارے کے نظام کو جانچ سکتے ہیں جو غریب و متوسط طبقے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے لازم و ملزوم ہے

دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ظلم و جبر ہو گا وہاں الطاف حسین کا یہ دیا ہوا نظریہ مظلوم عوام کی رہنمائی کا ذریعہ بنے گا. یہی جرم ہے جو الطاف حسین  نے مظلوم عوام کی بقا و سلامتی کیلئے کیا ہے اور حق پرستی کا پیغام دیا ہے  جس سے بین الاقوامی سطح پر الطاف حسین کو جو پزیرائی حاصل ہوئی ہے اس سے خائف ہو کر دنیا بھر میں فرسودہ نظام کے حامی عناصر الطاف حسین کو اپنا  دشمن تصور کرتے ہیں اسی بات کی قائد تحریک کو ذہنی اذیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے. اربوں کھربوں روپے کا غبن کرنے والے اور دنیا بھر میں ملز، فیکٹر یز لگانے والے عناصر جنہوں نے کرپشن کرکے غریبوں کو لوٹا ہے کیا یہ کرپشن دنیا بھر کے قانونی ماہرین کی نظر میں نہیں آتی؟ بہرحال الطاف حسین کے خلاف جتنی بھی سازشیں  کر لی جایئں  بالخصوص پاکستان اور دنیا بھر کے مظلوم عوام چاہئے انکا تعلق کسی بھی رنگ و نسل سے کیوں نہ ہو وہ الطاف حسین کے نظریے کی پاسداری ہر حال میں کریں گے کیونکہ سچ آنے کیلئے  اور باطل مٹ  جانے کیلئے ہے. ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود بھی کروڑوں لوگوں کے دل الطاف حسین کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں جسکی واضح مثال نہیں بلکہ حقیقت دنیا کے سامنے عیاں ہے کیونکہ لاکھوں کے مجمع میں خطاب کرنے والا اپنی خدادا د صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والا، لاکھوں کے مجمع کو چند سیکنڈوں  میں خاموش کروادینے والا یہ عظیم رہنما جسے الله تعالی نے وہ عزت بخشی ہے جسے دنیا کی کوئی بھی طاقت  الله کے فضل و کرم سے  پامال نہیں کر سکتی.

 تحریک میں شامل افراد کا قائد سے یہی اندھا اعتماد تحریک کی بقاء کی ضامن ہے، اعتماد یقین سے پیدا ہوتا ہے یقین کا مطلب ہے کسی قسم کی  شک و ابہام کی گنجائش بالکل نہیں ہونی چاہئے. پاکستان کو آزادی تو مل گئی لیکن پاکستان کے مظلوم عوام کو آزادی نہیں ملی، پاکستان میں 66 سالوں سے قائم فرسودہ نظام کا دور دورہ رہا ہے جو آج تک جاری و ساری ہے اس فرسودہ نظام نے پاکستان کے 98 فیصد مظلوم عوام کو غلام بنا رکھا ہے یہ غلامی انگریزوں کی غلامی سے زیادہ تلخ ثابت ہوئی. اس تلخ حقیقت سے نجات کی خاطر عوام الناس کو تیار کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے. الطاف حسین کا نظریہ حقیقت پر مبنی ہے اس سے انکار چراغ  تلے اندھیرے کے متعارف ہے. پاکستان کی واحد جماعت ایم کیو ایم ہے جو غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے الطاف حسین نے جو پاکستان میں انقلاب برپا کیا ہے وہ پاکستان کے مظلوم عوام کے سامنے عیاں ہے. الطاف حسین ہر مصائب کے باوجود  اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مظلوم عوام کیلئے ہر سطح پر آواز حق بلند کرتے رہئے پاکستان میں پہلی مرتبہ غریبوں کی قیادت  میں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جو ابتدائی مراحل ہی سے  مظلوم مہاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام مظلوموں کے حقوق کی محافظ بن گئی اور اس تحریک کے قائد الطاف حسین کی صلاحتیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا . اس تحریک کا راستہ روکنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر بھی کوششیں ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوئیں.

 3 جون سے ابتک دھرنوں  کا سلسلہ ( تادم تحریر دھرنا اختتام پذیر ہو چکا ہے) پورے پاکستان میں جاری ہے اور الطاف حسین کے کروڑوں چاہنے والے اپنے قیمتی رات دن دھرنوں میں ایک کر چکے ہیں کیا یہ حق پرستی کی دلیل نہیں ہے ؟  الطاف حسین برسوں سے جلاوطنی کی زندگی  گزارنے پر مجبور ہیں لیکن اسکے باوجود ساری دنیا کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں روحانی طور پر موجود رہتے ہیں کیا یہ حق پرستی کی جیت نہیں؟  دھرنوں میں موجود نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزروگوں، خواتین عورتیں اور شیر خوار بچوں کی ایک کثیر تعداد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ الطاف حسین اس نظریے کا نام ہے جو دنیا بھر میں امن و امان کے قیام میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں. الطاف حسین وہ بین الاقوامی لیڈر ہیں جنہوں  دہشت گردی کے خاتمے کیلئے، لاقانونیت کے خاتمے کیلئے اس نظریے کو متعارف کروا کے دنیا بھر میں دہشت گردی  کے خاتمے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے جس سے عالمی امن قائم کرنے والی تنظیمیں بھی انگشت بدنداں ہیں لہذا برطانیہ حکومت کو ان تمام پہلووں پر غور و  خوض کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ الطاف حسین کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ حق پرستی کا درس دینے والے اس عظیم لیڈر کیلئے پاکستان میں بلکہ دنیا  بھر میں گومگوں کی کیفیت میں مبتلا  ہیں جنکے دل  الطاف حسین  کے ساتھ دھڑکتے  ہیں. کیونکہ حکومت برطانیہ عوامی حقوق کی علمبردار ہونے کی دعویدار ہے لہذا انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا انکی اولین ذمہ داری ہے. مظلوم عوام کے نجات دہندہ الطاف حسین کیلئے ممکن نہیں کہ وہ کسی بھی جرم کے مرتکب ہوں. برطانیہ حکومت اور انتظامیہ سے پاکستان کی عوام کی پرزور اپیل  ہے کہ الطاف حسین کو جلد از جلد رہا کیا جائے.
______________________________________________________________________

 کوثر علی صدیقی




 اگر آپ یہ آرٹیکل اوریجنل  لنک پر  پڑھنا چاہتے ہوں تو  اس لنک پر کلک کیجئے  ( قومی اخبار )
 



پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں
ایک تبصرہ شائع کریں