Video Widget

« »

اتوار، 1 جون، 2014

مودی راج میں مسلمانوں پر بڑھتے خوف کے سائے

 نریندرا مودی اب بھارت کے وزیراعظم ہیں اور وہ خالص ہندو  ایجنڈے پر الیکشن لڑ کر یہاں تک  آئے ہیں. ظاہر ہے اب وہ کھل کر ہندتوا کی سیاست کریں گے. مودی نے الیکشن سے  قبل مسلمان کو ایک کتے کے بچے سے ملا کر انہیں انکی اوقات بھی بتا دی تھی. پھر گجرات ماڈل میں مسلم نسل کشی ، مسلمان عورتوں کی آبروریزی، مسلمان کو دہشت گرد  قرار دیکر جعلی پولیس مقابلوں میں مروانا بھی شامل ہے، اسلئے ہندوستانی مسلمان کو ان تمام باتوں کیلئے تیار رہنا چاہئے.



 بھارتی لوک سبھا الیکشن کے نتائج ایک طرف حیران کن ہیں وہاں دوسری جانب ہندوستانی اقلیتوں  بالخصوص مسلمانوں کیلئے تشویش ناک بھی ہیں. حالیہ الیکشن میں بی جے پی نے نریندر مودی کارڈ خوب مہارت سے کھیلا، نہایت مکاری و عیاری سے مسلم مخالف جذبات کو ہوا دی گئی اور پورے ہندوستان میں سرمایاکاروں کے  سرمایے کے بل بوتے پر مودی لہر چلائی گئی جس نے بالآخر اپنا جادو چلا دیا اور مودی دہلی کے تخت پر قابض ہو گئے. اب سنگھ پریوار کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پورے ہندوستان میں گجرات کا تجربہ دہرایا جائے گا، جبکہ بی جے پی کی حکومت بننے کا اعلان ہوتے ہی ہندو انتہا پسند جماعتوں نے رام مندر کی تعمیر کے مطالبے شروع کر  دیئے. راشٹر سویم سنگھ کے سینئرر رکن  ایم جی ویدہ نے رام مندر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کشمیر سے متعلق دفعہ 370 ہٹائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے.

 حالیہ الیکشن میں بی جے پی نے بنگلہ دیش مہاجرین کی اصطلاح استعمال کی.  خصوصاً اسنے بہار، بنگال، آسام کے حسساس ماحول کے پیش نظر لوگوں کو اپنی صف میں شامل کرکے فائدے اٹھانے کیلئے سب کچھ کیا. اسکا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس نفرت کو ہوا دیکر اپنی شیطانیت کی تجدید کی جا سکے. اس بار مسلمانو ں کا بھوت بنگلادیشیوں کے روپ میں لایا گیا. پناہ گزیں، غیر قانونی، غیر ملکی نوآبادکار وغیرہ جیسی اصطلاحات کو استعمال  میں لایا گیا. بھارتی سیکولرازم اس قدر کھوکھلا ہو چکا ہے کہ اسنے خود کو کھوکھلا کرکے فرقہ  پرست طاقتوں کے اقتدار کو آسان بنا دیا ہے.

ہندوستان نے گزشتہ 65 برسوں میں مسلمانوں کو کیا دیا ہے بلکہ انہیں بند گلی میں دھکیل کر یہ  باور کروایا جا رہا ہے کہ یہ ہمارا سیکولرازم ہے. مسلمانوں کو ترقی کے ہر موقع پر محروم کر دیا گیا ہے، لیکن ماڈرن سیکولر ہندوستان میں جب صف بنددیاں کی جاتی ہیں تو مسلمانوں کی چاپلوسی اور انکو خوش کرنے کے طعنے دیئے جاتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کو سڑنے کیلئے انکی گندی سڑی غلاظت سے بھری ہوئی بستیوں میں  چھوڑ دیا گیا جہاں انکا کوئی پرسان حال نہیں، صرف الیکشن کے دوران ہی مسلمانوں سے ووٹ کے نام پر تمام مصائب سے نجات کا وعدہ کیا جاتا ہے، مگر اسمیں دھوکہ ہی ہوتا ہے.

مسلمان بھارت کی کل آبادی کا چودہ فیصد ہیں، نریندر مودی کے مسلمانوں کے ساتھ تعلقات مخاصّمانہ ہی رہے ہیں. 2002 کے گجرات مسلم کش فسادات اسکی واضح مثال ہیں. کہا جاتا ہے کہ مودی کا تعلق پولیس کے اس جتھے سے بھی  رہا ہے کہ  جو  مسلمانوں کو نشانہ بناتا تھا.

ہندوستانی سیاست نے اگلی دو دہایوں کیلئے ہندو توا یعنی ہندو راشٹر کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے اور اسکا خمیازہ بھی مسلمانوں کو ہی بھگتنا پڑے گا. آر ایس ایس نے 1925 میں جو خواب دیکھا تھا آج اقتدار پر قبضہ کرنے پر وہ شرمندہ تعبیر ہو گیا. 


پڑھنے کا شکریہ
ایک تبصرہ شائع کریں