Video Widget

« »

پیر، 16 جون، 2014

آپریشن ضرب عضب اور قومی یکجہتی






 یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم لوگ تاریخ کے ایک بہت  نازک مرحلے سے گزر  رہے ہیں. ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اجتمائی شعور اور جذبہ حب الوطنی کو اجاگر کیا جائے تاکہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنکر اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے مذموم عزائم کی بیخ کنی کیلئے اپنی توانیاں صرف کرنے کیلئے تیار ہو. تاریخ  شاہد ہے کہ ایسے نامساعد حالات میں میڈیا ہی وہ اہم ترین ذریعہ ہے جس کے توسط سے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم  پر یکجا کیا جا سکتا ہے. اہل قلم ہی وہ طبقہ ہے جو ذہنوں کی آبیاری اور شعور کی بیداری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے. لیکن یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ   میڈیا میں تحریریں، تبصرے، تجزئیے تعصب سے پاک ہوں، کسی بھی واقعہ پر کیا جانے والا یکطرفہ تجزیہ قلم کار کی محض ذاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے.پاکستان پر  مسلط  طالبان کی  دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جس نے پاکستان کو ہر لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے. ہزاروں پاکستانی اس دہشت گردوں کی دہشت گردی کی پھینٹ چڑ چکے ہیں. افواج  پاکستان کے  مایہ ناز افسران،   شہید ہو چکے ہیں، کبھی ہم نے یہ سوچا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ہمارا کتنا معاشی نقصان ہو چکا ہے، بیرونی سرمایاکاری نہ ہونے کے برابر رہ چکی ہے، طالبان  کی دہشت گردی کی وجہ سے کتنے بچے یتیم ، کتنوں سہاگنوں کے سہاگ اجاڑ چکے ہیں، کتنی ماؤں کے لخت جگر لقمہ اجل بن گئے. اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو طالبان دہشت گردوں سے پاک و صاف کرنے کیلئے تمام بڑے ادارےبشمول میڈیا  پاک فوج کے شانہ بشانہ  اس  جنگ کو لڑیں. کیونکہ پاکستان کی سلامتی  میں ہم سب کی بقاء ہے اور ہم سب کا ہونا اس ارض پاک کی سلامتی سے وابستہ ہے.  جماعت اسلامی  کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ وقت قیاس آرئیوں اور الزام تراشیوں کا نہیں بلکہ اجتمائی سوچ اور ملی جذبے کو ترغیب دینے کا ہے اور اس کیلئے ہم سب کو متحد ہوکر اپنی اپنی بساط کے مطابق اس مشن میں اپنا کردار ادا کرنا ہے . بقول احمد ندیم قاسمی...


 وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا



ضرب عضب طالبان کے سروں پر غضب برسانے لگا

افواج  پاکستان نے طالبان اور غیر  ملکی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کون آپریشن " ضرب عضب ' کا آغاز کر دیا ہے . یہ ساری صورتحال پوری قوم کیلئے  بھی ایک بڑا امتحان ہے. اس امتحان میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے دفاعی اداروں کی پشت پر پورے اخلاص کے ساتھ کھڑی ہوں



 پاک فوج نے حکومت کی ہدایات پر شمالی وزیرستان میں غیر ملکی اور  مقامی دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن شروع کر دیا .آپریشن کو " ضرب   عضب   " کا نام دیا گیا ہے.

 شمالی وزیرستان میں  ہفتہ کی شب بڑی فضائی کاروائی میں 150 ازبک دہشت گرد مارے گئے جس میں کراچی ائیرپورٹ کا ماسٹر مائنڈ  ابو عبدالرحمان المانی بھی شامل تھا، اس فضائی کاروائی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی دہشت گردوں کی ہلاکت سے یہ حقیقت طشت از بام ہو گئی ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی دہشت گرد موجود ہیں . ازبکستان سمیت دنیا بھر سے آنے والے یہ  دہشت گرد ہماری  داخلی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ ہیں. ایسی صورتحال میں ناگزیر ہو چکا ہے کہ ملک کی سلامتی اور اندرونی استحکام کیلئے دہشت گرد تنظیموں خاص طور پر ملک کے قبائلی علاقوں میں مقیم غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کیا جائے. یہی وجہ ہے کہ حکومت نے افواج پاکستان کو شمالی وزیرستان کو ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں  سے صاف کرنے کا حکم دے دیا  ہے.

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی سطح پر دہشت گردی اور شدت پسندی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے. گزشتہ بارہ برس سے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور بارود سے بھری گاڑیوں سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا جو بازار گرم ہوا، ایک اندازے کے مطابق اس سے ملکی معیشت کو 100 ارب ڈالرز سے زیادہ نقصان ہو چکا ہے. دہشت گردی اور انتہا پسندی  نے ہمارے معاشرے کو تفریق اور تقسیم کے نہ ختم ہونے والے رحجان میں مبتلا کیا ہوا ہے. سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں سمیت ہزاروں بے گناہ پاکستانی دہشت گردی کی اس  آگ کا شکار ہو گئے.

ہمارے کھیل کے میدان، سیاحتی مقامات ویران ہوکر رہ گئے جبکہ دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر ہونے لگی. افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہر اول دستے کا کردار  ادا کرنے اور دنیا کے امن کی خاطر قربانیاں دینے کا  صلہ یہ مل رہا ہے کہ ہم خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں. پاکستان کے قبائلی علاقے دنیا بھر سے آئے دہشت گردوں کی آما جگاہ بنے ہوئے ہیں. غیر ملکی دہشت گردوں کی پاکستان آمد کا سبب بھی خطے میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے مفادات کی اندھی  تکمیل ہے. ایک وقت تک امریکہ اور اسکے اتحادی ان غیر ملکی دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ہمارے قبائلی علاقوں میں قیام کیلئے انکی سرپرستی کرتے رہے.  جب انکے مفادات پورے ہو گئے تو ان عالمی قوتوں نے ڈرون حملوں اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے ہماری خود مختاری کیلئے مسائل پیدا کئے. اسی جارحیت کی وجہ سے جب قبائلی علاقوں میں بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے تو اس کا  خمیازہ بھی پاکستان کو بھگتنا پڑا.  

یہ بات طے شدہ ہے اور اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ دہشت گردوں، شدت پسندوں اور شرپسندی پر اترے عناصر کا علاج ریاستی طاقت کے ذریعے انہیں جڑ سے اکھاڑنے کی پالیسی ہے، کوئی محب وطن ادارہ، سیاسی و مذہبی جماعت اور تنظیم داخلی استحکام اور قومی سلامتی پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گی.


اتوار، 15 جون، 2014

کراچی دہشت گردی اور برداشت کا امتحان

مذہبی انتہا پسند ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہیں جبکہ ریاست انکی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے. ان لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی فوری ضرورت ہے، جو عسکریت پسندوں کو مسلمان  سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ وہ معاشرے کا ایک حصّہ ہیں




 فتح جنگ کراسنگ پر خودکش حملہ، باجوڑ اجنسی میں بارودی سرنگ کا ،دھماکہ اور ایسے کئی حالیہ واقعات میں، جناح  انٹرنیشنل ٹرمینل، کراچی پر حملہ، ان سب واقعات کے نتیجے میں پاکستان کی مسلح افواج کے جوان اور افسران اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی شہادت ہوئی، قومی اثاثوں اور اداروں کو نقصان پہنچایا گیا، مگر بعض رہنما کہتے ہیں کہ ایسے دہشت گرد عناصر کو دیوار سے  نہیں دل سے لگایا جائے. اسی گروپ کے ایک رہنما ماضی میں یہ کہہ  چکے ہیں کہ دہشت گرد شہید ہیں جبکہ فوجی اہلکاروں کو شہید نہیں کہا جائے گا. وزیراعظم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں اور  فوجی قیادت کو اعتماد میں لیکر، دہشت گردی کے خلاف  متفقہ پالیسی مرتب کی. اس پالیسی کے تحت دہشت گردوں سے مذاکرات کو اولیت دی گئی.

حکومت کی ٹیم نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ مزاکرات کا آغاز کیا مگر اس دوران ، خودکش حملے جاری رہنے پر، وزیراعظم نواز شریف کو کہنا پڑا  کہ معاملات اس طرح نہیں چل سکتے بلکہ دہشت گردوں کو اپنی کاروائیاں روکنا ہونگی. وزیراعظم کی حکمت عملی کام آئی اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں کمی آگئی مگر دہشت گرد، نت نئی اور من مانی شرائط  لیکر حکومت پر دباؤ بڑھاتے رہے. اس دوران بارہا ایسے واقعات کا ارتکاب کیا گیا، جس کا نشانہ فوجی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تھے. ان دہشت گردوں میں مقامی لوگوں کے علاوہ غیر ملکی عناصر بھی ہمیشہ کی طرح شامل تھے. حکومت نے پرامن مذاکرات کو جاری رکھنے کیلئے ، صبر و ہمت اور برداشت  کا  جو مظاہرہ کیا،  اس پر حکومت کو عوامی تنقید  کا سامنا بھی کرنا پڑا اور  مجبور ہو کر دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد، جوابی کاروائی کا فیصلہ کیا، جس پر دہشت گردوں کے ہمدردوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ انہیں دیوار سے نہیں لگایا جائے. حیرت  ہے کہ اسلامی تعلیمات کا پرچار کرنے والی، یہ سیاسی جماعت، کس ذہن اور کن اسلامی تعلیمات اور قرانی احکامات کے تحت، دہشت گردوں کو دل   سے لگانے کی بات کرتی ہے .

بعض سیاسی جماعتیں اور ناقدین ایسی حکومتی جوابی کاروائیوں پر بھی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایسی کاروائیوں  سے بیگناہ لوگ مارے جاتے ہیں جبکہ عسکری ذرائع اس بات کی تردید کرتے ہوے کہتے ہیں کہ جوابی کاروائیاں دہشت گردوں کی موجودگی کے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کی گئیں. پاکستان کے امن پسند  عوام بھی یہ  جاننا چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے گروہ، قومی اہمیت کی تنصیبات کو نقصان پہنچا کر، کس کے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟ صرف ایک دشمن ملک، دوسرے ملک کے قومی  اثاثوں تنصیبات اور اسکی فوج کو نشانہ بناتا ہے. کیا ایسے عناصر کو دل سے لگانا چاہئے؟ قبائل کا نام لیکر دہشت گردوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کو اب اپنا واضح موقف پیش کرنا چاہئے کہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان تباہ کرنے والے عناصر کے ساتھ. کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو  نشانہ بنانے والے، پاکستان کی معیشت کی شہ رگ کو کاٹنے کا پیغام دے رہئے ہیں. وہ دنیا کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کسی بھی صورت سفر کیلئے محفوظ ملک نہیں.

  ابھی کچھ دن پہلے پاکستان سے بھیجی گئی ٹرین کو، سکھ یاتریوں کے بغیر بھارت نے یہ کہہ کر واپس کر دیا  کہ  پاکستان میں ٹرینوں کو  آگ لگا  دی جاتی ہے. حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا . سکھ یاتریوں کو بھارت نے بھیڑ بکریوں کی طرح شدید گرم موسم میں ناموزوں ٹرانسپورٹ کے ذریعے پاکستان پہنچایا، شائد اس لئے سکھوں نے بھارت سمیت، دنیا بھر میں 1984 میں امرتسر کے مذہبی مقام  گولڈن ٹمپل پر بھارتی فوج کشی کی یاد منائی تھی. اور اس سے اگلے دنوں میں کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھارتی ساختہ ہتھیاروں سے حملہ کردیا جاتا ہے. بلاشبہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہر قدم پر بردباری کا مظاہرہ کرتا آیا ہے مگر انتہا  پسند ہندو جماعت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں ہونے والی یہ تازہ کاروائی بہت سے سوالوں کو جنم دے رہی ہے.


ہفتہ، 14 جون، 2014

کراچی ائیرپورٹ پر حملہ

ازبکستان کی باغی اور انتہا پسند اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU) کی افغانستان اور بھارت نہ صرف حمایت بلکہ سرپرستی بھی کرتے ہیں. IMU نے افغانستان کے بڑے علاقے میں دہشتگردی کے کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں. پاکستان  میں بھارت کے ایما پر ہونے  والی متشدد اور ہلاکت آفریں  کاروایئوں میں IMU سے متعلق ازبک باشندے بھی شامل ہیں. اس تنظیم  کی وزیرستان میں بھی موجودگی ثابت ہے.



 8 جون کو کراچی ائیرپورٹ پر ہونے والا حملہ اور ماضی قریب میں ہونے والے دہشت گردی کے دلگیر اوراندوہناک واقعات کا اگر جائزہ لیں تو ان میں حیران کن مماثلت  پائی جاتی ہے. اکتوبر 2009 راولپنڈی جی ایچ کیو ، مئی 2011، مہران بیس پر اورین طیاروں کی مکمل تباہی، 16 اگست 2012 کامرہ منہاس ائیر بیس حملہ،  15 دسمبر 2012 پشاور ائیرپورٹ پر راکٹوں کا داغنا، اور تخریب کاری کے دیگر واقعات میں بھی حملہ کرنے والے دہشتگرد یونیفارم میں ملبوس تھے، زیادہ تر حملے رات کی تاریکی میں کئے جاتے ہیں. حملہ آوروں کے پاس جعلی سرکاری کارڈز ہوتے ہیں. انکی پیٹھوں پر بھاری بیگ لٹک رہے ہوتے ہیں. انکے پاس  ایک جیسا بڑی مقدار میں خطرناک اسلحہ  ہوتا ہے. خودکش بمبار بھی انکی ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں. انکے پاس اشیائے خوردنوش کی وافر مقدار ہوتی ہے. انکا  حملہ آور ہونے کا طریقہ ایک جیسا ہے. پاکستان کی سر زمین پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا موازنہ اگر بھارت میں دہلی پارلیمنٹ یا ممبئی حملوں سے کیا جائے تو وہاں بھی بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے دہشت گردوں کی پیٹھوں پر بھاری بیگ،  ہاتھوں میں ویسا ہی  آتشیں اسلحہ، خوراک کا ذخیرہ اور لوگوں پر گولیاں داغنے کا انداز یکساں تھا.  یہ دلیل اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے کہ ان تمام دہشت گردوں کی تربیت اور کمان کا مرکز ایک ہی ہے.

یہ حقیقت طشت ازبام ہو چکی ہے کہ دہلی پارلیمنٹ  اور ممبئی حملے بھارتی حکومت اور ایجنسیوں کے کارنامے تھے. ان حملوں کو جواز بنا کر بھارت نے  اس وقت ایک تیر سے دو  شکار کرنے کا فیصلہ کیا تھا. ایک تو ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام دھرا کہ اسے دہشت گرد ملک ثابت کرنا اور دوسرا بھارتی پارلیمنٹ سے دہشت گردی کے نام پر اندھے قانون  " ٹاڈا " کو پاس کروانا جس کیلئے پارلیمنٹ  رضا مند نہیں تھی. بھارت کی خود ساختہ دہشت گردانہ کاروائیوں  کی وجہ سے پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کے دشمن بل کو پاس کر دیا. اس بل کے بعد بھارت سے  آزادی مانگنے والے علاقوں اور مسلمانوں کے گرد شکنجہ کس دیا گیا.

بھارت کل بھی پاکستان کا دشمن تھا اور آج بھی کٹر مخالف  ہے.کل مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں ہماری پیٹھوں میں  خنجر گھونپا اور آج فاٹا اور بلوچستان میں سرگرم ہے. دنیا جانتی ہے کہ بھارت براہ راست اور افغانستان کے راستے دہشت گردی پاکستان ایکسپورٹ کر رہا ہے. اس بات کی سند کے طور پر بھارتی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ کا اپنی کتاب میں یہ  اعتراف کافی ہے کہ انہوں نے خصوصی ملٹری انٹیلی جنس یونٹ بنا کر پاکستان میں خفیہ آپریشن کئے. دوسری جانب افغان حکومت اور نادرن الائنس بھارت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنکر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں. افغانستان کے اکابرین اور رہنما یہ حقیقت بهول گئے کہ جب افغانستان کی سر زمین  ان پر تنگ ہو گئی  تھی تو پاکستان نے اپنے باڈر، دامن اور دل  دریچے ان کیلئے کھول دیئے تھے. 60 لاکھ مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا تھا. ہمارے احسانات کا بدلہ صدر حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور حکومتی اہلکار بھارتی اشاروں پر ناچ کر ادا کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان پاکستان کے دشمنوں ملا فضل الله، عبدالولی، خراسانی اور دیگر کو نہ صرف پناہ دیئے ہوئے ہے بلکہ انہیں بھارت کی سرپرستی میں قائم کیمپوں میں دہشتگردی کی تربیت، گولہ بارود اور نقد رقوم دی جاتی ہیں.ازبکستان کی باغی اور انتہا پسند اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU) کی افغانستان اور بھارت نہ صرف حمایت بلکہ سرپرستی بھی کرتے ہیں. IMU نے افغانستان کے بڑے علاقے میں دہشتگردی کے کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں. پاکستان  میں بھارت کے ایما پر ہونے  والی متشدد اور ہلاکت آفریں  کاروایئوں میں IMU سے متعلق ازبک باشندے بھی شامل ہیں. اس تنظیم  کی وزیرستان میں بھی موجودگی ثابت ہے.

حالات و واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ بھارت و چند ممالک اٹیمی پاکستان سے خوفزدہ  ہیں یا  وہ اسے برداشت نہیں کر پا رہے. مقام افسوس ہے کہ ہمارے  رہنما حالات و حقائق سے آگاہی رکھنے کے باوجود کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں. ہمیں مزید وقت ضائع کیئے بغیر اپنی خارجہ و داخلہ  پالیسیوں کو تبدیل کرنا  چاہئے. ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم امن کے داعی اور خواہش مند ہیں مگر دنیا پر ہمارا منفی اثر کیوں پڑتا ہے. ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے. ہمیں چاہئے کہ اقوام عالم اور دوست ممالک کو اعتماد میں لیں. بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تنبیہہ کی جائے. انہیں بتایا جائے کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں.  اور آپ کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنا چاہتے ہیں. انہیں باخبر کریں کہ اگر وہ پاکستان دشمنی سے باز نہ آئے تو ہم اپنی سالمیت اور بقاء کیلئے  کوئی سخت قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کریں گے.

پاکستان کو تباہ کرنے کا خواب دیکھنے والے یقیناّ ناکام ہوں گے. حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردوں اور تخریب کاری کی راہوں کو  روکیں. انہیں نیست و نابود کر دیں.  اس کیلئے ضروری ہے کہ  ملک سے وی آئی پی کلچر ختم کیا جائے. کسی چیک پوسٹ، چوکی، گیٹ یا ادارے میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے سپاہی کے پاس اتنا اختیار  ہو کہ  ہر آنے جانے والے بشمول کسی کورکمانڈر، آئی جی، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ، سینیٹرز، محکموں کے سربراہوں، اعلی افسرشاہی اور وزراہ کی شناخت کے بعد ہی سرکاری املاک میں داخل ہونے کی اجازت دے. اس وی آئی پی نظام کے تحت آج دہشت گرد جعلی یونیفارم پہن کر پر تعیش اور بڑی گاڑیوں میں سوار اپنے اہداف تک پہنچنے میں آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں.

دشمن جلد ہی ایک گہری چال چلنے والے ہیں. افغانستان کی سرزمین پر  انہوں نے وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کیلئے کیمپس کھول دیئے ہیں. بھارت مشرقی پاکستان میں روا رکھی جانے والی گھناؤنی سازش کو دہرانے کی  کوشش میں ہے. حکومت فوری طور سے  وزیرستان اور فاٹا کے محب وطن عوام سے رابطہ کرے، بھرپور آپریشن شروع  کرنے سے قبل حکومت ان قبائل کو انکے ماحول کے مطابق دوسری جگہوں پر آبرومندانہ طور سے منتقل کرے. انکی ضروریات کا خیال رکھا جائے. آپریشن کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا جائے  کہ اسکی زد میں معصوم اور بیگناہ افراد نہ آئیں. یہ نہ ہو کہ یہ سادہ لوح باشندے دشمنوں کی چالوں کا شکار ہو جایئں.

حکومت کا فرض اولین ہے کہ وہ ان دہشت گردوں سے نپٹنے  کیلئے واضح  اور ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے. آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ مسائل کا حل نہیں. تعمیراتی منصوبے تیار کرنے کی بجائے پیسہ عوام پر خرچ کرکے بدامنی کے جن کو قابو میں لایا جائے. راہ فرار اختیار کرنے کی بجائے مسائل و مشکلات کا مردانہ وار مقابلے میں ہی سالمیت اور بقاء پنہاں ہے.

جمعہ، 13 جون، 2014

دہشت گردی، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

کراچی ائیرپورٹ پر دہشتگرد حملے اور تفتان بلوچستان میں اہل تشیع  لوگوں کا وحشیانہ قتل عام اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ طالبان امن اور نہ ہی مذاکرات کے حامی ہیں


 پاکستان کی تاریخ میں 8 جون کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جس  روز طالبان دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ پاکستانی ریاست پر حکومت کا کنٹرول عملا ختم ہو چکا ہے اور درجن بھر بندوق بردار جب چاہیں تباہی مچا سکتے ہیں. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ فوج رینجرز اور پولیس نے کراچی اور کوئٹہ میں بڑی بہادری کے  ساتھ  دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا تاہم اتنی بڑی فوج،  رینجرز  پولیس اور ایجنسیوں کے باوجود دہشت گردوں کا جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچ کر کامیابی سے اپنی کاروائیوں کو تکمیل تک پہنچنانا اس بات کو عیاں کرتا ہے  کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی توجہ اپنے اصل کام  کی طرف نہیں ہے حالانکہ واقعہ کے روز پاکستان کے تمام ائرپورٹس ریڈ الرٹ تھے، اسی طرح شیعہ زائرین پر حملے کی وارننگ بھی موجود تھی لیکن اسکے باوجود یہ وحشت ناک واقعات پیش آئے. ہمارا مقصد اپنے اداروں  پر الزام تراشی نہیں بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ ہمیں ایسے واقعات کا قبل از وقت سدباب کرنا چاہئے.

طالبان پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے مقاصد سے کاروائیاں کرتے ہیں اس سے قبل انہوں نے قذافی  اسٹیڈیم کے باہر سری لنکا  کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا جسکے نتیجہ میں پاکستان عالمی سطح پر کرکٹ میں تنہا رہ گیا. بعد ازاں انکا ہدف کوہ پیما بنے، انکی ہلاکتوں کے بعد پاکستان میں کوہ پیمائی کی سیاحت ختم ہو گئی ار اب کراچی حملے کا مقصد پاکستان میں عالمی فضائی کمپنیوں کی آمد کا راستہ روکنا اور بین الاقوامی سرمایاکاری کا دروازہ بند کرنا ہے، لیکن یہی بات وفاقی حکومت کو سمجھ نہیں آرہی تا ہم وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے اس بیان سے کہ اب پوائنٹ  اسکورنگ کا وقت نہیں بلکہ حکومت اور فوج کے ایک پیچ پر ہونے کی ضرورت ہے. انکے اس بیان سے یہ عقدہ کھل کر سامنے آگیا کہ حکومت اور فوج اس نازک وقت میں بھی ایک پیچ پر نہیں ہیں حالانکہ وفاقی وزراء بشمول پرویز رشید اور خواجہ آصف ہر روز یہ راگنی الاپ  رہے تھے کہ فوج اور حکومت  ایک پیچ پر ہیں. دوسری طرف طالبان کے کھلے اعلان جنگ کے بعد پاکستان کو بھارت سے زیادہ طالبان سے خطرات لاحق ہیں. بھارت ہمارا ایک کھلا دشمن ہے اور اس سے ہمیں فوری جنگ کا  کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ طالبان ایک ایسا  جنگجو گروپ ہے جو ہمارے تمام بڑے شہروں میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنا چکا ہے. بیرونی جارحیت کے خلاف تو ہماری قوم ہمیشہ ہی متحد رہی ہے . لیکن آج ہماری ریاست کو  بیرونی سے زیادہ اندورونی خطرات لاحق ہیں.

ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجودہ تمام سیاسی جماعتیں مسلح افواج اور پوری قوم ہمارے اندر چھپے ہوئے اس دشمن کے خاتمہ کیلئے متحد ہو جائے اور اگر ہم متحد نہ ہوئے تو ہماری ریاست کا نقشہ اور نظام سب کچھ بدل جائے گا، اور یہی بات تحریک انصاف اور  جماعت اسلامی کو بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے. گزشتہ روز تحریک انصاف  کی کور کمیٹی نے اپنے فیصلوں میں مذاکرات اور آپشنز کو کھلے رکھنے پر زور دیا جبکہ تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی جیسے زیرک شخص کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے .  کیا انہیں ہر روز معصوم بے گناہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے افسروں اور  جوانوں کا لہو سڑکوں پر بہتا نظر نہیں آرہا. کراچی حملہ جس میں 32 سے زائد اے ایس ایف سمیت رینجرز اور پولیس کے جوان معصوم شہری شہید ہوئے اور کوئٹہ حملہ جس میں بچوں، خواتین سمیت 30 افراد  کا ناحق خون بہایا گیا جیسی دہشتناک کاروائیوں کے باوجود بھی جاوید ہاشمی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا امن کے قیام کا واحد حل قرار دیتے ہیں. تحریک انصاف کو اب اپنے اس نظریہ ضرورت پر نظر ثانی کرنا ہو گی اور کے پی کے کی حکومت کی وجہ سے طاری خوف سے باہر نکلنا ہو گا کیونکہ طالبان قیادت کا کھلا اعلان جنگ پاکستان کی ریاست ، اداروں اور پاکستانی عوام کے خلاف ہے. عمران خان کو اگر اپنی سیاست اور ریاست کو بچانا ہے تو انہیں اس مصلحت پسندی سے باہر نکلنا ہو گا. امید کی جا سکتی ہے کہ وفاقی حکومت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں مسلح افواج کو اعتماد میں لیکر ملک کو اس شورش سے پاک کرنے کیلئے کسی فیصلہ کن نتیجہ پر پہنچ جائے.


جمعرات، 12 جون، 2014

کراچی ائیرپورٹ حملہ اور میڈیا کی اوٹ پٹانگ کوریج





 اگر کوئی بات نہیں کر رہا تو وہ یہ ہے کہ بھاری ہتھیاروں سے مسلح حفاظتی حصار توڑ  کر رن وے تک کیسے پہنچے؟ 24 گھنٹے پہلے ہی چونکہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر زبردست خونی ڈرامہ ہو چکا تھا،  لہذا اگلے ہی دن ( دس جون ) کو ائیرپورٹ کے نواح میں جب فائرنگ ہوئی تو اسکی وجوہات جاننے سے پہلے ہی کڑی سے کڑی جوڑی جا چکی تھی. سانپ کا کاٹا یوں بھی رسی سے ڈرتا ہے، چنانچہ قانون نافذ کرنے والے سب ادارے حرکت میں آگئے. ائیرپورٹ آپریشن معطل ہو گیا. آنے جانے والی  سڑکیں بند کر دی گئیں. ائیرپورٹ کے پیچھے کی مشتبہ آبادی کو گھیرے  میں لیکر کڑی تلاشی شروع ہو گئی.  مگر چینلوں پر گویا ایک  بار پھر جشن بپا ہو گیا. شوں شاں چھک چھک ڈھم ڈھم کی آوازوں کے ساتھ ہر رنگ کی بریکنگ نیوز چلنے لگی. کسی نے زحمت نہیں کی کہ علاقے کے پولیس تھانے سے واقعے کی تفصیلات یا اسباب معلوم کرلے. شاید خطرہ یہ تھا کہ اگر کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا تو  کہیں  میڈیا کے رنگ میں بھنگ  نہ پڑ جائے:

 ائیرپورٹ پر ایک اور حملہ
ائیرپورٹ میں سیکورٹی فورس اور حملہ آوروں میں فائرنگ کا تبادلہ  جاری
حملہ آوروں کی تعداد چار ہے.ایک پکڑا گیا تین کی تلاش جاری
پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی
قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے نہایت چابکدستی سے حالات پر قابو پالیا.
صرف 24 گھنٹے میں ائیرپورٹ کے نواح میں ایسا واقعہ دوبارہ کیسے ہو گیا؟

ذرا  سوچئے..... وغیرہ وغیرہ.. کہانی یہ ہے کہ ایک لڑکا ایک لڑکی کو پیچھے بٹھائے موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک کسی نے موٹر سائیکل والے پر دو تین فائر داغ دیئے. ذاتی  دشمنی کے نتیجے میں یہ واقعہ اتفاقا ایسی جگہ ہوا جہاں ائیرپورٹ سیکورٹی فورس کا دفتر یا چوکی یا جو بھی کہہ لیں قریب تھے. مگر اس واردات کو آسمان پر چڑھانے والا کوئی بھی خبری اس واقعے کو زمین پر اتارنے اور ریکارڈ درست کرنے کیلئے اب تک تیار نہیں. بالکل اسی طرح جیسے اس معمولی واقعے سے 24 گھنٹے  پہلے ایک چینل نے جناح انٹرنیشنل کے غیر معمولی واقعے میں عمارتوں میں لگی آگ اور  دھوئیں سے گھرے طیاروں  کو پہلے گنا اور پھر پانچ طیارے تباہ کروا دیے. ایک اخبار نے مزید مستعدی دکھاتے ہوئے یہ تک بتادیا کہ ان میں سے ایک طیارہ پی آئی اے کا، ایک ائیر بلیو کا، ایک شائین کا اور دو روسی کارگو طیارے تھے. وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے پاس اپنی بریکنگ نیوز ہے جسکے مطابق تین طیارے زخمی ہوئے فوج اور رینجرز کے ذرائع صرف عمارتوں کی تباہی کی بات کر رہئے ہیں. ہاں اگر کوئی بات نہیں  کر رہا تو وہ یہ ہے کہ بھاری ہتھیاروں سے مسلح لوگ حفاظتی حصار توڑ کر رن وے تک کیسے پہنچے؟ کوئی سوال نہیں اٹھارہا کہ موجودہ حکومت نے جس طمطراق سے تمام متعلقہ اداروں کو ایسے مواقع پر یکجا کرنے کیلئے کاؤنٹر ٹیرزم اتھارٹی تخلیق کی ہے، وہ دور دور تک کیوں نظر نہیں آرہی. کس ادارے نے اس ابتلا سے نمٹنے میں اپنے اپنے طور پر کتنا کردار نبھایا، یہ واضح نہیں. اگر مقصود یہ ہے کہ اسے مشترکہ کاروائی ہی کہا جائے تو پھر صرف پاک فوج ہی زندہ باد کیوں، رینجرز  ائیرپورٹ سیکورٹی فورس اور پولیس زندباد کیوں نہیں؟ کوئی سوال نہیں اٹھا رہا کہ موجودہ حکومت نے جس  طمطراق سے تمام متعلقہ اداروں کو ایسے مواقع پر یکجا کرنے کیلئے کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی تخلیق کی ہے وہ دور دور تک کیوں نظر نہیں آرہی؟  کوئی نہیں بتا رہا کہ ہلکے ہتھیاروں سے مسلح ، پروفیشنل اور سرفروش حملہ آوروں کو صرف ایک علاقے تک محدود کرنے کیلئے  کیا قربانی دی؟ ( مرنے والوں میں سے 13 اے ایس ایف کے ارکان بتائے جاتے ہیں ). 

 آپریشن کے دوران میڈیا چینل واضح طور پر بٹ چکے تھے. کچھ مسلسل یہ لائن  لیے ہوئے تھے کہ آپریشن کی کمان ڈی جی رینجرز کر رہئے ہیں. 81 سالہ صوبائی وزیراعلیٰ قائم علی شاہ بھی ائیرپورٹ پر ہی تھے مگر یہ واضح نہیں کہ کیوں تھے .( کیا وہ بھی کمان کر رہئے تھے؟) یہ بھی پتہ نہیں لگ رہا  کہ کیا دس دہشت گردوں میں سے کسی ایک کو بھی کسی نے اس نیت سے زندہ حراست میں لینے کی کوشش کی کا پوچھ گچھ کے ذریعے منصوبے، نیٹ ورک اور اندر کے مددگاروں تک پہنچا جا سکے؟ اگر ایسا نہیں ہو سکا تو پھر یہ کیسے معلوم ہوا کہ دہشت گرد  کوئی طیارہ ہائی جیک کرنا چاہ رہئے تھے یا تمام طیاروں اور انفراسٹر کچر کو برباد کرنے کے مشن پر تھے؟ وغیرہ وغیرہ...

البتہ زیادہ تر ٹی وی ناظرین کو لگ رہا تھا جیسے آپریشن کی کمان چینلوں کے کیمرا مین کر رہئے اور دہشت  گردوں کی کمان بھی انہی کے ہاتھ میں ہے. تین چینل رپوٹروں کو فائر کے انداز و آواز سے ہی پتہ چل گیا کہ ہو نہ ہو  دہشتگرد بھارتی ہتھیاروں سے مسلح ہیں. ڈی جی رینجرز نے بھی ابتدا میں یہی کہا تاہم  بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا، مگر چینل اپنی زبان پر آخر تک قائم رہئے. میڈیا کی ان پیشہ وارانہ خدمات کا اعتراف فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ  نے آپریشن کی رات سوا  ایک بجے ہی ٹویٹر پر کر دیا تھا : ائیرپورٹ کے اندر کی  براہ راست کوریج بند ہونا چاہئے. اس سے نہ صرف آپریشن میں رکاوٹ پڑ رہی ہے بلکہ متاثرہ علاقے اور فوجیوں کی نقل و حرکت بھی طشت از بام ہونے سے دہشت گردوں کی مدد ہو رہی ہے. اچھا ہی ہے کہ اب تک حکومت نے ملک کے سب سے بڑے ائیرپورٹ کی اس طرح سے پامالی کے اسباب اور ذمہ داری کے تعین کی تحقیقات کیلئے کسی  حاضر یا ریٹائرڈ جج کو نامزد نہیں کیا. اس سے وقت اور اسٹیشنری کی خاصی بچت ہو گی.  پہلے ہی بیسیوں کمیشنوں کی  بیسیوں سفارشات کو دیمک کھا رہی ہے. ویسے بھی دہشت گرد  دماغ کی ورزش میں ریاست سے دو ہاتھ آگے ہی پائے گئے ہیں. کمیشن کس کس واردات کے  پیچھے ہانپے گا.

بھارتی فوج کا نامزد سربراہ قاتلوں ڈاکوؤں کا سر پرست




 ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ اور اب وفاقی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے فوج کے نامزد سربراہ پر  بے گناہوں کے قاتلوں اور ڈاکہ ڈالنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے. جنرل سنگھ اور نامزد سربراہ لیفٹنٹ جنرل  دلبیر سنگھ سوہاگ کے درمیان  اختلافات پرانے ہیں. جنرل سنگھ نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے  سے جنرل سوہاگ  کے خلاف تادیبی کاروائی کی تھی لیکن فوج کے موجودہ سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے عہدہ سنبھالنے کے چند ہی دنوں کے اندر یہ حکم  واپس لے لیا تھا. لیکن جنرل وی کے سنگھ کے بیان کے پس منظر میں پارلیمان میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا  کہ فوج کی تقرریوں کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہئے

 جہاں تک حکومت کا سوال ہے، جنرل سوہاگ کی تقرری حتمی ہے. یہ تنازع  فوج کے ایک انٹیلی جنس یونٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں ہے. الزام یہ تھا کہ دسمبر 2011 میں شمال مشرقی ریاست آسام کے جورہٹ علاقے میں اس یونٹ نے غیر قانونی کاروائیاں کی تھیں لیکن اس وقت کے کورکمانڈر جنرل سوہاگ نے اس یونٹ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی. تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے وقت جنرل سوہاگ چھٹی پر تھے اور قصوروار پائے جانے  والے فوجیوں کو سزا دی جا چکی ہے.

جنرل سوہاگ کو فوج کا نیا سربراہ نامزد کیے جانے  کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک  پٹیشن  دائر  کی گئی تھی جس میں یہ الزام  لگایا گیا  ہے کہ (کانگریس کی ) حکومت نے انکی تقرری میں " طرفداری " سے کام لیا ہے. یہ کیس سپریم کورٹ میں ہے. جہاں وزارت دفاع نے جنرل سوہاگ کی تقرری کے دفاع میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا جس میں جنرل وی کے سنگھ کی جانب سے تادیبی کاروائی کو " غیر ضروری اور غیر قانونی " بتایا گیا ہے. وزارت دفاع کے اس حلف نامے کے بعد کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل سنگھ یا تو خو مستعفی ہو جائیں یا انہیں برخاست کیا جائے کیونکہ حلف نامے میں انکےلئے جو زبان  استعمال کی گئی ہے اسکے  بعد انکے وزارتی کونسل  میں قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے. لیکن جنرل سنگھ نے فورن ہی ٹویٹر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:  " اگر یونٹ بے گناہوں کو قتل کرے، ڈکیتی ڈالے اور پھر  نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے؟ مجرموں کو آزاد گھومنا چاہئے ؟ جنرل سوہاگ 31 جولائی کو اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالیں گے.

بتایا جاتا ہے کہ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے حلف نامے میں استعمال  کی جانے والی زبان پر  وزارت دفاع کے افسران کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حلف نامہ کانگریس کی حکومت کے دوران بھی فوج کے ٹربیونل کے سامنے  داخل کیا گیا تھا. جنرل وی کے سنگھ نے بھی کہا کہ یہ وہی حلف نامہ ہے جو یو پی اے کی حکومت کے دوران فوج کے ٹریبونل کے سامنے داخل کیا گیا تھا، اسمیں نیا  کیا ہے؟

جنرل سنگھ، جواب شمال مشرقی ریاستوں اور  خارجہ امور کے وزیر ہیں، مئی 2012 میں ریٹائر ہو گئے تھے لیکن عہدہ چھوڑنے سے پہلے انہوں نے مشرقی کمان کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل سوہاگ کی تقرری روکنے کی کوشش کی تھی. اگر جنرل سوہاگ کو یہ عہدہ نہ ملتا تو وہ فوج کے سربراہ کی ڈور سے باہر ہو جاتے.

جنرل وی کے سنگھ اور کانگریس کی حکومت کے درمیان انکی تاریخ  پیدائش کے متعلق تنازعے پر تلخی اسقدر بڑھ گئی تھی کہ جنرل سنگھ نے فوج کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ سے  رجوع کیا تھا لیکن عدالت نے انکے  موقف سے اتفاق نہیں کیا تھا.

کیا فیصلے کا وقت اب بھی نہیں آیا؟

کراچی ائیرپورٹ پر حملے کا جواز طالبان نے یہ بتایا کہ حکیم اللہ محسود کو قتل کرنے کا بدلہ  لیا گیا ہے. حکیم اللہ محسود  کے جہنم رسید کرنے کی ذمہ داری تو امریکی ڈرون کی بم باری پرعائد ہوتی ہے. پاکستان کے لوگوں کا اس سے کیا تعلق بنتا ہے؟ اب میدان تیار ہو گیا ہے . کھلی جنگ دکھائی  دے رہی ہے. ایک طرف بیحد مضبوط ، طاقتور اور تربیت یافتہ مسلح افواج ہیں، دوسری طرف ایسا فریق ہے جسکے 10 ارکان کراچی کے ہوائی اڈے پر تقریباً 25 من وزنی بھاری راکٹ لانچر،85 نہایت وزنی بم کلانشنکوف، اور گولہ بارود لے جاتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب کوئی معمولی ٹکراؤ نہیں ہو گا




 کراچی ائیرپورٹ پر حملہ اور مختلف مقامات پر دہشتگردی کے واقعات کے بعد اب طالبان سے مذاکرات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اسلئے کہ کراچی ائیرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرکے طالبان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ خود کو منظم کر رہئے تھے مذاکرات محض وقت گزاری تھی اور سیز فائر کی آڑ میں وہ اپنی مذموم کاروائیوں کیلئے منصوبہ بندی کر رہے تھے.

 پاکستان اس  وقت دہشتگردی کے لحاظ سے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے. قومی سلامتی کو درپیش  خدشات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ اب حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے کسی بھی دوسری آپشن کو نظرانداز کرکے  صرف ان مٹھی بھر دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچنانا ہے. حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کرکے احسن اقدام اٹھایا ہے اسلئے کہ مذاکرات کے دوران  کالعدم تحریک طالبان جو رویہ اختیار کیے رکھا اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ حکومت کو اپنے دباؤ میں لانا چاہتے ہیں اور اپنی من مرضی کا امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں یہی وجہ تھی کہ طالبان کی سیاسی شوری نے دونوں اطراف کی کمیٹیوں کے کسی بھی فیصلے پر کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا اور مطالبات کی ایک لمبی فہرست ہر ملاقات کے بعد جاری کرتے کبھی اسلحہ کے زور پر  شریعت کے نفاذ کی بات کرتے اور کبھی خودکش حملہ کرنے والوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے لیکن امن کی طرف پیشرفت سے انہیں کوئی خاص غرض نہیں تھی. اس اثنا میں گاہے بگاہے مختلف جگہ پر اپنی کاروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے تھے ، خاص طور پر کراچی میں کالعدم طالبان مختلف علاقوں میں اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کرکے کراچی کے امن کو تباہ کرنے کی کوششیں کرتے رہئے.

 انکا  یہ دائرہ کار بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک پھیلا ہوا تھا. حکومت نے اس ضمن میں بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور کوشش کی کہ معاملہ بات چیت  کے ذریعے حل ہو جائے اور بندوق نہ اٹھانا پڑے لیکن طالبان کے رویے نے مجبور کر دیا کہ اب آخری آپشن آپریشن کی صورت میں استعمال کیا جائے.

کراچی ائیرپورٹ پر حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار کو شدید دھچکا لگا ہے. اب وقت آگیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری اس جنگ کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچایا جا سکے. پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ فوج ہی اس ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار احسن انداز سے ادا کر سکتی ہے اسلئے سول اور فوجی قیادت کا شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ بروقت بھی ہے اور حالات کے مطابق بھی.طالبان کو بھی اس امر کا احساس ہوجانا چاہئے کہ حکومت کی طرف سے انکو جتنی چھوٹ اور سہولیات مہیا کی گئیں انہوں نے اسکا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا یوں لگتا ہے کہ وہ باتوں سے ماننے والے نہیں بلکہ انکے خلاف بھرپور فوجی کاروائی ہی انکو راہ راست پر لاسکتی ہے. امید ہے کہ پاک فوج اپنی تمام تر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ان طالبان کو ایسا سبق سکھائے  گی کہ وہ ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کو ترجیح دیں گے.

پوری قوم کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسلام کے مقدس نام پر دہشتگردی کرنے والوں معصوم اور بے گناہ لوگوں کا خوں بہانے والوں فوجی جوانوں اور افسروں کو شہید کرنے والوں کے خلاف بے رحمانہ کاروائی کی جائے. مذاکرات کے نام پر مذاق رات بند کیا جائے اور جو سیاسی اور مذہبی جماعتیں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتی ہیں یا ان دہشت گردوں کی ترجمانی کرتی ہیں انکو بھی دوٹوک  جواب دیا جائے کہ بہت ہو چکا اب ان سیاسی  جماعتوں کو بھی اب قوم کو بتانا ہو گا کہ وہ دہشتگردوں کے ساتھ  ہیں یا ملک و قوم کے ساتھ، کیونکہ ان دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی واسطہ ہے نہ شریعت سے کوئی تعلق انکا مقصد صرف اور صرف ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانا اور مذہب کے نام پر بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرنا ہے 

___________________________________________________________


پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

بدھ، 11 جون، 2014

کراچی جل رہا ہے








ہے ہر سو موت کا موسم کراچی جل رہا ہے
ہاں بے حس ہو گئے ہیں ہم کراچی جل رہا ہے

اجڑ جائے اجڑتی ہے جو بستی
حکومت بس رہے قائم کراچی جل رہا ہے

لہو آنکھوں سے رستا ہے ہماری
یہاں سینہ زنی پیہم کراچی جل رہا ہے
 

لحد ہے مضطرب قائد کی میرے
ہے کب سے رو رہا پرچم کراچی جل رہا ہے

خدا کے نام پر ہے قتل انساں
ہوا رسوا بنی آدم کراچی جل رہا ہے

کھلے پھرتے ہیں قاتل ملک بھر میں
ہوا کا رک رہا ہے دم کراچی جل رہا ہے

غضب ہے لوگ بھی سوئے ہوئے ہیں
کوئی ہوتا نہیں برہم کراچی جل رہا ہے

بتاؤ کب تلک لاشے اٹھائیں
کریں اب کب تلک ماتم کراچی جل رہا ہے

خدایا کیا کوئی آ کر ہمارے
رکھے گا زخم پر مرہم کراچی جل رہا ہے

یہ طوق اقتدار چند روزہ ایک لعنت
ہیں صفدر حکمراں بے غم کراچی جل رہا ہے


 _______________________________________________________________________


شاعر۔ صفدر ھمٰدانی

 پیشکش ۔ عالمی اخبار

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

کراچی ائیرپورٹ پر حملے کا سبق

 ابھی کراچی کے اولڈ ٹرمینل پر حملے کے بعد کا سوگ مکمل نہیں ہوا تھا  کہ دوسری بار حملے کا شور مچ گیا. گوکہ تمام سرکاری ادارے اسے " حملہ " قرار دینے سے گریز کر رہے تھے، لیکن اے ایس ایف کی جوابی کاروائی کے دوران بے جا مسلسل فائرنگ سے حملے کے تاثر کو تقویت ملی. طالبان نے خوف پھیلانے کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے تو دوسری جانب خیبر ایجنسی میں پاک فضائیہ نے دہشت گردوں کی کمیں گاہوں کو نشانہ بنایا ہے. محفوظ سمجھا جانیوالا کولڈ اسٹوریج کا  مقام ہی 7 افراد کیلئے موت کی جگہ ثابت ہوا. ہر پاکستانی غمزدہ ہے. دہشت گردوں کیخلاف آپریشن پر سیاسی و عسکری قیادت کا اتفاق خوش ائند ہے.




سبھی کے سبھی منافقت بھری ٹوکریوں کو سروں پر اٹھائے پھر رہے ہیں. یہاں کیا مسائل حل ہوں گے کہ اس گھر کو آگ لگی اسی گھر کے چراغ سے، ایسی کی تیسی ان دہشتگردوں کی، ذرا آنکھوں میں  آنکھیں ڈال کر بتاو، کہ کراچی ائیرپورٹ پر ان دہشتگردوں کو کس نے گھسایا، کس کی شہ پر وہ وہاں داخل ہوئے، وہ آسمان سے اترے یا زمین سے اگ آئے. ایسے ہی دوچار غیر متعلقہ لوگوں کو پکڑ دھکڑ کر تفتیش کا مقصد؟

جو مقصد صاف نظر آتا ہے وہ بہت خطرناک ہے. افغانستان  میں روسی مداخلت سے بھی زیادہ خطرناک. حکومت میں اگر جرات اور نیک نیتی ہوتی تو اب تک سبق سکھا چکی ہوتی. استاد اقبال فرماتے ہیں کہ جبتک  لاللچی زندہ ہیں تب تک دھوکے بازوں کا روزگار قائم ہے. جمہوری ریاستوں کو عرب بادشاہوں میں تبدیل کرنا کبھی بھی ممکن نہیں ہے، لیکن خواب دیکھنے والوں کو کون سمجھائے. کرنل قذافی، رضا شاہ پہلوی اور صدام حسین وقت آخر تک خوابوں کے حصار سے نہ نکل سکے اور مارے گئے. نجیب الله  بھی یہی سمجھتا تھا کہ طالبان اسکے بغیر حکومت نہیں چلا سکیں گے. کیا پاکستان میں کوئی حکومت چل رہی ہے؟ کوئی نظام ہے؟ انسان کی تاریخ پڑھو، دس ہزار سال پہلے بھی تو انسان تھا، پتھر کے زمانے کا انسان یاد کرو، نہ رشتے نہ ناتے، نہ ماں، نہ بیٹی، نہ تہذیب، نہ اخلاق، نہ قانون نہ قانونی تقاضے جسکے ہاتھ میں پتھر آیا اور جب موقع ملا اس نے دوسرے کو مار دیا تاریخ بتاتی ہے کہ انسانوں نے انسانوں کا گوشت کھایا اور پھر بھی انسان زندہ ہے، نسل کشی کی اور آج کے اس جدید دور میںبھی سات ارب کی آبادی ہے. یہ نہیں کہ خوراک، بجلی یا پانی نہ ہونے سے، صنعت و حرفت ختم ہو جانے سے اور زراعت کے ختم ہو جانے یا آبادی کے خوراک کے مقابلے میں بڑھ جانے سے انسان ختم ہو جاتا ہے. انسان زندہ رہتا ہے لیکن ذلت آمیز اور تکلیف دہ حالات میں زندہ رہتا ہے.


 آج کا اصل مسئلہ زندگی کے ادراک کا ہے. پاکستان کے اکثریتی عوام یہ کہتے ہیں کہ  کرم ہے اور شکر ہے کہ پاکستان  پھر بھی قائم ہے. اس ایک جملے سے صورت حال، مستقبل اور تعمیر و ترقی کا اندازہ کر لیا جانا چاہئے لیکن موضوع دگر ہے کہ یہ طالبان، دہشتگرد یا یہ مائنڈ سیٹ جسے بنانے میں اسٹیبلشمنٹ نے 40 سے 50 سال لگائے اور جسے ختم کرنے ، میں اسٹیبلشمنٹ اس وقت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے بالکل اسی طرح اسٹیبلشمنٹ بھی پھنسی ہوئی ہے. وزیراعظم، حکومت اور حکمرانی کے معاملے میں ابہام کا شکار دکھائی دیتے ہیں. لہذا یہ مذاکرات جس طرح اپنے منطقی انجام کو پہنچے ہیں یہی انکا مقصد تھا  اور اس پر تقریباً سبھی اہل دانش نے یہی رائے دی تھی کہ ان مذاکرات کا یہی انجام ہو گا

طالبان کے تمام مطالبے مان لیے جایئں اور انہیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں حکومت بھی دے دی جائے تو یہ قتل و غارت گری نہیں روکیں گے بلکہ یہ ریاستی سطح پر بڑھ جائے گی. فرقہ واریت کے حوالے سے خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، آخر وہ کام جس کا ایک  ہی انجام اور ایک ہی حل ہے اسکے حوالے سے بھی اگر اسٹیبلشمنٹ ہے سول حکومت آپس میں گیم کر رہے ہیں تو خود فریبی میں مبتلا ہیں. جڑی بوٹیوں کو محض تراشا نہیں جاتا تلف کیا جاتا ہے. وزیراعظم کی طرف سے یہ بیان کہ طالبان کو انکی زبان میں جواب دیا جائے گا، عملی شکل میں سامنے کیوں نہیں آیا؟ دکھ اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ کسی میں اتنی جرات نہیں کہ سچی بات کھل کر سر عام کہہ دے جو وہ جانتا ہے.
_______________________________________________________________

 ڈاکٹر افتخار حسین بخاری

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

منگل، 10 جون، 2014

حق پرستی کا بے مثال سفر

آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس پورے پاکستان سمیت کئی ممالک میں روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جا رہا ہے اس دن ملک قوم کی ترقی اور استحکام کیلئے نہ صرف دعائیں کی جاتی ہیں بلکہ تجدید عہد وفا بھی کیا جاتا ہے  یہ عہد اپنے قائد جناب الطاف حسین کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور اپنی قوم اور ملک کے ساتھ بھی ہوتا ہے، اے پی ایم ایس او بلاشبہ ملک و قوم کے معماروں کی بہترین نرسری اور درسگاہ ہے اور جناب الطاف حسین انکے ٹیچر اور لیڈر ہیں





11 جون 1978 بلاشبہ ایک تاریخ ساز دن ہے، اس دن جامعہ کراچی کے طالبعلم الطاف حسین نے مہاجر طلباء کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کے جواب میں ایک طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی، اس وقت جامعہ کراچی میں اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنان کھلے عام اسلحہ لیکر غنڈہ گردی کرتے تھے، انہوں نے طلبہ و طالبات کا جینا دو بھر کیا ہوا تھا لیکن جمیعت کے تھنڈر اسکواڈ کی وجہ سے کسی کو بولنے کی جرات نہیں ہوتی تھی، ایسے میں واحد حل اس نوجوان الطاف حسین نے نکالا کہ طلباء کو جمیعت کے عتاب سے بچانے کیلئے طلبہ و طالبات کو ایک جگہ جمع کیا جائے، جب یونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن قائم کی گئی اس وقت سندھی، پنجابی، ہزارہ، گلگتی، بلوچ اور پختون قومیتوں کے نام پر یونیورسٹی میں طلباء تنظیمیں قائم تھیں، لیکن اے پی ایم ایس او وہ واحد تنظیم تھی جدھر طالبعلم کھنچے چلے آرہے تھے.

اے پی ایم ایس او کا قیام شدید ردعمل کا نتیجہ تھا، ان  نا محرومیوں کا، نا انصافیوں کا اور ظلم کا جو بانیان وطن کی اولادوں پر کیا گیا، اے پی ایم ایس او جاگیردارنہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف ایک جرات مندانہ قدم تھا، جس میں الطاف حسین کے ساتھیوں نے انکے فکر و فلسفے کا ساتھ دیا.

آزادی کے باوجود ہم اب بھی ذہنی مفلوج اور محکوم تھے، صرف چہرے تبدیل ہوئے تھے، نظام نہیں بدلا، اس وقت ملک کو ایک انقلابی سوچ کا انتظار تھا، جو الطاف حسین نے عطا کی، اس وقت ضرورت اس امر کی تھی کہ فرسودہ نظام سے بغاوت  کرکے ایک منظم اور مثبت سیاست کا آغاز کیا جائے، اس کام کا بیڑا جناب الطاف حسین نے اپنے ناتواں کاندھوں پر بخوبی نبھایا ہے،   25  سال کے ایک مجاہد صفت انسان نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی، 25 سال کا نوجوان صرف چمک دمک کا اسیر ہوتا ہے، مگر الطاف حسین جیسے مسیحا نے لوگوں کے درد کو محسوس کیا اور انکو زندگی سے متعارف کروایا.

الطاف حسین ایک عظیم مدبر اور مفکر ہیں، جنکی زندگی کا فکر و فلسفہ " زندگی کا مقصد دوسروں کی " ہے، ایک  ایسا معاشرہ جہاں ہر طرف افراتفری کا بازار گرم ہو وہاں پر الطاف حسین جیسے عظیم رہنما کا ہونا ہمارے لیئے  رحمت ہے، حق پرستی کی پاداش میں قائد تحریک کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا، آپکو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا، کوڑوں کی سزا سنائی گئی، انکو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر ناقابل بیان صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، ایم کیو ایم کے ہر کارکن کو سچ کی بڑی کڑی سزا بھگتنی پڑی.

1992 میں کراچی  شہر  میں بدترین ریاستی آپریشن کیا گیا، بقول حکومت وقت یہ آپریشن سیاسی میدان اور ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ہے، مگر تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے کتنے بھائیوں کو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے پڑے، سنگدل سیکورٹی اہلکاروں نے حاکم وقت کے اشاروں پر ایم کیو ایم کے معصوم اور نہتے کارکنان کو چن چن کر شہید کیا، کتنے بیٹوں کو ماؤں سے بچوں سے انکے باپ کو جدا کر دیا گیا، اب بھی ایم کیو ایم کے کتنے  کارکنان ایسے ہیں، جن کا ابتک  کوئی پتہ نہیں ہے کہ زندہ  ہیں یا انکو  شہید کر دیا گیا، ہنستے بستے شہر کو درندہ صفت انسانوں نے غم کی آگ میں جھونک دیا، جیتے جاگتے شہر کو تاریکی میں دھکیل دیا، لوگ اپنے گھروں سے باہر جانے میں خوف کھانے لگے، لوگ اپنے گھروں میں محصور زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے.
مگر ایم کیو ایم ان تمام چیرا دستیوں کے باوجود ایسی جماعت نہ تھی ، جو ظلم کے اگے  جھکتی یا چند سکوں کے عوض اپنے ضمیر کو بیچ دیتی، ایم کیو ایم نے حق گوئی اور حق پرستی کی راہ کو اپنے لہو کے چراغ جلا کر روشن کیا ہے، مگر جابر کے سامنے گردن نہ جھکائی، اس جماعت نے جتنے بھی الیکشن میں حصہ لیا، ایم کیو ایم نے بے نظیر کامیابی حاصل کی اور اس نے ثابت کر دیا کا باطل کی کالی رات چھٹ چکی ہے اور حق آخرکار ہمیشہ رہنے والا ہے، حق کی راہ پر چلنے والے کبھی متزلزل  نہیں ہوتے ہیں، الله ہمیشہ ان لوگوں  کا ساتھ دیتا ہے جو مظلومیت کا ساتھ دیتے ہیں، الحمدوللہ آج ایم کیو ایم کا شمار پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے، بدترین ریاستی آپریشن کے باوجود بھی ایم کیو ایم کو کچلا نہیں جا سکا، رب کے فضل و کرم سے جس وقت بلدیاتی الیکشن کا آغاز ہوا، اسمیں ایم کیو ایم کو بے مثال کامیابی نصیب ہوئی، الطاف حسین نے ناظم اور نائب ناظم کے چناؤ میں اپنے جرات مند کارکنان کا انتخاب کیا.

آج اے پی ایم ایس او کے جنم دن کے موقع پر ہم دل کی گہرائیوں سے جناب الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او کے تمام ذمہ داران اور عہداران کو مبارکباد دیتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ الله تعالی الطاف حسین کو درازی عمر اور صحت کاملہ عطا فرمائے اور انکا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پر سلامت رکھے. آمین
___________________________________________________________-

 شہلا شفیق

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

غفلت ہمیں کہاں لے جائے گی؟



 ہم لوگ عجیب غفلت کا شکار ہیں حالانکہ ہم ایسی ان دیکھی جنگ کا مسلسل شکار ہیں جس میں دہشت گردی کی جاتی ہے. دہشت گردوں کا ہدف ہمیں جسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہماری اہم تنصیبات کو تباه کرنا ہوتا ہے.


 ایک بارپھر ہماری سیکورٹی کے ڈھول کا پول کھل گیا. کراچی ہوائی اڈہ دہشت گردی کا  نشانہ بنا، ایئر فورس سیکورٹی کے جوانوں سمیت پی آئی اے کے ملازمین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے. دہشت گردوں کو تو مرنا ہی تھا. پانچ جہنم رسید ہوئے. پی آئی اے کے جہازوں کو نقصان پہنچا، جہاز میں موجود مسافروں کو پوری رات شدید کرب میں گزارنا پڑی. انہیں پینے کا پانی تک نہیں مل سکا.

ایئرپورٹ جیسے اہم تریں مقام پر دہشت گردوں کا حملہ اس قدر تیز رفتار تھا کہ پہلے مرحلے پر ہی اے ایس ایف کے تین اہلکار مار دیئے گئے تھے. جہازوں کو کھڑا کرنے والے ایک ہینگر میں کھڑے ایک جہاز کو بھسم کر دیا گیا. ایئر پورٹ پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی گئی تھیں. کچھ پروازوں کو واپس کیا گیا اور بعض کو دوسرے شہروں کے ایئر پورٹوں پر اتارا گیا. حیدرآباد ایئر پورٹ تو اس قابل ہی نہیں تھا کہ کسی جہاز کے اترنے کا بندوبست ہو پاتا. نواب شاہ میں انتظامات ادھورے تھے. ایئر پورٹس کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے  کیلئے تیار  ہی نہیں تھے.

 ہم لوگ عجیب غفلت کا شکار ہیں حالانکہ ہم ایسی ان دیکھی جنگ کا مسلسل شکار ہیں جس میں دہشت گردی کی جاتی ہے. دہشت گردوں کا ہدف ہمیں جسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہماری اہم تنصیبات کو تباه کرنا ہوتا ہے.

انہیں اسسے کوئی سروکار نہیں کہ نتائج کیا نکلیں گے اور خمیازہ کسے بھگتنا پڑے گا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ملک خود کئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہے لیکن ملک کے معاملات چلانے والے اہم تریں ذمہ دار افراد ہر موقع پر ناکامی کی تصویر بن جاتے ہیں کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردی کے بعد ایک بار پھر لازمی ہو گیا ہے کہ حکومت اور وزارت داخلہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اپنے تمام اقدامات کا بھر پور جائزہ لے.

 حکام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی کاروائی کے بعد بیانات کے پردے میں منہ چھپا لیتے ہیں  اور کاغذی خانہ پری کی کاروائی کرکے دہشت گردی کے واقعہ کو داخل دفتر کر دیتے ہیں. کئی اور ملک ہوتا تو شائد اسطرح  غفلت سے ہمکنار نہیں ہوتا جس سے پاکستان دوچار ہے اور غفلت کے ذمہ دار لوگوں کو فارغ کر دیا جاتا.

 ایک درجن دہشت گرد زمینی راستوں سے اتنی بڑی تعداد میں ہتھیار کے ساتھ کراچی میں داخل ہوئے ہوں گے . اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے راستے خالی  تھے، کہیں کوئی نگرانی کرنے والا موجود نہیں تھا. اور جو لوگ یعنی پولیس کو جو چھوٹے اہل کار موجود بھی ہوتے ہیں وہ اپنی ڈیوٹی  کی طوالت کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں. چند روپے کے عیوض یہ لوگ ہاتھی بھی لے جانے دیتے ہیں.

جب دہشت گرد کراچی میں داخل ہو رہے تھے تو کراچی میں داخل ہونے والے مقامات پر بھی انہیں کسی نے روکا اور ٹوکا نہیں. ان مقامات پر رینجرز موجود ہوتی ہے. ضروری نہیں کہ وہ کراچی میں اتوار کے روز ہی داخل ہوئے ہوں، انکی کراچی آمد اور موجودگی کی مخبری نہیں ہو سکی، وہ اس علاقے میں پہنچ گئے جو چھاؤنی کا علاقہ ہے. یہ لوگ پیدل نہیں آئے ہوں گے، انھوں نے گاڑیاں حاصل کی ہوں گی، کسی  گاڑی والے نے پولیس کو مطلع کرنے کی زحمت ہی نہیں کی. دہشت گردوں نے ائیرپورٹ تک رسائی حاصل کر لی، یہ لوگ خالی ہاتھ نہیں تھے یا کوئی ماچس کی ڈبیا انکے پاس نہیں تھی بلکہ ہتھیاروں کی بڑی بھاری کھیپ تھی جو کسی کو نظر نہیں آئی. انکے سامان کی کہیں کسی نے تلاشی نہیں لی، جگہ جگہ غفلت برتی گئی، تمام دہشت گردوں کی بظاہر شناخت ایسی تھی کہ دوران سفر ہی انسے کہیں کوئی پوچھ گچھ کر لیتا، پھر یہ لوگ ائیرپورٹ جیسے حساس علاقے میں داخل ہوے، کہیں کہیں تو کسی کی غفلت یا پھر کسی اور وجہ سے دہشت گرد ائیرپورٹ میں داخل ہونے میں کامیاب رہے.

یہ کہنا کہ وہ اے ایس ایف  کی وردی میں ملبوس تھے، ایک ایسی بے تکی تاویل  ہے  جسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا. کیا کوئی   آدمی اے ایس ایف ہو یا فوج ہو یا پولیس ہو یا رینجرز کی وردی  پہن کر کسی بھی حساس علاقے میں داخل ہونے کی اگر صلاحیت رکھتا ہے تو پھر ان اداروں کو کوئی ایسی حکمت عملی واضح کرنا چاہئے تاکہ ہر وردی والے سے بھی شناخت تو معلوم کی جائے، عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے.ائرپورٹس پر وردی پہنے ہوئے اے ایس ایف والوں کی جسمانی تلاشی لی جاتی ہے اور پھر انہیں رن وے پر جانے کی اجازت ملتی ہے. ان لوگوں کے بارے میں یہ چوک کہاں  اور کیوں ہوئی.

جب دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں مصروف تھے تو پولیس کی مدد طلب کی گئی، جواب ملا کہ تھانے پر پولیس موجود نہیں ہے. پولیس کمانڈو  کے بارے میں بتایا  گیا کہ وہ نام نہاد اہم شخصیات کی پروٹوکول ڈیوٹی پر ہیں. جب وزیراعظم اور فوج کے سربراہ نے صورت حال کا نوٹس لیا تو گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، اور دیگر اہم  شخصیات  ائیرپورٹ  پہنچنا شروع ہو گئیں، کیا ایسے وقت میں جب ہنگامی صورت حال ہو  ان افراد کو ائیرپورٹ پر جانا چاہئے تھا. یقینا نہیں. ہمارے ان حکمرانوں کو ہر جگہ پروٹوکول چاہئے ہوتا ہے جسکی وجہ سے کاروائیوں میں شدید  مداخلت ہوتی ہے. کورکمانڈر، رینجرز کے سربراہ، پولیس کے سربراہ سب ہی ائیرپورٹ پہنچ گئے. کیوں؟ کیا یہ لوگ اپنے اپنے دفاتر سے دہشت گردی سے نمٹنے کی کاروائی کا جائزہ نہیں لے سکتے تھے. کیا ان حضرات کو اپنے ماتحت افسران کی صلاحیتوں پر شک تھا. کیا فوج سمیت کسی ادارے یعنی پولیس، رینجرز کے پاس کوئی ایسا منصوبہ جسے فوجی کانٹی جنسی پلان کہتے ہیں، موجود ہے کہ کسی صورت حال کو سامنا کسطرح کیا جائے گا. کراچی ائیرپورٹ پر جو کچھ ہوا اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کے کیسے کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے. اس  بات سے یہ بھی عیاں ہو گیا کہ وفاقی وزارت داخلہ آج تک ایسے اصول اور ضابطے تیار نہیں کر سکی ہے جو ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کیلئے ضروری ہوتے ہیں. کسی بھی ایک فورس کو کمانڈ کرنا ہوتا ہے.

ایک ہی وقت میں ایمبولنس، ڈاکٹر، مقابلے کرنے والے اہلکار، ہتھیار، رضاکاروں  اور دیگر ضروری اشیاء کا انتظام کیا جاتا ہے. جسکے لئے ذمہ داریوں کو تقسیم کیا جاتا ہے. تمام لوگ ایک ہی کام میں نہیں جت جاتے ہیں. جب کوئی ضابطہ ہی نہیں ہوگا تو کسی کو کیا علم کہ اسے کیا کرنا ہے. اے ایس ایف  ہو یا ائیرپورٹ پر موجود دیگر اہلکار انہیں اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکیں. وہ اس صلاحیت سے کیوں محروم پائے گئے. انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور دہشت گرد ادھر ادھر دندناتے پھرے. پاکستان میں دہشت گردی نہتو نئی کاروائی ہے اور نہ ہی آخری. حکام کا یہ کہنا کہ دہشت گردوں سے جو ہتھیار  برآمد ہوئے ہیں وہ بھارتی ساخت کے ہیں، اپنی ناکامی کا برملا اعتراف ہے. پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی میں بھارت سر فہرست ملوث ہے. بلوچستان میں جو بھی کاروائیاں ہو رہی ہیں اسکے پس پشت بھارت ہے. سندھ بلوچستان سرحد پر رینجرز جو جس صورت  حال کا سامنا ہے وہ عام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے.


بھارت پاکستان میں ایک خلفشار پیدا کر دینا چاہتا ہے جسے سلجھانا کسی بھی حکومت کی قوت میں نہ رہے. ایسی صورت میں کیا ہمیں ہاتھ پر ہاتھ دھرنے تماشہ دیکھنا چاہئے یا پھر اپنے عوام، اپنے نوجوانوں کی تربیت کا انتظام کرنا چاہئے . لوگوں کی  انکے ملک اور حالات سے لاتعلقی سب کیلئے ہی خودکشی ہے.  اپنے اداروں اور ان میں موجود ملازمین کی کارکردگی کا برکی سے جائزہ لینا چاہئے. جن لوگوں سے اپنے فرائض ادا نہیں ہو پاتے انہیں فارغ کیا جانا چاہئے. سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزراے داخلہ کی بھی تربیت  کی جانی چاہئے کہ انہیں  ملک کا اہم ترین محکمہ کسطرح چلانا ہے
 __________________________________________________________-

 علی حسن

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

پیر، 9 جون، 2014

فطرت کا تقاضا

 اپنے تیور  تو سنبھا لو  کہیں کوئی یہ نہ کہئے
رت بدلتی  ہے تو لہجے  بھی بدل  جاتے   ہیں



 یہ  شعر ایم کیو ایم کے موجودہ حالات کے حوالہ سے بعض اینکر پرسنز، صحافیوں اور دانشوروں کے موجودہ طرز عمل، غیر  پیشہ وارانہ انداز گفتگو اور ایم کیو ایم سے انکی نفرتوں کے انداز پر پورا اترتا ہے،   ایم کیو ایم پر آزمائش کا مرحلہ آتے ہی صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض دوستوں کے لب و لہجے ، انداز تخاطب اور تیوریوں پر پڑے بل دیکھ کر مذکورہ  شعر  تحت الشعور سے شعور میں آگیا، خامیاں اور خوبیاں انسانی فطرت کا حصہ ہوتی ہیں اور فطرت کا تقاضا ہے کہ فطرت کا اظہار کیا جائے لیکن بعض یاران چمن آج بھی یہ سمجھ رہئے ہیں کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو سانپوں کی فطرت کا اندازہ نہیں ہے، حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ڈسنا، پلٹنا اور پلٹ کر وار کرنا سانپوں کی فطرت ہے اور یہ فطرت سنپولوں اور سنپولیوں میں بھی بقدر جثہ موجود ہوتی ہے

ایک وقت تھا جب مفادات کے غلام.... خواھشات کے اسیر... نام و نمود  کے شیدائی... ٹی آر پی میں اضافے کے تمنائی... اور ابن الوقت قسم کے بعض صحافی، دانشور، کالم نگار اور اینکر پرسنز قائد تحریک جناب  الطاف حسین سے بات کرنا، ان سے  انٹرویو کی خواہش کرنا، ملاقات کرنا اور انکے ہمراہ فوٹو بنوانا اپنے لیئے فخر تصور کیا کرتے تھے، یہ معزز و محترم حضرات اور آزادی صحافت کے علمبردار ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کی منفرد سیاسی جدوجہد،  فکر و فلسفہ اور اس جدوجہد کی راہ میں انگنت قربانیوں کا تذکرہ کرتے  نہیں تھکتے تھے، فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف  حقیقت و عملیت پسندی  کے فکر و فلسفہ اور پاکستان  کی روایتی سیاسی تاریخ میں پہلی بار غریب و متوسط طبقہ کی قیادت کو، وطن عزیز کے ہر مسئلہ کے حل کیلئے کامیاب ترین نسخہ قرار دیا کرتے تھے.... ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیا کرتے تھے اور بعض اینکر پرسنز تو ایسے بھی ہیں جو جناب الطاف حسین سے خود ساختہ دوستی کا بھی دعویٰ کیا کرتے تھے، یہی نہیں بلکہ بیشتر صحافی، کالم نگار، دانشور اور اینکر پرسنز نہ صرف خود جناب الطاف حسین سے بات کرنا پسند کرتے تھے بلکہ انکی قربت وشفقت کے حصول کیلئے اپنے بیوی بچوں سے  بھی گفتگو کرانا پسند کیا کرتے تھے،  بزرگوں نے کہا ہے کہ آپ کا بہترین دوست وہ ہے جو خوشامد اور چا پلوسی کے بجائے آپکی غلطیوں کی  نشاندھی کرے، یہ عمل اس وقت زیادہ مستحسن ہوتا ہے جب کوئی صاحب منصب ہو، مقام عروج پر ہو اور جسکے اطراف جی حضوری کرنے والوں کی  فوج ظفر موج ہو، ان حالات میں اصلاح احوال کی کوشش کرنا اور کسی کی غلطی کی نشاندہی کرنے والا ہی بہترین دوست ہوتا ہے،  لیکن موافق حالات میں تعریف کرنا، تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا اور رت بدلتے ہی طوطا چشمی، مفاد پرستی اور موقع پرستی کا  مظاہرہ کرنے والے کسی کے کجا اپنے بھی دوست نہیں ہوتے اور ایسے عناصر کو دوست  تصور کرنے والوں کو کسی دشمن  کی ضرورت  باقی نہیں  رہتی ، بدلتی  رت کے محض اثار  دیکھ کر ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین سے دوستی کا دم بھرنے والے ان دوستوں نے جس تیزی سے  کینچلی بدل کر اپنی فطرت کا اظہار کیا ہے اسنے گرگٹ اور سانپ جیسی الله تعالی کی مخلوق کو بھی مات دیدی. یہ معزز حضرات پیشہ ور صحافی ہیں، پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی انکی ذمہ داری میں شامل ہیں لیکن مچھے تو ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کے خلاف انکے چہرے کے تیور ، الفاظ کا استعمال اور دلوں میں پوشیدہ نفرت و عصبیت پر حیرت ہوتی ہے اور حضرت ناطق یاد آجاتے ہیں کہ.....

ہائے کس کس پہ بھروسہ کیجئے ناطق!!!!!!!
کل مرے سائے کے دامن سے بھی خنجر نکلا

 
برطانیہ میں ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کی رہائش  گاہ پر برطانوی پولیس کے چھاپے کی خبریں کیا شائع یا نشر ہوئیں گویا بعض دوستوں کی مراد بر آئ... خوشامد پسند حضرات کا ضمیر اچانک جاگ گیا اور وہ  الطاف حسین اور ایم کیو ایم دشمنی میں متحد ہو گئے، کسی کے منہ سے چھاگ نکلنے لگے، کوئی فرط مسرت سے بات کرنے کے قابل نہ رہا، کسی کو منافقت کی آخری حدود کو چھونے کی تمنا  تھی اور کوئی ہر قیمت پر ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کے خلاف تعصب، نفرت اور عصبیت دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا، آزادی صحافت کے علمبردار زمینی خدا بن کر فیصلے دینے لگ گئے، جھوٹ، مکر و فریب  اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر جھوٹ کی عمارت تعمیر کرنے میں لگ گئے... کوئی بخار میں مبتلا نیولا بن گیا تو کوئی کوبرا ناگ.... کسی نے حرام جانور کا طرز عمل اپنایا تو کسی دوست نے روایتی طوطے کی ادا اپنائی.... کوئی بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والا آداب دشمنی اور بڑ کپن کے  تقاضے بھلا بیٹھا تو کسی کی  نگاہوں میں جگنوں کی روشنی کے بجائے شعلے لپکنے لگے، کہیں افغانستان کے امور پر دسترس رکھنے والا شکوہ کرنے لگا تو کہیں بدکاری اور حرام کاری میں پی ایچ ڈی، حکیم لقمان کے نسخے بیان کرنے لگا، غرض جسکو جتنا مال، ڈھال، کمال اور موقع ملا ان ابن الوقت قسم کے لوگوں نے حسب توفیق ایم کیو ایم کے خلاف اپنی نفرت کا کھل کر مظاہرہ کیا... ایم کیو ایم پر بے بنیاد، جھوٹے اور لغو الزامات عائد کیئے ... ایم کیو ایم کی قیادت کے مستقبل کے حوالہ سے اپنی دلی خواہشات کا اظہار کیا لیکن یہ بهول بیٹھے کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اور جھوٹ صرف جھوٹ ہے آغاز سے انجام تلک.

انہیں یہ بھی خیال نہیں رہا کہ اگر کل حالات ایم کیو ایم اور جناب الطاف حسین کے حق میں ہو گئے تو پھر کیا ہوگا.. بقول شاعر
 تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں، تم ہنس رہے ہو، میں مسکرایا تو کیا کرو گے
  حسینیت کے ماننے والے کرب و بلا کی آزمائش سے گزرتے ہیں، صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مخالفین  کی باتیں اور ظلم سہنے کے باوجود حق کی تلقین کا عمل جاری رکھتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ فتح بالآخر حق پرستوں کا مقدر ہو گی، حق پرستی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، ہمیں الله تعالی کی ذات پر کامل یقین ہے کہ انشاءاللہ آج نہیں تو کل، ہم بھی مسکرائیں گے.

  جناب الطاف حسین  کے پیروکار ہم تمام کارکنان پر لازم ہے کہ وہ سانپ، نیولے، گرگٹ، طوطے اور دیگر چرند پرند کی خصوصیات رکھنے والے خواتین و حضرات کے سیاہ کارنامے، نفرتوں سے بھرے لہجے، غلاظتوں سے بھری باتیں اور تعصب زدہ چہروں کو یاد رکھیں یا نہ رکھیں.... کم از کم ایسے مخلص، ایماندار اور دیانتدار صحافیوں، کالم نگاروں، دانشوروں اور اینکر پرسنز کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں جو  اپنے ظرف و ضمیر کا سودا کرنے اور زبان و قلم کی حرمت کو داغدار دیکھنا ہرگز نہیں کرتے.
 _______________________________________________________________

قاسم علی رضا

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

قیادت کی خوبیاں

قائد تحریک الطاف حسین وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہر طرح سے عام عوام کی خدمت کی چاہئے وہ علمی خدمت ہو یا معاشی و معاشرتی یہ الطاف حسین ہی ہیں جنہوں نے خدمت خلق کو اپنی زندگی کا فرض اولین بنایا، تعلیم کو عام کرنے میں آپکی خدمات قابل تعریف ہیں.

 

آزاد وطن ایک ایسی آزاد ریاست  حاصل کی جائے جہاں ہم یعنی مسلمان اپنی مذہبی اقدار ، تہذیب و تمدن اور روایات کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی بسر کر سکھیں. اب ہم زیادہ  گہرائی میں نہیں جاتے لیکن آپ کے سامنے ان حقائق کو مختصرا پیش ضرور کریں گے کہ پاکستان آزاد ہونے کے بعد بانیان پاکستان کی اولادوں کو ہمیشہ نچلے طبقے کا شہری کیوں سمجھا گیا ان پر ملازمتوں کے تعلیمی اداروں کے اور انکے دیگر حقوق کے دروازے کیوں بند کر دیے گیے. کیا انکا یہ قصور تھا کہ وہ بانیان پاکستان کی اولاد تھے اور پاکستان پر قابض 2 فیصد طبقے کو یہ ڈر تھا کہ کہیں ان لوگوں کو انکے جائز حقوق نہ دینے پڑیں اسلئے انکو اتنا کمزور کردو کہ یہ بھی اپنے جائز حقوق کیلئے بھی بول نہ سکیں. جب گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا جاتا ہے تو روشنی کی کرن ضرور  نکلتی ہے اور وہ آہستہ  آہستہ اس اندھیرے کو ختم کر دیتی ہے ایسا ہی کچھ مملکت خداداد پاکستان میں  ہوا کہ جب مظلوم ومحکوم 98  فیصد طبقے کی کوئی شناخت، کوئی پہچان نام نہیں تھا، ایسے میں ایک مرد آہن اسی مظلوم طبقے کے درمیان اٹھا اور اسنے 35 برس  کی جدوجہد کی اور اپنے مظلوم عوام کے مستقبل پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا. جیسے دنیا آج الطاف حسین کے نام سے جانتی ہے کیونکہ یہ وہ انسان ہے جس نے  98فیصد  پسے ہوے طبقے کو شناخت دی اور آج اسی رہبر و رہنما اسی قائد کی شناخت چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے.
قائد تحریک الطاف حسین وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہر طرح سے عام عوام کی خدمت کی چاہئے وہ علمی خدمت ہو یا معاشی و معاشرتی یہ الطاف حسین ہی ہیں جنہوں نے خدمت خلق کو اپنی زندگی کا فرض اولین بنایا، تعلیم کو عام کرنے میں آپکی خدمات قابل تعریف ہیں.

 الطاف حسین کو ساری دنیا ایک مدبر و رہنما کے طور پر جانتی ہے انکو اپنے شناخت کیلئے کسی کارڈ کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ عناصر وہ 2 فیصد استحصالی طبقہ جو کہ پاکستان پر قابض ہے وہ نہیں چاہتا کہ الطاف حسین پاکستان آئیں جبکہ یہ وہی  لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ الطاف حسین پاکستان کیوں نہیں آتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جناب الطاف حسین کے شناختی کارڈ کا سوچ کر ہی کئی لوگوں کے سوئچ  اڑ  گئے ہیں. کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ  محترمالطاف حسین ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو پاکستان آباد اور درخشاں  اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکتے ہیں.

حقیقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا میں کم کم ہی ایسی صفات کی حامل شخصییات نظر آتی ہیں کہ جو زندگی کو دشوار گزار سفر میں اکیلے  اپنے عزم و حوصلے اور یقین کامل  کے ساتھ قدم رکھتے ہیں لیکن انکے ہر بڑھتے قدم  کے ساتھ  ساتھ انکے چاہنے والوں کا ایک کارواں شامل ہو جاتا ہے. بلاشبہ جب ایک ایسی کرشمہ ساز شخصیت کسی  تحریک کو قائد کی صورت میں میسر آجائے تو تحریک اور کارکنان کے حوصلے بلند رہتے ہیں اور آگ و خون کے دریا عبور کرکے بھی منزل  کا حصول ممکن ہو تو  وہ کرتے ہیں یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ قائد تحریک الطاف حسین کی شکل میں ہمیں ایسی قیادت میسر آئ جس نے ہمیں جینے کا ڈھنگ سیکھایا اور حق پرستی کو ایک شمع روشن کی جس نے ہماری زندگیوں کو ایک فکر و فلسفے کو اختیار کرکے ایک عزم و حوصلہ عطا کیا

الله رب العزت کے حضور دست  دعا دراز کرتے ہیں کہ وہ ہمارے محبوب قائد کا سایہ ہمارے سروں پر تا قیامت  قائم دائم رکھے اور قافلہ حق پرستی کو منزل مقصود تک پہنچنے کی استقامت عطا فرمائے. آمین
_______________________________________________________________

صاعقہ ناز

پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

اتوار، 8 جون، 2014

قائد تحریک الطاف حسین سازش کا شکار ہو گئے

الطاف حسین کی حقیقت پسندی، عملیت پسندی اور حق پرستی نے ایم کیو ایم کے  کارکنوں کو کندن بنا دیا ہے، وہ اپنے قائد ، انکے نظریہ اور ایم کیو ایم سے بے وفائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے، یہی الطاف حسین کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور یہ انکی تربیت کا  نتیجہ ہے کہ ایم کیو ایم کراچی سے نکلی، سندھ میں پھیلی، دوسرے صوبوں میں بھی اپنا مقام بنایا، پھر دوسرے ملکوں میں بھی اپنی جڑیں مظبوط کیں اور وہ ایک بین الاقوامی تحریک بن چکی ہے، جو سیاسی اجارے داریوں کے خلاف ہے، غریب اور متوسط طبقہ کو انکے حقوق دلانا چاہتی ہے اور اس نے سیاست کو عبادت سمجھ کر اختیار کیا ہے




 متحدہ قومی موومنٹ کے قائد تحریک الطاف حسین کسی تعریف کے محتاج نہیں پوری دنیا میں یہ نام جانا پہنچنا ہے. 17 ستمبر    1953میں مولانا مفتی رمضان حسین کے برخودار نذیر حسین کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جسکا نام الطاف حسین رکھا گیا. انکے والد نذیر حسین کا 13 مارچ 1968میں انتقال ہوا اور انکی والدہ محترمہ خورشید بیگم 5 دسمبر 1985میں انتقال کر گئیں. اس  جوان نے 1969میں جیل روڈ اسکول سے میٹرک کیا اور 1980میں سٹی کالج سے B S c  میڈیکل کیا اور کراچی یونیورسٹی سے BPharmacy پھر Seven Day ہسپتال میں بطور Trainee رہئے. یونیورسٹی میں جہاں بہت سی طلباء تنظیمیں تھیں جو خاص طور پر مہاجریں طلباء کو نظر انداز کرتی تھیں اس وقت اس نوجوان کو احساس ہوا کیوں نہ اس مظلوم طبقہ کو یکجا کیا جائے اسکی خاطر اس جوان نے اپنے دوستوں کو مشوره دیا کہ 20 بیس روپے جمع کرکے ایک کتابچہ شائع کرتے ہیں اور تمام مہاجر طلباء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ان کیلئے جدوجہد کرتے ہیں.

 16 جون میں اس طلباء تنظیم کا نام APMSO رکھا گیا اور جدوجہد شروع کی اس جدوجہد کا نتیجہ میں 18 اگست میں گرفتار ہوئے اور نو ماہ تک قید کی صعوبتوں کو  برداشت کیا لیکن اس جوان کے عزم میں کمی کے بجائے پختگی پیدا ہوئی اور اپنی جدوجہد کو اپنے چند اہم ساتھیوں کے ساتھ جاری رکھا جس میں خاص طور پر ڈاکٹر فاروق ستار جیسے ساتھی آج بھی اسی لگن اور محبت سے اس جوان کا ساتھ دے رہئے ہیں.

قائد تحریک الطاف حسین نے اپنی تنظیم کو ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر چلایا اور تمام کرکنان کو  نظم و ضبط کی بہترین تعلیم دی. پاکستان کی تاریخ میں اتنی منظم کوئی سیاسی جماعت قائم نہ ہوئی. اس ایم کیو ایم کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں جسطرح پنجابی. پٹھان، سندھی، اور بلوچی لوگوں کو حقوق حاصل ہیں ویسے ہی حقوق ان لوگوں کو بھی ملنے چاہئیں جنکے والدین نے پاکستان کی محبّت میں ہندوستان سے ہجرت کی جنکی تیسری نسل اسی پاک سر زمین  پر پیدا ہوئی اور اسی زمین کو اپنا وطن قرار دیا، اپنا جینا مرنا اسی  زمین سے وابستہ رکھا اور  ایم کیو ایم کے اس مقصد میں بڑی رکاوٹیں آئیں پوری مہاجر قوم کو غدار بنانے کی کوشش کی مگر جدوجہد بڑھتی رہی یہاں تک کہ 16 جون 1992 میں اس ایم کیو ایم کے خلاف غیر ضروری   فوجی آپریشن کیا گیا. یہ آپریشن دراصل کرپٹ لوگوں کے خلاف کرنے کا اعلان ہوا تو ایم کیو ایم کے قائد نے پورا تعاون کیا کیونکہ انکی جدوجہد میں کرپشن سے پاک معاشرہ  شامل تھا. اسکی خاطر قائد تحریک الطاف حسین نے اپنی سیاسی جماعت میں لفظ مہاجر ختم کر دیا کیونکہ 1997تک پاکستان میں مہاجروں کو ایک مقام ایک باعزت شہری کے طور پر تمام دوسری قوموں نے تسلیم کرلیا تھا. یہ قائد تحریک الطاف حسین  کی زبردست کامیابی تھی اور اس کامیابی نے مہاجر قومی موومنٹ کا پہلا ہدف مہاجروں کی پہچان انکو  برابری کی بنیاد پر حقوق دینا جیسی حقیقت کو تسلیم کیا جا چکا تھا اسلئے 26 جولائی 1997میں اسکا  نام مہاجر قومی موومنٹ سے بدل کر  متحدہ  قومی موومنٹ رکھ دیا گیا جسکا مقصد یہ تھا کہ  اب یہ تحریک صرف مہاجروں کی جدوجہد نہیں بلکہ تمام مظلوم قوموں، غریبوں، مزدوروں، طلباء اور سفید پوش لوگوں کی تحریک ہو جائے گی.

اس وقت لندن میں ان پر منی لانڈرنگ کے نام پر جو ہراسمنٹ پیدا کیا گیا ہے وہ ناقابل فہم اسلئے ہے کہ منی لانڈرنگ کا  براہ راست تعلق کسی صورت پارٹی کے سربراہ سے نہیں ہوتا اور نہ ہی لندن کی گزشتہ تاریخ میں کسی منی لانڈرنگ کے مجرم کے ساتھ اس انداز کا سلوک کیا گیا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں یہ ہمارے کچھ نادانوں کا کام ہے جو قائد  تحریک الطاف حسین کی سندھ میں پھیلتی ہوئی مقبولیت کا سیاسی مقابلہ نہیں کر سکتے. اسلئے اس انداز کی سازش شروع کی جس انداز کی ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی راہ سے ہٹانے کی، کی تھی اور میں سمجھتا ہوں یہ معاملہ منی لانڈرنگ تک نہیں رہے گا اسکا رخ دہشت گردی کے الزامات اور عمران فاروق کے قتل سے جوڑا جائے گا جبکہ قائد تحریک کا ان معاملات سے دور دور تک واسطہ نہیں.

انہوں نے لندن میں رہ کر نہ وہاں کا کلچر اپنایا نہ وہاں کی سیاست کا حصہ بنے بلکہ مسلسل انہوں نے اپنی سیاسی، تاریخی و دینی معلومات میں اضافہ کیا اور اپنے عزم کو مظبوط بنایا. انکا مزاج یہ ہے کہ جو بھی انکا ہمدرد ہے انکا چاہنے والا ہے وہ کسی کو کسی مشکل میں نہیں دیکھ سکتے، وہ اپنی پارٹی کے لوگوں سے ایسی ہی محبت کرتے ہیں جیسے باپ اپنی اولاد سے، اسی وجہ سے دنیا نے دیکھا کہ جب چند دنوں پہلے انہیں گرفتار کیا گیا تو پورے پاکستان میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے انکے ساتھ  اظہار ہمدردی کیا اور کارکنوں نے جو جذبات، جوش میں  تھے انہوں نے انتہائی پرامن رہ کر اپنے جذبات کا اظہار دھرنوں  کی صورت میں کیا.

ہمیں اس  بات کا پورا یقین ہے کہ اگر قائد تحریک الطاف حسین پر سازش کے بجائے اپنے مروجہ قوانین کے ذریعہ تحقیقات کی جائے تو ہر حال میں وہ تمام الزامات سے بری الذمہ قرار پائیں  گے. حکومت برطانیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس سازش کو تلاش کیا جائے ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے ایم کیو ایم کے اس قائد جس نے برطانیہ میں کبھی کوئی قانون شکنی نہیں کی، اس پر اس انداز سے تحقیقات کرنا خود حکومت برطانیہ کو داغدار کرنا ہے. برطانیہ وہ ملک ہے  جہاں کی عدالتوں میں واقعی انصاف ملتا ہے. اگر ہماری حکومت نے اخلاقی اور قانونی معاونت کی تو یقینان بہت جلد قائد تحریک الطاف حسین تمام الزامات سے بری الذمہ قرار +پائیں گے.
 _________________________________________________________________

علامہ سید محسن کاظمی

پڑھنے کا شکریہ
اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

ہفتہ، 7 جون، 2014

عوام کی قائد سے بے پناہ محبّت اور اظہار یکجہتی


 آج ملکی اور بین الاقوامی سطح پر لاکھ قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے خلاف سازشیں ہو رہی ہوں، لیکن انکے چاہنے والے انکے ساتھ ہیں اور ان کیلئے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں اور یقینان قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائ پر جب جب کٹھن وقت آیا، قائد کے عزم و حوصلے نے اسے گزرنے پر مجبور کر دیا اور آج بھی یہ وقت گزر جائے گا اور ہمیشہ کی طرح قائد تحریک کو سر خروئی حاصل ہو گی.




 قائد تحریک الطاف حسین پاکستان کے پہلے انقلابی رہنما ہیں، جنہوں نے ملک کے غریب و متوسط طبقے میں اپنے حقوق کا احساس اور شعور پیدا کیا،  ایم کیو ایم پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت ہے، جس نے قائد تحریک کی قیادت میں پاکستان میں ایک نئے سیاسی کلچر کو متعارف کراتے ہوئے ملک کے ایوانوں تک متوسط طبقے کے حقیقی نمائندوں کو پہنچایا، قائد تحریک وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے جو کہا اس پر عمل کر دکھایا، قائد تحریک نے  بغیر حکمرانی کے دکھی اور مظلوم عوام  کی جتنی خدمت کی ہے، اسکی نظیر دنیا بھر میں نہیں ملتی، قائد تحریک خدمت کے اس مشن پر آج تک مصروف عمل ہیں

3 جون2014کو برطانیہ میں میٹرو پولٹن پولیس نے  قائد تحریک الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کیلئے گرفتار کر لیا اور پورے گھر کی تلاشی بھی لی گئی. ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین برطانیہ حکومت  کے قوانین کے مکمّل پاسداری اور احترام کرتے ہیں جسکی مثال یہ ہے  کہ جب کبھی بھی کسی بھی کیس میں پولیس نے الطاف حسین کو بلایا ہے تو قائد تحریک نے انسے مکمّل تعاون کیا ہے کیونکہ  الطاف حسین کسی فرد واحد کا نام نہیں بلکہ ایک نظریہ کا نام ہے ایک ایسا نظریہ جو انسانیت کی پہچان ہے اور اس پہچان کیلئے قائد تحریک نے 18 فروری 1991کو حقیقت پسندی و عملیت پسندی کا نظریہ دیکر انسانیت پر  ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف وہ عملی اقدامات کئے ہیں جو ظلم سے نجات کا اہم ذریعہ ہیں یہ وہ ہتھیار ہے جو ساری دنیا کے مظلوم عوام  کیلئے وہ قوت ارادی دینے والا نظریہ ہے جسکے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے ظلم و ستم کا خاتمہ عمل  میں لایا جا سکتا ہے. فلسفہ حقیقت پسندی و عملیت پسندی کے فلسفے  پر مبنی ایک نئے نظام کی ضرورت پر زور دیا جسکے مطابق دراصل ہر شے کی اچھائی و برائی، خوبی و خامی جانچنے کیلئے ایک پیمانہ ہے جسکے ذریعے ہم تصورات، پالیسیاں، کلیات و نظریات اور تمام نظام جس میں فرسودہ، جدید اور موجودہ نظام حکومت یا کسی بھی ادارے کے نظام کو جانچ سکتے ہیں جو غریب و متوسط طبقے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے لازم و ملزوم ہے

دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ظلم و جبر ہو گا وہاں الطاف حسین کا یہ دیا ہوا نظریہ مظلوم عوام کی رہنمائی کا ذریعہ بنے گا. یہی جرم ہے جو الطاف حسین  نے مظلوم عوام کی بقا و سلامتی کیلئے کیا ہے اور حق پرستی کا پیغام دیا ہے  جس سے بین الاقوامی سطح پر الطاف حسین کو جو پزیرائی حاصل ہوئی ہے اس سے خائف ہو کر دنیا بھر میں فرسودہ نظام کے حامی عناصر الطاف حسین کو اپنا  دشمن تصور کرتے ہیں اسی بات کی قائد تحریک کو ذہنی اذیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے. اربوں کھربوں روپے کا غبن کرنے والے اور دنیا بھر میں ملز، فیکٹر یز لگانے والے عناصر جنہوں نے کرپشن کرکے غریبوں کو لوٹا ہے کیا یہ کرپشن دنیا بھر کے قانونی ماہرین کی نظر میں نہیں آتی؟ بہرحال الطاف حسین کے خلاف جتنی بھی سازشیں  کر لی جایئں  بالخصوص پاکستان اور دنیا بھر کے مظلوم عوام چاہئے انکا تعلق کسی بھی رنگ و نسل سے کیوں نہ ہو وہ الطاف حسین کے نظریے کی پاسداری ہر حال میں کریں گے کیونکہ سچ آنے کیلئے  اور باطل مٹ  جانے کیلئے ہے. ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود بھی کروڑوں لوگوں کے دل الطاف حسین کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں جسکی واضح مثال نہیں بلکہ حقیقت دنیا کے سامنے عیاں ہے کیونکہ لاکھوں کے مجمع میں خطاب کرنے والا اپنی خدادا د صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والا، لاکھوں کے مجمع کو چند سیکنڈوں  میں خاموش کروادینے والا یہ عظیم رہنما جسے الله تعالی نے وہ عزت بخشی ہے جسے دنیا کی کوئی بھی طاقت  الله کے فضل و کرم سے  پامال نہیں کر سکتی.

 تحریک میں شامل افراد کا قائد سے یہی اندھا اعتماد تحریک کی بقاء کی ضامن ہے، اعتماد یقین سے پیدا ہوتا ہے یقین کا مطلب ہے کسی قسم کی  شک و ابہام کی گنجائش بالکل نہیں ہونی چاہئے. پاکستان کو آزادی تو مل گئی لیکن پاکستان کے مظلوم عوام کو آزادی نہیں ملی، پاکستان میں 66 سالوں سے قائم فرسودہ نظام کا دور دورہ رہا ہے جو آج تک جاری و ساری ہے اس فرسودہ نظام نے پاکستان کے 98 فیصد مظلوم عوام کو غلام بنا رکھا ہے یہ غلامی انگریزوں کی غلامی سے زیادہ تلخ ثابت ہوئی. اس تلخ حقیقت سے نجات کی خاطر عوام الناس کو تیار کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے. الطاف حسین کا نظریہ حقیقت پر مبنی ہے اس سے انکار چراغ  تلے اندھیرے کے متعارف ہے. پاکستان کی واحد جماعت ایم کیو ایم ہے جو غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے الطاف حسین نے جو پاکستان میں انقلاب برپا کیا ہے وہ پاکستان کے مظلوم عوام کے سامنے عیاں ہے. الطاف حسین ہر مصائب کے باوجود  اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مظلوم عوام کیلئے ہر سطح پر آواز حق بلند کرتے رہئے پاکستان میں پہلی مرتبہ غریبوں کی قیادت  میں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جو ابتدائی مراحل ہی سے  مظلوم مہاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام مظلوموں کے حقوق کی محافظ بن گئی اور اس تحریک کے قائد الطاف حسین کی صلاحتیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا . اس تحریک کا راستہ روکنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر بھی کوششیں ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوئیں.

 3 جون سے ابتک دھرنوں  کا سلسلہ ( تادم تحریر دھرنا اختتام پذیر ہو چکا ہے) پورے پاکستان میں جاری ہے اور الطاف حسین کے کروڑوں چاہنے والے اپنے قیمتی رات دن دھرنوں میں ایک کر چکے ہیں کیا یہ حق پرستی کی دلیل نہیں ہے ؟  الطاف حسین برسوں سے جلاوطنی کی زندگی  گزارنے پر مجبور ہیں لیکن اسکے باوجود ساری دنیا کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں روحانی طور پر موجود رہتے ہیں کیا یہ حق پرستی کی جیت نہیں؟  دھرنوں میں موجود نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزروگوں، خواتین عورتیں اور شیر خوار بچوں کی ایک کثیر تعداد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ الطاف حسین اس نظریے کا نام ہے جو دنیا بھر میں امن و امان کے قیام میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں. الطاف حسین وہ بین الاقوامی لیڈر ہیں جنہوں  دہشت گردی کے خاتمے کیلئے، لاقانونیت کے خاتمے کیلئے اس نظریے کو متعارف کروا کے دنیا بھر میں دہشت گردی  کے خاتمے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے جس سے عالمی امن قائم کرنے والی تنظیمیں بھی انگشت بدنداں ہیں لہذا برطانیہ حکومت کو ان تمام پہلووں پر غور و  خوض کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ الطاف حسین کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ حق پرستی کا درس دینے والے اس عظیم لیڈر کیلئے پاکستان میں بلکہ دنیا  بھر میں گومگوں کی کیفیت میں مبتلا  ہیں جنکے دل  الطاف حسین  کے ساتھ دھڑکتے  ہیں. کیونکہ حکومت برطانیہ عوامی حقوق کی علمبردار ہونے کی دعویدار ہے لہذا انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا انکی اولین ذمہ داری ہے. مظلوم عوام کے نجات دہندہ الطاف حسین کیلئے ممکن نہیں کہ وہ کسی بھی جرم کے مرتکب ہوں. برطانیہ حکومت اور انتظامیہ سے پاکستان کی عوام کی پرزور اپیل  ہے کہ الطاف حسین کو جلد از جلد رہا کیا جائے.
______________________________________________________________________

 کوثر علی صدیقی




 اگر آپ یہ آرٹیکل اوریجنل  لنک پر  پڑھنا چاہتے ہوں تو  اس لنک پر کلک کیجئے  ( قومی اخبار )
 



پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

جمعرات، 5 جون، 2014

الطاف حسین بھائی سے امتیازی سلوک کیوں؟

قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ ایک فکر کا نام ہے جسے کبھی بھی ذہنوں سے، دلوں سے مٹایا نہیں جا سکتا. الطاف بھائی کے  خلاف  اقدامات برطانوی حکومت کو قابل نفرت اورمتنازعہ بنا رہے ہیں




انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کی دعویدار برطانیہ  میں جس طرح انسانی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اس کی واضح مثال یہ ہے کہ پاکستان کے عرصے دراز سے جاگیردارانہ، وڈیرانہ نظام میں جکڑے محکوم و مظلوم عوام کو آزاد کرانے، انہیں باشعور اور با اختیار بنانے کیلئے فرسودہ روایات، رسم و رواج اور نظام سے برسرپیکار الطاف حسین کو پابند سلاسل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں. عرصہ دراز سے متحدہ قومی  موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے پیغام کو پاکستان بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے کون سا  ایسا ہتھکنڈہ ہے جو استعمال نہیں کیا گیا ملکی دشمنی  کا الزام ، دہشت گرد قرار دیکر کارکنوں کا قتل عام، ملکی و بین الاقوامی سازشوں کے ذریعے انکے اعصاب کو کمزور بنانے کیلئے ہر ہر تدبیر کو آزمایا گیا اور انکے جاں نثاروں ہزاروں کی تعداد میں قتل کئے گئے. ملکی و بین الاقوامی سازشی عناصر ہمیشہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہے ہیں

 تاریخ گواہ ہے کہ ایم کیو ایم ہمیشہ سے ہی مشکلات اور  مصائب کا سامنا کرتی نظر آئی ہے آج منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کو حراست میں لینا انہی سازشی عناصر کی سازشوں کا نتیجہ ہے جو عرصہ دراز سے ایم کیو ایم اور اسکے قائد کے خلاف نئے نئے جال بنتے رہتے ہیں بلاشبہ الطاف حسین کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں. دنیا کی تاریخ میں اس وقت بھی شاید ہی کوئی ایسی مثال ہو، ایسا قائد ہو جسکی ایک آواز، ایک اشارے پر ہزاروں لاکھوں جاں نثار اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے ہوں.

 کراچی کو ایسا لگتا ہے سانپ سونگھ گیا ہے ، ہر طرف سناٹا ہے، اندرون سندھ، پنجاب ، خیبر پختون خوا، بلوچستان پاکستان کے کونے کونے میں ایم کیو ایم کے کارکن، مرد خواتین تین دن سے بھوکے پیاسے، بچوں کے ہمراہ دھرنے دیے بیٹھے ہیں.

 الطاف حسین کوئی مجرم نہیں، انکی صحت سخت خراب ہے، پاکستان کے کئی حکمرانوں کے اربوں کھربوں بیرون ممالک میں پڑے ہیں، ملکی دولت لوٹ کر بنائے گئے کھربوں کے اثاثے ہیں انکے بارے میں تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی. برطانوی حکومت کے ارباب اختیار کو چاہئے کہ وہ الطاف حسین کو فوری طور  رہا کریں اور ایک غیر جانبدار اور آزاد کمیشن تشکیل دیں جو خود پاکستان آکر متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے قائد کی جدوجہد اور قربانیوں کا مطالبہ اور تحقیق کرے تبھی اسے پتہ چلے گا کہ ہر مذہب، مسلک، زبان اور قوم کے لوگ شامل ہیں اور عام آدمی کو حقوق دلانے کیلئے الطاف  حسین اور اسکے ساتھیوں نے کیسی لازوال قربانیاں دی ہیں. کیسے ایم کیو ایم کے قائد نے غریب اور متوسط طبقے سے پڑھے  لکھے نوجوانوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا ہے؟ کسطرح پاکستان بھر
بالخصوس اندورون سندھ اور جنوبی پاکستان کے جنگلوں دیہاتوں میں بسنے والوں کو بڑے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کے مظالم سے نجات دلائی ہے اور فرسودہ رسم و رواج اور روایات کا راستہ روکا ہے کیسے اپنے کارکنوں کی تربیت کی ہے؟ علم و ادب کا گہوارہ کہلانے والے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر  کیا کام ہوتا ہے؟ خدمت خلق فاونڈیشن کی خدمات کیا ہیں اسکا دائرہ کار کہاں تک پھیلا ہوا ہے؟ جب سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے گا اس  وقت پتہ چلے  گا کہ اور  اندازہ ہو گا کہ الطاف حسین محض ایک شخصیت  کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک فکر کا نام ہے جسے کبھی بھی ذہنوں سے، دلوں سے مٹایا نہیں جا سکتا. 

 جب انسانی حقوق کے علمبرداروں نے الطاف حسین کی حقیقت کو پالیا تو مجھے یقین ہے کہ انہیں کراچی میں ہونے والے ظلم و ستم بھی نظر آنے لگیں گے، کراچی  اور یہاں بسنے والوں کی خستہ حالی ، لاقانونیت، وحشت ناک سڑکیں، زندہ درگور بوڑھے ماں باپ کی آہوں بھری سسکیاں، کھلے سر بہنوں کے جوان بھائیوں کی لاشوں پر بین، سب دیکھ کر انہیں اندازہ ہو سکے گا کہ الطاف حسین کا جرم دراصل کیا ہے. حقیقت کو جاننے کے بعد مجھے یقین ہے کہ وہ الطاف حسین کو خراج تحسین پیش کریں گے  اور کراچی کے  حالات پر بھی تشویش کا  اظہار کریں گے اور یہاں ہونے  والے ماوراے عدالت قتل عام کی روک تھام کیلئے بھی موثر کردار ادا کر سکیں گے.

 تحریر. زبیر کلیم

پڑھنے کا شکریہ
اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں

منگل، 3 جون، 2014

کیا وہ انسان نہ تھی؟

فرزانہ سو گئی، حکمراں، نام نہاد سول سوسایٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں، سب جگ اٹھے. اب مقتولہ کو فراھمی انصاف کیلئے عدالت سجے گی، ممکن ہے ملزمان کو سزا بھی ہو جائے. اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو کیا انصاف ہو جائے گا؟




 عورت.... لطافت حساسیت اور محبت سے بڑھ کر وجود انسانیت کا سرچشمہ، جسکے وجود سے کائنات کے رنگ ہیں، مگر کیا کیا جائے کہ محبت کی اسی کمزوری کو مرد نے عورت کے استحصال کیلئے استعمال کیا اور صدیوں سے عورت مرد کے جبر کا شکار ہوتی آرہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ صدیوں پہلے یہ صنف نازک فاتحین کے محلات کے حرم آباد کرنے پر لاچار رہی، موت چاہتے ہوئے بھی شاہوں کی محفلوں میں رقص کرتی رہی اور آج بھی مرد کی انا کی بھینٹ چڑھ رہی ہے. کبھی مظفر گڑھ کی آمنہ  کی صورت میں معاشرتی بے حسی کی وجہ سے زندہ جلنے پر مجبور ہے تو کہیں " ونی " ہوکر ایک ہی رات میں نجانے کتنے مردوں کی بیوی بننے پر بے بس.

 مردوں کا یہ معاشرہ اسکے دل کی آواز تو دور کی بات چیخ و پکار سننے پر بھی آمادہ نہیں. کبھی بھائی غیرت کے نام پر اسکی جان لیکر اتراتا ہوا پولیس اسٹیشن پیش ہو جاتا ہے تو کبھی اسکو جنم دینے والا باپ معاشرتی انا کی ونی چڑھا کر برادری میں اپنا شملہ اونچا رکھنے کو ترجیح دیتا ہے. جب ماں باپ ہی اپنی لاڈلی کو سماج کی قربان گاہ میں کھینچ لائیں تو وہ کس سے فریاد کرے؟

 کہتے ہیں ریاست رعایا کی ماں ہوتی ہے، افسوس ہماری تو ریاست بھی آمنہ اور ایسی ہزاروں کی جان جانے  کے بعد اتنی سی حرکت میں آتی ہے کہ  تھانے کے اہلکاروں کو معطل کر دیا، ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کی تسلی دی اور قصہ ختم. اب انصاف کیلئے منصف کار ہی بچتا ہے جو وہی دیکھتا اور وہی سنتا ہے جو ریاست یا کالے کوٹ والے اسکو سناتے ہیں. پھر گواہوں، ثبوتوں کا دور چلتا ہے. لاچار و بے بس کے خون سے اسکے اپنوں ہی کے ہاتھ لہولہان ہوں تو اس کیلئے کون گواہی دے گا؟

 سراہ سنگسار کی جانے والی فرزانہ کو بھی اسکے ماں باپ بہن  بھائیوں نے اسی دن کیلئے جوان کیا تھا، مگر اسے پتہ نہیں کیوں اور کیسے یہ بدگمانی ہوئی کہ وہ عورت نہیں انسان ہے. نجانے اسنے اپنے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل کی آواز کیسے سن لی تھی. اسکو یہ یقین کیونکر ہو گیا کہ جس پیٹ سے اسنے جنم لیا اور جس سینے پر بیٹھ کر کھیلتے ہوئے وہ جوان ہوئی، جن بھائیوں نے اسکے ناز اٹھائے وہ اس سے زیادہ اپنے معاشرے رسم و رواج سے محبّت کرتے ہیں. جب اپنے  غیر ہوئے تو فرزانہ نے منصف سے امید باندھی. یہی امید اسکو عدالت تک لائی مگر فرزانہ کو جان دیکر پتہ چلا جن پر اسے تکیہ تھا وہ تو  خود قانون اصول اور سسٹم تھے.  اگر ایسا نہ ہوتا تو منصف کے در پر جب اسکو سنگسار کیا رہا تھا تو اسکی کوئی ایک چیخ تو منصف تک پہنچتی. قاضی تو دعوے کا محتاج  سہی، قانون کے محافظوں کو سانپ سونگھ گیا تھا کہ وہ سب پتھر ہو گئے اور انہی پتھروں سے اسکے بھائی اور باپ اسے سنگسار کرتے رہے.

فرزانہ سو گئی تو قانون، حکمراں، نام نہاد سول  سوسائتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں، سب جاگ اٹھے. اب مقتولہ کو فراہمی انصاف کیلئے  عدالت سجے گی، ممکن ہے ممکن ہے ملزمان کو  سزا بھی ہو جائے. اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو کیا  انصاف ہو جائے گا؟ فرزانہ کے باپ اور بھائیوں کو سزا اقبال کی بیوی فرزانہ کے خون کا حساب تو ہو سکتا ہے مگر بنت حوا سے انصاف ہرگز نہ ہوگا، کیونکہ قانون ملزمان کو تو گرفتار اور منصف مجرموں کو سزا تو دے سکتا ہے، لیکن کیا اسمیں اس قاتل سوچ کا کوئی قصور نہیں جو اپنی جان سے عزیز بہن بیٹی کو قتل کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ کیا یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ مجرم ہاتھوں کو سزا کے ساتھ ساتھ اس قاتل سوچ کو بھی دفن کیا جائے جو ہر سال ایک ہزار سے زائد بیگناہوں کو موت بانٹ  رہی ہے ؟ لیکن اس  سوچ کی ظلمت کے خاتمہ کیلئے تو شعور کے نور کی کی ضرورت ہو گی،جو عورت کو انسان تسلیم کرے اور اسے رشتوں کی ایسی محبت کی قید سے آزاد کروائے جو اس کی موت کی وجہ بن رہے ہیں. اس کٹھن کام کیلئے علما کو نوربصیرت کا درس دینا ہو گا، ریاست ماں بن کر بیٹی کے وجود کو تسلیم کرے اور شعور کی بیداری کا ذمہ لے، تب ہی اس قاتل سوچ کا خاتمہ ممکن ہو گا.

 (ذولفقار چودھری )    ڈیلی خبریں


پڑھنے کا شکریہ
 اپنی قیمتی آراہ سے ضرور نوازیں